قومی زبان

غم ہمارا گلاب ہو جائے

غم ہمارا گلاب ہو جائے زندگی لا جواب ہو جائے یاد نے حرف حرف گھیرا ہے گر لکھوں تو کتاب ہو جائے دشمنوں کی طرف بھی جائیں گے دوستوں سے حساب ہو جائے امتحاں لے نہ بے قراری کا میرے خط کا جواب ہو جائے آپ ناحق خدا سے ڈرتے ہیں شیخ صاحب شراب ہو جائے تیرے کوچہ میں آ کے لگتا ہے جیسے مفلس ...

مزید پڑھیے

صبر کے دریا میں جب آ جائے گا

صبر کے دریا میں جب آ جائے گا دل غموں سے خود ابھرتا جائے گا ہم ہوئے برباد گر تو دیکھنا کچھ سبب تم سے بھی پوچھا جائے گا حشر کے دن بھی ہماری روح کو آپ کے کوچے میں ڈھونڈا جائے گا توڑ دے گا سب حدوں کو ایک دن بہتے پانی کو جو روکا جائے گا آج کے پل کیوں بگاڑیں فکر میں کل جو ہوگا کل ہی ...

مزید پڑھیے

کبھی آنسو کبھی خوابوں کے دھارے ٹوٹ جاتے ہیں

کبھی آنسو کبھی خوابوں کے دھارے ٹوٹ جاتے ہیں ذرا سی آنکھ میں کیا کیا نظارے ٹوٹ جاتے ہیں ہوا بھی آج کل رکھتی ہے تیور پتھروں جیسے یہاں تو سوچ سے پہلے اشارہ ٹوٹ جاتے ہیں ہمیں تنہائیوں میں یوں صدائیں کون دیتا ہے سمندر کانپ اٹھتا ہے کنارے ٹوٹ جاتے ہیں پس دیوار چھپ جاتے ہیں جو طوفان ...

مزید پڑھیے

کیا کسی کی طلب نہیں ہوتی

کیا کسی کی طلب نہیں ہوتی شاعری بے سبب نہیں ہوتی جانے کس دھن میں بھاگے جاتے ہیں جستجو جی میں کب نہیں ہوتی با ادب دشمنی کو کیا روئیں دوستی با ادب نہیں ہوتی چاند اس وقت بھی تو ہوتا ہے جب کسی گھر میں شب نہیں ہوتی ہم نے دنیا میں کیا نہیں دیکھا حشر کی فکر اب نہیں ہوتی میکدے میں بھی ...

مزید پڑھیے

آئنہ سے کب تلک تم اپنا دل بہلاؤ گے

آئنہ سے کب تلک تم اپنا دل بہلاؤ گے چھائیں گے جب جب اندھیرے خود کو تنہا پاؤ گے آرزو ارمان خواہش جستجو وعدے وفا دل لگا کر تم زمانہ بھر کے دھوکہ کھاؤ گے ہر حسیں منظر سے یارو فاصلہ قائم رکھو چاند گر دھرتی پہ اترا دیکھ کر ڈر جاؤ گے زندگی کے چند لمحہ خود کی خاطر بھی رکھو بھیڑ میں ہر ...

مزید پڑھیے

ابھی ادھورے ہیں گیت میرے ابھی ادھوری سی داستاں ہے

ابھی ادھورے ہیں گیت میرے ابھی ادھوری سی داستاں ہے نہ چاند نکلا نہ تارے دمکے نہ مسکراتی وہ کہکشاں ہے ابھی تو ہونٹوں پہ آہ سی ہے بجھی بجھی کچھ نگاہ سی ہے ابھی تو ہر سو خموشیاں ہیں ابھی تو ہر سو دھواں دھواں ہے ابھی تو راہوں میں پیچ و خم ہیں کہ حادثے بھی قدم قدم ہیں ابھی تو باقی کئی ...

مزید پڑھیے

دیے ماٹی کے نہیں دل کے جلا کرتے تھے

دیے ماٹی کے نہیں دل کے جلا کرتے تھے کبھی اس ملک میں انساں بھی رہا کرتے تھے اب تو ڈستے ہوئے سناٹے ہیں بس دور تلک گوشے گوشے میں جہاں جشن ہوا کرتے تھے بے سہاروں کی قطاروں میں انہیں دیکھا ہے کبھی جو ہاتھ ستاروں کو چھوا کرتے تھے یہ اجنتا یہ حسیں تاج خبر دیتا ہے پتھروں میں بھی یہاں ...

مزید پڑھیے

لڑکھڑاتے قدم ہیں اور میں ہوں

لڑکھڑاتے قدم ہیں اور میں ہوں بس ستم پر ستم ہیں اور میں ہوں دل کی محفل میں اب رکھا کیا ہے رقص پیہم الم ہیں اور میں ہوں دیر و کعبہ تمہیں مبارک ہو ان کے نقش قدم ہیں اور میں ہوں کتنی صدیاں گزر گئیں لیکن وہی ظلم و ستم ہیں اور میں ہوں اک ترا درد ہی نہیں تنہا ایسے کتنے ہی غم ہیں اور میں ...

مزید پڑھیے

یاروں کی یاریاں ہیں سلامت تو مرحبا

یاروں کی یاریاں ہیں سلامت تو مرحبا ہوتی رہے جو روز قیامت تو مرحبا ہم کو جہان بھر کے الم بھی چلو قبول بس آپ کی رہے جو عنایت تو مرحبا ویسے مجھے یقین ہے پھر بھی مرے اے دوست تیرا بھی گر خدا ہے محبت تو مرحبا دیوانہ کر گئی ہیں تری مسکراہٹیں یہ بھی اگر ہے تیری شرارت تو مرحبا نازک لبی ...

مزید پڑھیے

مجھ کو خاموشیٔ حالات سے ڈر لگتا ہے

مجھ کو خاموشیٔ حالات سے ڈر لگتا ہے یہ مجھے دور سیاست کا اثر لگتا ہے بے عمل میں تھا مگر رب نے مجھے بخش دیا یہ مری ماں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے جب سے وہ دور ہوا ہے مری ان آنکھوں سے دل مرا دل نہیں اجڑا سا نگر لگتا ہے جب سے دیکھا ہے تجھے کھویا ہوا رہتا ہوں یہ تری شوخ نگاہوں کا اثر لگتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4466 سے 6203