قومی زبان

ندی ندی رن پڑتے ہیں جب سے ناؤ اتاری ہے

ندی ندی رن پڑتے ہیں جب سے ناؤ اتاری ہے طوفانوں کے کس بل دیکھے اب ملاح کی باری ہے نیند رگوں میں دوڑ رہی ہے پور پور بیداری ہے جسم بہت حساس ہے لیکن دل جذبات سے عاری ہے آوازوں کے پیکر زخمی لفظوں کے بت لہولہان کرتے ہیں اظہار تفنن کہتے ہیں فن کاری ہے منزل منزل پاؤں جما کر ہم بھی چلے ...

مزید پڑھیے

دو گھڑی سائے میں جلنے کی اذیت اور ہے

دو گھڑی سائے میں جلنے کی اذیت اور ہے راستے میں ایک دیوار شرافت اور ہے اب بہت دوری نہیں وعدوں کی منزل آ چلی دو قدم بس موڑ تک چلنے کی زحمت اور ہے دامنوں پر ڈھونڈیئے اب کیوں چراغوں کا لہو ہم نہ کہتے تھے ہوا خواہوں کی نیت اور ہے پھر بصارت کا تعاقب پھر اجالے کا سفر ڈھل چکی ہے رات پل ...

مزید پڑھیے

لہو نے کیا ترے خنجر کو دل کشی دی ہے

لہو نے کیا ترے خنجر کو دل کشی دی ہے کہ ہم نے زخم بھی کھائے ہیں داد بھی دی ہے لباس چھین لیا ہے برہنگی دی ہے مگر مذاق تو دیکھو کہ آنکھ بھی دی ہے ہماری بات پہ کس کو یقین آئے گا خزاں میں ہم نے بشارت بہار کی دی ہے دھرا ہی کیا تھا ترے شہر بے ضمیر کے پاس مرے شعور نے خیرات آگہی دی ہے حیات ...

مزید پڑھیے

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے بے نام ہوں بے ننگ ہوں ظاہر تو ہے تم پر گر ربط نہیں دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے خوشبو کی طرح پھول کی اٹھوں گا چمن سے تم پھول کو زلفوں سے گرا کیوں نہیں دیتے پہنچوں گا کشاکش میں جہاں تم نے بلایا تم حشر کے میداں ...

مزید پڑھیے

غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوں

غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوں بے چینیٔ ارباب وطن دیکھ رہا ہوں بگڑا ہوا دنیا کا چلن دیکھ رہا ہوں لپٹا ہوا شعلوں میں وطن دیکھ رہا ہوں کس فلسفۂ زیست کو سینے سے لگاؤں ہر لاش کو بے گور و کفن دیکھ رہا ہوں اب بار ہے احساس مسرت رگ جاں پر دیکھے نہیں جو رنج و محن دیکھ رہا ...

مزید پڑھیے

تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہے

تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہے بزم خواب محبت سجاتے رہے چلتے چلتے ملے کتنے دشت جنوں گیت الفت کے ہم تو سناتے رہے خود تو جہد و عمل سے گریزاں رہے نقش قسمت مگر وہ بتاتے رہے یوں تو تاریک تھی اپنی راہ سفر خون دل سے دیے ہم جلاتے رہے ریگزاروں میں حسن وفا کا صلہ یار یاروں سے نظریں چراتے ...

مزید پڑھیے

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے بے نام ہوں بے ننگ ہوں ظاہر تو ہے تم پر گر ربط نہیں دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے خوشبو کی طرح پھول کی اٹھوں گا چمن سے تو پھول کو زلفوں سے گرا کیوں نہیں دیتے پہنچوں گا کشاکش میں جہاں تم نے بلایا تم حشر کے میداں ...

مزید پڑھیے

زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہے

زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہے آرزو حسن زمیں کی گوشۂ غافل میں ہے ڈھونڈھتا ہے تو جسے وہ جستجو میری بھی ہے مقصد اہل نظر تو ایک ہی منزل میں ہے بندش کون و مکاں پرواز میں حائل نہیں حاصل جہد‌ و عمل تو جذبۂ کامل میں ہے ظلم کی تاریکیوں کو جنبش لب سیل نور بول کہ ہے وقت تیرا جو ...

مزید پڑھیے

زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات

زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات یہ کام ہمیں کر کے دکھاؤ تو بنے بات کیوں بحر تمنا میں نہیں کوئی بھی ہلچل طوفان کوئی اس میں جگاؤ تو بنے بات جینے کے لئے ان کا تصور بھی بہت ہے بے آس ہمیں جی کے بتاؤ تو بنے بات جلنے کو تو یوں خون بھی جل جائے گا لیکن پانی میں ذرا آگ لگاؤ تو بنے ...

مزید پڑھیے

جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور

جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور غیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اور احساس کی پلکوں میں تری یاد کا پرتو غمگین بنا دیتا ہے محفل کا سماں اور گزرے ہوئے حالات سے بنتی ہے کہانی گرتے ہوئے تاروں سے منور ہے مکاں اور مجھ کو نہ بتا زیست کے امکان بہت ہیں مٹی میں نمی ہو تو ابھرتے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4411 سے 6203