پھر اندھیروں نے راستے روکے
پھر اندھیروں نے راستے روکے پھر نئے خضر ہیں نئے دھوکے غم کے ماروں کی سادگی دیکھو مانگتے ہیں یہ ہر خوشی رو کے ہم کہ جویائے عالم نو تھے گھر کو لوٹے کہاں کہاں ہو کے ہم سے مت پوچھ صبح کب ہوگی ہم نے صدیاں گنوائی ہیں سو کے جز اجل کوئی تو صلہ ملتا زندگی تیرے بوجھ کو ڈھو کے زہر زنداں ...