قومی زبان

پھر اندھیروں نے راستے روکے

پھر اندھیروں نے راستے روکے پھر نئے خضر ہیں نئے دھوکے غم کے ماروں کی سادگی دیکھو مانگتے ہیں یہ ہر خوشی رو کے ہم کہ جویائے عالم نو تھے گھر کو لوٹے کہاں کہاں ہو کے ہم سے مت پوچھ صبح کب ہوگی ہم نے صدیاں گنوائی ہیں سو کے جز اجل کوئی تو صلہ ملتا زندگی تیرے بوجھ کو ڈھو کے زہر زنداں ...

مزید پڑھیے

ہوئی دستک کوئی آیا نہیں کوئی نہیں ہے

ہوئی دستک کوئی آیا نہیں کوئی نہیں ہے ہمیں اب پوچھنے والا کہیں کوئی نہیں ہے بہت آباد ہیں یہ بے در و دیوار سے گھر محل ایسے بھی ہیں جن میں کمیں کوئی نہیں ہے جھجکتے ہیں اشاروں سے بھی دل کی بات کرتے کہ شیشہ گھر میں رازوں کا امیں کوئی نہیں ہے اب اک اندھے کنوئیں میں گرتے جانا زندگی ...

مزید پڑھیے

اب تو بوسیدہ ہو چلے ہیں ہم

اب تو بوسیدہ ہو چلے ہیں ہم ٹوٹنے پھوٹنے لگے ہیں ہم زخم دل کی کسک چھپانے کو جسم پر گھاؤ چاہتے ہیں ہم اب نہیں فکر سود رنج زیاں خوار ہونا تھا ہو چکے ہیں ہم اب سبھی کچھ ہمیں گوارا ہے ہائے کتنے بدل گئے ہیں ہم ہم سے دامن بچا کے چلتی ہے اے صبا تجھ کو جانتے ہیں ہم راہبر کے بغیر ہی ...

مزید پڑھیے

ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤ

ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤ پڑا ہر سیل کا ہم پر دباؤ ملے ہیں سادہ لوحی کی سزا میں لٹیرے ناخدا کاغذ کی ناؤ وہاں بھی وحشتیں تنہائیاں ہیں ذرا صحرا سے واپس گھر تو جاؤ نہ جانے کب یہ آگ آ جائے باہر کہ سینوں میں دہکتے ہیں الاؤ ہوا کا جس طرف رخ ہو گیا ہے اسی جانب ہے شاخوں کا جھکاؤ زمیں ...

مزید پڑھیے

میں حیران تھا منظر کی حیرانی پر

میں حیران تھا منظر کی حیرانی پر پھول کھلے تھے بہتے ہوئے جب پانی پر میرے کپڑے دیکھ کے مٹی بول پڑی گھاس اگاؤ میری بھی عریانی پر میں نے تیرا نام لکھا جب تاروں پر چاند ہنسا تھا میری اس نادانی پر یاد کرو جس رات اکٹھے بیٹھے تھے گھنٹوں بات چلی تھی رات کی رانی پر دیکھے ہیں کچھ دیکھے ...

مزید پڑھیے

کب وہ تنہائی کے آثار سے گھبرائے ہیں

کب وہ تنہائی کے آثار سے گھبرائے ہیں لوگ تو رونق بازار سے گھبرائے ہیں کون کرتا ہے بھلا آبلہ پائی کا گلا ہم تو بس رستوں کی رفتار سے گھبرائے ہیں اپنے قامت سے نکلنا پڑا باہر ان کو جو شجر سایۂ دیوار سے گھبرائے ہیں لوگ قیمت تو لگائیں گے یہ بازار تو ہے بے وجہ ہم تو خریدار سے گھبرائے ...

مزید پڑھیے

اجالے ملتے بھلا کیسے رات کاٹنے سے

اجالے ملتے بھلا کیسے رات کاٹنے سے کہ تیرگی نہیں گھٹتی چراغ بانٹنے سے فضا میں اڑتے پرندے بھی سمت بھول گئے ہوا میں گرہیں پڑیں ایسی پیڑ کاٹنے سے میں جانتا ہوں بیاباں کے بھید بھاؤ مگر خزاں کی دھوپ نکھرتی ہے پھول چاٹنے سے یہ سوچ کر میں کبھی دل کو رد نہیں کرتا بگڑ ہی جائے نہ یہ بچہ ...

مزید پڑھیے

ایسی ہی زمیں بنا رہا تھا

ایسی ہی زمیں بنا رہا تھا پر اور کہیں بنا رہا تھا اس بت نے جہاں بنایا تھا بت میں برسوں وہیں بنا رہا تھا میں رات بنا رہا تھا لیکن تاریک نہیں بنا رہا تھا سورج تو بنا رہا تھا رخسار مہتاب جبیں بنا رہا تھا ان آنکھوں کو چومتا ہوا میں کچھ اور حسیں بنا رہا تھا افسوس وہ بن نہیں سکا ...

مزید پڑھیے

چمکتے سورج اچھالتے تھے کہاں گئے وہ

چمکتے سورج اچھالتے تھے کہاں گئے وہ جو شامیں صبحوں میں ڈھالتے تھے کہاں گئے وہ بدن میں لرزش کہ دن ڈھلا جا رہا ہے پھر سے جو دن سے گردش نکالتے تھے کہاں گئے وہ ابھی تو ہاتھوں میں حدتیں ان کے ہاتھ کی ہیں ابھی تو ہم کو سنبھالتے تھے کہاں گئے وہ اتارتے تھے غبار لیل و نہار رخ سے اور آئنوں ...

مزید پڑھیے

آ گیا ایثار میرے حلقۂ احباب میں

آ گیا ایثار میرے حلقۂ احباب میں پھر کسی شعلے نے پائی ہے نمو برفاب میں کہہ رہی ہے ساحلوں سے ڈوبنے والے کی لاش میں نے پایا ہے سکوں اک مضطرب گرداب میں کانپ اٹھا ہوں ورود بارش موعودہ پر غرق ہونے کو ہے سارا شہر سیل آب میں میرے ہاتھوں میں اگر تقدیر صبح و شام ہو تتلیاں تعبیر کی رکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4432 سے 6203