قومی زبان

یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے سبز آگ مجھے

یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے سبز آگ مجھے پروں بغیر اڑاتی ہے سبز آگ مجھے میں آیتوں کی تلاوت میں محو رہتا ہوں ہر اک بلا سے بچاتی ہے سبز آگ مجھے ہر ایک شاخ پہ رکھتی ہے زرد قندیلیں پھر اس کے بعد جلاتی ہے سبز آگ مجھے میں آب سرخ میں جب خواب تک پہنچتا ہوں تو میرے سامنے لاتی ہے سبز آگ ...

مزید پڑھیے

کھنڈر یہ پھر بسانے کا ارادہ ہی نہیں تھا

کھنڈر یہ پھر بسانے کا ارادہ ہی نہیں تھا بدن میں لوٹ آنے کا ارادہ ہی نہیں تھا شکم کی آگ نے بیلوں کو ہانکنا سکھایا وگرنہ ہل چلانے کا ارادہ ہی نہیں تھا وہ اپنے بھیڑیوں کو سیر پر لایا تھا بن میں غزالوں کو ڈرانے کا ارادہ ہی نہیں تھا کہا تھا طائروں سے پیڑ کو دیمک لگی ہے کسی کو آزمانے ...

مزید پڑھیے

بلا جواز نہیں ہے فلک سے جنگ مری

بلا جواز نہیں ہے فلک سے جنگ مری اٹک گئی ہے ستارے میں اک پتنگ مری پھر ایک روز مرے پاس آ کر اس نے کہا یہ اوڑھنی ذرا قوس قزح سے رنگ مری جو کائنات کنارے سے جا کے مل جائے وہی فراغ طلب ہے زمین تنگ مری میں چیختے ہوئے صحرا میں دور تک بھاگا نہ جانے ریت کہاں لے گئی امنگ مری فنا کی سرخ ...

مزید پڑھیے

تسلسل سے گماں لکھا گیا ہے

تسلسل سے گماں لکھا گیا ہے یقیں تو ناگہاں لکھا گیا ہے مکمل ہو چکی قرأت فضا کی پرندے اور دھواں لکھا گیا ہے مرا دو پل ٹھہر کر سانس لینا سر آب رواں لکھا گیا ہے اگائے گی ستارے اب یہ مٹی زمیں پر آسماں لکھا گیا ہے کتاب غیب پڑھتا جا رہا ہوں مرا ہونا کہاں لکھا گیا ہے نہیں لکھا گیا کاغذ ...

مزید پڑھیے

کوئی سوائے بدن ہے نہ ہے ورائے بدن

کوئی سوائے بدن ہے نہ ہے ورائے بدن بدن میں گونج رہی ہے ابھی صدائے بدن عجب ہے شہر مگر شہر سے بھی لوگ عجب ادھار مانگ رہے ہیں بدن برائے بدن جہاں ٹھٹھرتی تمنا کو آگ تک نہ ملے وہاں پہ کون ٹھہرتا ہے اے سرائے بدن کہیں چمکتی ہوئی ریت بھی دکھائی نہ دی کہاں گیا وہ سمندر سراب کھائے ...

مزید پڑھیے

نئی نئی صورتیں بدن پر اجالتا ہوں

نئی نئی صورتیں بدن پر اجالتا ہوں لہو سے کیسے عجیب منظر نکالتا ہوں وہ دل میں اتریں تو ایک ہو جائیں روشنی دیں دھنک کے رنگوں کو اپنی آنکھوں میں ڈالتا ہوں زمین تلووں سے آ چمٹتی ہے آگ بن کر ہتھیلیوں پر جب آسماں کو سنبھالتا ہوں ہوا میں تھوڑا سا رنگ اترے سو اس لیے میں گلاب کی پتیاں ...

مزید پڑھیے

آگ میں جلتے ہوئے دیکھا گیا ہے

آگ میں جلتے ہوئے دیکھا گیا ہے آسماں گلتے ہوئے دیکھا گیا ہے ایک بے چہرہ مسافر رنگ اوڑھے دھند میں چلتے ہوئے دیکھا گیا ہے مٹھیاں بھر کر اسے تاریکیوں سے شکل پر ملتے ہوئے دیکھا گیا ہے گھر میں بھی ہوں اور مجھ کو دشت میں بھی دھوپ میں جلتے ہوئے دیکھا گیا ہے چودھویں کے چاند میں اس کا ...

مزید پڑھیے

ساکت ہو مگر سب کو روانی نظر آئے

ساکت ہو مگر سب کو روانی نظر آئے اس ریت کے صدقے کہ جو پانی نظر آئے میں سبز پرندے کی طرح شہر سے جاؤں پیڑوں کو مری نقل مکانی نظر آئے تالاب مرے خواب کے پانی سے بھرا ہو اور اس میں پڑا چاند کہانی نظر آئے یہ آنکھ یہ لو کتنے زماں دیکھ چکی ہے جس چیز کو دیکھوں وہ پرانی نظر آئے کیا کیا نہ ...

مزید پڑھیے

خواب کاری وہی کمخواب وہی ہے کہ نہیں

خواب کاری وہی کمخواب وہی ہے کہ نہیں شعر کا حسن ابد تاب وہی ہے کہ نہیں کیا پری کو مجھے مچھلی میں بدلنا ہوگا دیکھنے کے لیے تالاب وہی ہے کہ نہیں میں جہاں آیا تھا پیڑوں کی تلاوت کرنے سامنے قریۂ شاداب وہی ہے کہ نہیں آنکھ کو نیند میں معلوم نہیں ہو سکتا رات وہ ہے کہ نہیں خواب وہی ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کوچہ گردی میں جوانی جائے گی

کوچہ گردی میں جوانی جائے گی خاک ہو کر زندگانی جائے گی مٹ نہیں سکتا ہمارے دل کا داغ قبر میں بھی یہ نشانی جائے گی سچ ہے میری بات کا کیا اعتبار سچ کہوں گا جھوٹ جانی جائے گی حضرت دلؔ جب بڑھاپا آئے گا خیر مقدم کو جوانی جائے گی

مزید پڑھیے
صفحہ 4511 سے 6203