قومی زبان

درد دل میں مقیم کس کا ہے

درد دل میں مقیم کس کا ہے کام یہ ہے عظیم کس کا ہے دین و مذہب بجا سہی لیکن رونے والا یتیم کس کا ہے خون دیوار کی کتابوں پر حسن نقش قدیم کس کا ہے فیصلہ ہو چکا مریضوں کا منتظر اب حکیم کس کا ہے بانٹ دو گر ہوا تو ہم سمجھیں رام کس کا رحیم کس کا ہے

مزید پڑھیے

بتا منزل شوق کیا ہو گیا

بتا منزل شوق کیا ہو گیا مری کوششوں کا صلہ کھو گیا حوادث کی آندھی ہے زوروں پہ آج مرا راہبر آج کیوں سو گیا نہ پند و نصیحت نہ ذوق عمل یہ شیخ و برہمن کو کیا ہو گیا چمن سے گزرتی ہے منہ پھیر کر صبا کی اداؤں کو کیا ہو گیا تری دل نوازی کی کیا دے گا داد پلٹ کر وہ آیا نہیں جو گیا

مزید پڑھیے

کہنے لگا کھلتے ہوئے دروازہ ہوا سے

کہنے لگا کھلتے ہوئے دروازہ ہوا سے یہ پہلا تعارف ہے مرا تازہ ہوا سے پھر چوم گئیں پھول کے رخسار ہوائیں پھر پھول کے چہرے پہ لگا غازہ ہوا سے خوشبو کا سراپا ہے کہ پھولوں کی ہے ترکیب وہ آئے تو ہو جاتا ہے اندازہ ہوا سے رکھتے ہیں منڈیروں پہ دئے اپنے جلا کر ہم نے کبھی پوچھا نہیں خمیازہ ...

مزید پڑھیے

مشورے پر نہ کہیں دھوپ کے چلنے لگ جائیں

مشورے پر نہ کہیں دھوپ کے چلنے لگ جائیں آدمی موم بنیں اور پگھلنے لگ جائیں جیسے ماحول بدل دیتی ہے مسکان تری پیرہن دیکھ کے موسم نہ بدلنے لگ جائیں اس قدر بغض دلوں میں ہے کہ معلوم نہیں لوگ کب کس کے لیے زہر اگلنے لگ جائیں دیکھ کر رونق بازار میں بچوں کا صبر اب یہ خطرہ ہے کھلونے نہ ...

مزید پڑھیے

پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے

پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے کاہے کی بلندی جہاں گہرائی نہیں ہے اب کوئی وہاں اس لیے ہوتا نہیں رسوا کوچے میں ترے کوئی تماشائی نہیں ہے حضرت جو رواداری نظر آپ میں آئی کیوں آپ کے بچوں میں نظر آئی نہیں ہے دنیا نے تو اس میں بھی کئی نقص نکالے تصویر جو میں نے ابھی بنوائی نہیں ...

مزید پڑھیے

بیٹھ کر ایک ڈال پر فی الحال

بیٹھ کر ایک ڈال پر فی الحال اے پرندے نکال پر فی الحال بات دیکھیں کہاں پہنچتی ہے زور ہے حال چال پر فی الحال دکھ سمجھنا پڑے گا بچے کا پہلا آنسو ہے گال پر فی الحال فکر نان جویں کا غلبہ ہے اپنے ہر اک خیال پر فی الحال ڈھل گیا ہے عروج کا موسم ہے بلندی زوال پر فی الحال اس کی انمول ...

مزید پڑھیے

سیدھے سادھے لوگ تھے پہلے گھر بھی سادہ ہوتا تھا

سیدھے سادھے لوگ تھے پہلے گھر بھی سادہ ہوتا تھا کمرے کم ہوتے تھے اور دالان کشادہ ہوتا تھا دیکھ کے وہ گھر گاؤں والے سوگ منایا کرتے تھے صحن میں جو دیوار اٹھا کر آدھا آدھا ہوتا تھا مستقبل اور حال کے آزاروں کے ساتھ نمٹنے کو چوپالوں میں ماضی کی یادوں کا اعادہ ہوتا تھا دکھ چاہے جس کا ...

مزید پڑھیے

یوں سمایا ہے کہ اب سر سے نکلنے کا نہیں

یوں سمایا ہے کہ اب سر سے نکلنے کا نہیں میں جو چاہوں بھی تو اک ڈر سے نکلنے کا نہیں میں نے جو خوف پرویا تھا رگوں میں اپنی ایسا بیٹھا ہے کہ اندر سے نکلنے کا نہیں بعد کوشش کے نتیجہ یہ نکالا میں نے زندگی میں ترے چکر سے نکلنے کا نہیں کھینچ لاتے ہیں حقیقت میں حوادث ورنہ آدمی خواب کے ...

مزید پڑھیے

چپ

تو نے سرد ہواؤں کی زباں سیکھی ہے تیرے ٹھنڈے لمس سے دھڑکنیں یخ بستہ ہوئیں اور میں چپ ہوں میں نے وقت صبح چڑیوں کی سریلی چہچہاہٹ کو سنا ہے اور میرے ذہن کے ساگر میں نغمے بلبلے بن کر اٹھے ہیں تیرے کڑوے بول سے ہر سو ہیں آوازوں کے لاشے اور میں چپ ہوں میں نے وہ معصوم پیارے گل بدن دیکھے ...

مزید پڑھیے

باپ

وہ ایک پل تھا مرے اور اجداد کے زمانوں کا نقطۂ اتصال اس کی گزر گاہوں سے روایتوں اور حکایتوں کے ہزارہا قافلے نکل کر نئے زمانے کی یورشوں سے مری بکھرتی انا میں الفت یقین اور اعتماد کے رنگ بھر گئے ہیں وہ ایک پل آج ٹوٹ کر گہری گھاٹیوں میں گرا ہے اب میں کھڑا ہوں ان گہری گھاٹیوں پر میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4412 سے 6203