قومی زبان

مجاز ،سوڈا اور شراب

مجاز ایک شام دیوان سنگھ مفتون سے ملنے کے لیے گےو تو انہوں نے فوراً ملازم سے چار درجن سوڈے کی بوتلیں لانے کے لئے کہا۔ ملازم چار درجن سوڈے کی بوتلیں لے آیا تو مجازنے پوچھا: ’’بھئی ہم تو صرف دو آدمی ہیں ، پھر اتنا سوڈا کس لیے ؟ ‘‘ اس پر مفتونؔ نے جواب دیا : ’’دیکھتے جاؤ۔‘‘ اور ...

مزید پڑھیے

سور کا شکار

دہلی کا واقعہ ہے ۔ ایک روز سرشام ایک ریاست کے وزیر اعظم جوشؔ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دیوان سنگھ مفتون آگئے ۔ انہیں دیکھتے ہی وزیر اعظم صاحب کا رنگ فق ہوگیا اور جب گلاس بھر کر جوش صاحب نے ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے دیوان سنگھ کی جانب اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نہیں پیوں گا۔ دیوان ...

مزید پڑھیے

ایک صراحی ، چھ گلاس اور مولانا صاحب

سردار دیوان سنگھ مفتونؔ ایڈیٹر’’ریاست‘‘ کو کسی ریاست کے مہاراجہ نے صراحی اورچھ گلاس کا وہسکی سیٹ تحفے میں بھجوایا۔ اس پر جو نقاشی کی گئی تھی وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ۔ مفتون صاحب نے ایک دن تھری اسٹار برانڈی کی بوتل منگائی ، اس صراحی میں ڈال کر ابھی آدھا پیگ ہی انڈیلا تھا ...

مزید پڑھیے

خنجر کو خنجر کہنا ہے

خنجر کو خنجر کہنا ہے ایسا اب اکثر کہنا ہے سہمے سہمے ڈرے ہوئے ہو ڈر کو بھی اب ڈر کہنا ہے شیشوں کے اس شہر میں آ کر پتھر کو پتھر کہنا ہے کھیتوں میں ہل لے کر نکلو بنجر کو بنجر کہنا ہے جنگل میں تم سب کو جا کر بندر کو بندر کہنا ہے سردی کے ہی موسم میں تو بے گھر کو بے گھر کہنا ہے عجب ...

مزید پڑھیے

دیواروں سے کان لگا کر بیٹھے ہو

دیواروں سے کان لگا کر بیٹھے ہو پہرے پر دربان لگا کر بیٹھے ہو اس سے زیادہ کیا بیچو گے دنیا کو سارا تو سامان لگا کر بیٹھے ہو دکھ میں ڈوبی آوازیں نہ سن پائے ایسا بھی کیا دھیان لگا کر بیٹھے ہو بیچ رہا ہوں میں تو اپنے کچھ سپنے تم تو سنویدھان لگا کر بیٹھے ہو ہم نے تو گن ڈالے ہیں ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

آگ لگ جائے گی اک دن مری سرشاری کو

آگ لگ جائے گی اک دن مری سرشاری کو میں جو دیتا ہوں ہوا روح کی چنگاری کو ورنہ یہ لوگ کہاں اپنی حدوں میں رہتے میں نے معقول کیا حاشیہ برداری کو یہ پرندے ہیں کہ درویش ہیں زندانوں کے کچھ سمجھتے ہی نہیں امر گرفتاری کو اب ہمیں زندگی کرنے میں سہولت دی جائے کھینچ لائے ہیں یہاں تک تو گراں ...

مزید پڑھیے

خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں

خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں یہ کس ہوا سے ہمارے چراغ جلتے ہیں جہاں اترتا ہے وہ ماہتاب پانی میں وہیں کنارے کنارے چراغ جلتے ہیں تمام روشنی سورج سے مستعار نہیں کہیں کہیں تو ہمارے چراغ جلتے ہیں تمہارا عکس ہے یا آفتاب کا پرتو یہ خال و خد ہیں کہ پیارے چراغ جلتے ہیں عجیب رات ...

مزید پڑھیے

ہوا نے اسم کچھ ایسا پڑھا تھا

ہوا نے اسم کچھ ایسا پڑھا تھا دیا دیوار پر چلنے لگا تھا میں سحر خواب سے اٹھا تو دیکھا کوئی کھڑکی میں سورج رکھ گیا تھا کھڑا تھا منتظر دہلیز پر میں مجھے اک سایہ ملنے آ رہا تھا ترے آنے سے یہ عقدہ کھلا ہے میں اپنے آپ میں رکھا ہوا تھا سبھی لفظوں سے تصویریں بنائیں مری پوروں میں منظر ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے

آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے عکس کو آئنہ خانے سے الگ رکھا ہے گھر میں گلدان سجائے ہیں تری آمد پر اور اک پھول بہانے سے الگ رکھا ہے کچھ ہوا میں بھی چلانے کے لئے رکھا جائے اس لیے تیر نشانے سے الگ رکھا ہے اس کے ہونٹوں کو نہیں آنکھ کو دی ہے ترجیح پیاس کو پیاس بجھانے سے الگ رکھا ...

مزید پڑھیے

میں سرخ پھول کو چھو کر پلٹنے والا تھا

میں سرخ پھول کو چھو کر پلٹنے والا تھا وہ جذب تھا کہ مرا جسم کٹنے والا تھا اس ایک رنگ سے پیدا ہوئی یہ قوس قزح وہ ایک رنگ جو منظر سے ہٹنے والا تھا مرے قریب ہی اک طاق میں کتابیں تھیں مگر یہ دھیان کہیں اور بٹنے والا تھا عجیب شان سے اتری تھی دھوپ خواہش کی میں اپنے سائے سے جیسے لپٹنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4447 سے 6203