مرحبا دیدۂ مے نوش میں آنے والے
مرحبا دیدۂ مے نوش میں آنے والے اب ترے رند نہیں ہوش میں آ نے والے دیکھ ساقی رہے خالی نہ ترا کوئی سبو جام ہیں دست بلانوش میں آنے والے قتل اے زیست تری سیج پہ دھوکے سے ہوئے مر گئے سب تری آغوش میں آنے والے جا بجا دیکھ کے ہنستے ہوئے چہروں کے مزار رو پڑے کوچۂ خاموش میں آنے ...