قومی زبان

پھولوں سے ہوگی دھول جدا دیکھتے رہو

پھولوں سے ہوگی دھول جدا دیکھتے رہو منظر نکھار دے گی ہوا دیکھتے رہو لائے گی رنگ لغزش پا دیکھتے رہو منزل بھی دے گی اپنا پتا دیکھتے رہو ہاں بزم میں کسی کے گریبان گوش تک پہنچے گا میرا دست صدا دیکھتے رہو نیندوں میں کھو کے سیپیاں خوابوں کی دوستو چننے کو ہے یہ دیدۂ وا دیکھتے رہو کب ...

مزید پڑھیے

صدائے عہد وفا کو زوال کیوں آیا

صدائے عہد وفا کو زوال کیوں آیا لب سکوت پہ حرف سوال کیوں آیا کسے خبر کہ چمن میں خزاں کی آمد پر غرور‌ شعلۂ گل کو جلال کیوں آیا بجھا رہا تھا میں اپنے وجود کا خورشید تری نگاہ میں رنگ ملال کیوں آیا شب فراق نے دیکھی نہ تھی مری صورت شب فراق کو میرا خیال کیوں آیا چبھن ہے ذہن میں آصفؔ ...

مزید پڑھیے

ہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنے

ہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنے حیران ہو رہی ہے مجھے پا کے سامنے ذرے نے آج اپنی حقیقت کو پا لیا ذرہ نہ سرنگوں ہوا صحرا کے سامنے اکسا رہی ہے کوئی خلش دیر سے مجھے رکھ دل سا پھول خار تمنا کے سامنے خلوت میں کر رہا تھا گناہوں کا اعتراف ہونٹوں کو وا نہ کر سکا دنیا کے سامنے آصفؔ ...

مزید پڑھیے

کئے ہیں مجھ پہ جو احساں جتا نہیں سکتا

کئے ہیں مجھ پہ جو احساں جتا نہیں سکتا وہ شخص تو مرا دل بھی دکھا نہیں سکتا چھپا ہوا ہوں تہ سنگ ایک مدت سے ہوا کا جھونکا مری سمت آ نہیں سکتا پرے ہے آج بھی وہ سرحد تصور سے میں اس کو پوج تو سکتا ہوں پا نہیں سکتا دکھا رہا ہے وہی موج موج عکس مجھے وہ تیرا عکس جسے میں بنا نہیں سکتا میں ...

مزید پڑھیے

نوید یوم بہاراں خزاں سے ظاہر ہو

نوید یوم بہاراں خزاں سے ظاہر ہو مثال صوت پریشاں فغاں سے ظاہر ہو تجھے گماں ہے اگر خود پہ لفظ روشن کا ردائے شبنم عجز بیاں سے ظاہر ہو چمک اٹھے مری آنکھوں میں اشک کی صورت جو آگ دل میں ہے روشن زباں سے ظاہر ہو کسی بھی سمت سے ابھرے ستارۂ آواز نہیں یہ قید کہ وہ آسماں سے ظاہر ہو وہ ...

مزید پڑھیے

روشنی کو تیرگی کا قہر بن کر لے گیا

روشنی کو تیرگی کا قہر بن کر لے گیا آنکھ میں محفوظ تھے جتنے بھی منظر لے گیا اجنبی سا لگ رہا ہوں آج اپنے آپ کو آئنے کے سامنے میں کس کا پیکر لے گیا کیوں نظر آتی نہیں اب کاٹی سطح آب پر کھینچ کر ندی کے سر سے کون چادر لے گیا پھر ہوئی آمادۂ پیکار پیڑوں سے ہوا پھر کوئی جھونکا کئی پتے اڑا ...

مزید پڑھیے

کس دل سے ہم ارادۂ ترک جنوں کریں

کس دل سے ہم ارادۂ ترک جنوں کریں ممکن نہیں کہ خواہش صحرا کا خوں کریں کچھ گفتگو ہو آج عروس بہار سے کچھ ہم خزاں رسیدہ بھی حاصل سکوں کریں ہاں بے کناریوں سے کریں آشنا اسے ہاں درد انتظار کو کچھ تو فزوں کریں منزل کا جس سے مل نہ سکے تا ابد سراغ وہ راہ اختیار بتاؤ تو کیوں کریں دیں آرزو ...

مزید پڑھیے

ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوں

ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوں میں اپنی خاک میں پنہاں تجھے بھی گر دیکھوں یہ کیا کہ ہات بڑھاؤں تو سنگ ریزے ملیں کہیں تو میں بھی دمکتے ہوئے گہر دیکھوں ہو آنکھ میں کسی چہرے کا ڈوبتا منظر میں پانیوں میں مقید کسی کا گھر دیکھوں تمام عمر اسی سائے کی تلاش کروں کہ جس کو دیکھنا ...

مزید پڑھیے

زندہ رکھنی ہے مجھے عجز کے معیار کی دھن

زندہ رکھنی ہے مجھے عجز کے معیار کی دھن ایک سندیسہ ہے یہ حکم سے انکار کی دھن تو پلٹ آ کہ تجھے میری ضرورت پڑے گی تجھ کو زندہ نہیں چھوڑے گی یہ بیکار کی دھن دوست منصور سے ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی حق کی آواز پہ ڈٹ جاتے ہوئے دار کی دھن آپ آتے ہیں چلے جاتے ہیں ملتے ہی نہیں دل میں رہ جاتی ہے ...

مزید پڑھیے

لوٹ آئے گا دیکھنا مرے دوست

لوٹ آئے گا دیکھنا مرے دوست جگمگائے گا راستہ مرے دوست حضرت داغؔ کے میں سائے میں ہوں حضرت جون ایلیاؔ مرے دوست کچھ گنہ گار بھی ہیں یار مرے اور ہیں چند پارسا مرے دوست میں تجھے چھوڑ کر نہ جاتا مگر آڑے آئی مری انا مرے دوست میں مرا کمرہ میری وحشت تو خامشی شور اک خلا مرے دوست کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4433 سے 6203