ندی ندی رن پڑتے ہیں جب سے ناؤ اتاری ہے
ندی ندی رن پڑتے ہیں جب سے ناؤ اتاری ہے طوفانوں کے کس بل دیکھے اب ملاح کی باری ہے نیند رگوں میں دوڑ رہی ہے پور پور بیداری ہے جسم بہت حساس ہے لیکن دل جذبات سے عاری ہے آوازوں کے پیکر زخمی لفظوں کے بت لہولہان کرتے ہیں اظہار تفنن کہتے ہیں فن کاری ہے منزل منزل پاؤں جما کر ہم بھی چلے ...