قومی زبان

مرحبا دیدۂ مے نوش میں آنے والے

مرحبا دیدۂ مے نوش میں آنے والے اب ترے رند نہیں ہوش میں آ نے والے دیکھ ساقی رہے خالی نہ ترا کوئی سبو جام ہیں دست بلانوش میں آنے والے قتل اے زیست تری سیج پہ دھوکے سے ہوئے مر گئے سب تری آغوش میں آنے والے جا بجا دیکھ کے ہنستے ہوئے چہروں کے مزار رو پڑے کوچۂ خاموش میں آنے ...

مزید پڑھیے

عقب میں درمیاں اور سامنے والی نشستوں پر

عقب میں درمیاں اور سامنے والی نشستوں پر جہاں دیکھا وہاں تھے آپ ہی ساری نشستوں پر وہ جب اسٹیج پر آیا تو پیچھے بیٹھنے والے چلے آئے قطاریں توڑ کر اگلی نشستوں پر خبر ہی نہ ملی ان کو تماشا ختم ہونے کی تماشائی جھگڑتے رہ گئے خالی نشستوں پر گلے میں دل اچھل کر آ گیا سب اہل محفل کا جب اس ...

مزید پڑھیے

اے نقش گرو لوح تحریر ہمیں دے دو

اے نقش گرو لوح تحریر ہمیں دے دو ہم اپنے مصور ہیں تصویر ہمیں دے دو آغوش کماں اب تک افکار کا خالی ہے تم اپنی نگاہوں کے کچھ تیر ہمیں دے دو کیا تول رہے ہو تم ہاتھوں میں خرد مندو زیور یہ جنوں کا ہے زنجیر ہمیں دے دو اے خالی کٹوروں کے بے کیف نگہبانوں مے خانہ ہماری ہے جاگیر ہمیں دے ...

مزید پڑھیے

آنگن آنگن خانہ خرابی ہنستی ہے معماروں پر

آنگن آنگن خانہ خرابی ہنستی ہے معماروں پر پتھر کی چھت ڈھال رہے ہیں شیشے کی دیواروں پر زخم لگے تو بس یہ جانو چوٹ پڑی نقاروں پر آج لگا دو جان کی بازی ٹوٹ پڑو تلواروں پر اہل جنوں کی لالہ کاری موسم کی پابند نہیں فصل خزاں میں پھول کھلے ہیں زنداں کی دیواروں پر دل کے افق سے ٹوٹ گئے ہیں ...

مزید پڑھیے

یہ شہر یہ خوابوں کا سمندر نہ بچے گا

یہ شہر یہ خوابوں کا سمندر نہ بچے گا جب آگ لگے گی تو کوئی گھر نہ بچے گا یا نقش ابھارو کوئی یا عکس کو پوجو شیشے کو بچاؤ گے تو پتھر نہ بچے گا احساس رقابت سے جبینوں کو بچاؤ ٹکرائیں گے سجدے تو کوئی در نہ بچے گا اے نیند چھپے رہنے دے دو چار نظارے جب آنکھ کھلے گی کوئی منظر نہ بچے گا مقتل ...

مزید پڑھیے

آج دل ہے کہ سر شام بجھا لگتا ہے

آج دل ہے کہ سر شام بجھا لگتا ہے یہ اندھیرے کا مسافر بھی تھکا لگتا ہے اپنے بہکے ہوئے دامن کی خبر لی نہ گئی جس کو دیکھو چراغوں سے خفا لگتا ہے باغ کا پھول نہیں لالۂ صحرا ہوں میں لو کا جھونکا بھی مجھے باد صبا لگتا ہے تنگئ ظرف نظر کثرت نظارۂ دہر پیاس کچی ہو تو ہر جام بھرا لگتا ہے کس ...

مزید پڑھیے

جام کھنکے تو سنبھالا نہ گیا دل تم سے

جام کھنکے تو سنبھالا نہ گیا دل تم سے ہے ابھی دور بہت ضبط کی منزل تم سے ہم تو دریا میں بہت دور نکل آئے ہیں لوٹ جاؤ ابھی نزدیک ہے ساحل تم سے جستجو سرحد ادراک سے آگے نہ بڑھی دو قدم طے نہ ہوا مرحلۂ دل تم سے خلوت شوق کے در بند کئے لیتا ہوں اب شکایت نہ کرے گی کوئی محفل تم سے سخت جانی ...

مزید پڑھیے

اجالے تیل چھڑکنے لگے اجالوں پر

اجالے تیل چھڑکنے لگے اجالوں پر عجیب وقت پڑا ہے چراغ والوں پر تمہارا عالم مستی ڈھکا چھپا ہی سہی مری نگاہ ہے ٹوٹے ہوئے پیالوں پر تمہارے ذہن میں جو آج چبھ رہے ہوں گے میں کل سے سوچ رہا ہوں انہیں سوالوں پر نہ اٹھ سکا ترے طرز خرام سے پردہ ہوائیں ڈال گئیں خاک پائمالوں پر محاکمہ نہ ...

مزید پڑھیے

رسوا بھی ہوئے جام پٹکنا بھی نہ آیا

رسوا بھی ہوئے جام پٹکنا بھی نہ آیا رندوں کو سلیقے سے بہکنا بھی نہ آیا وہ لوگ مری طرز سفر جانچ رہے ہیں منزل کی طرف جن کو ہمکنا بھی نہ آیا تھا جن میں سلیقہ وہ بھری بزم میں روئے ہم کو تو کہیں چھپ کے سسکنا بھی نہ آیا ہم ایسے بلانوش کہ چھلکاتے ہی گزری تم ایسے تنک ظرف چھلکنا بھی نہ ...

مزید پڑھیے

چلو کچھ تو راہ طے ہو نہ چلے تو بھول ہوگی

چلو کچھ تو راہ طے ہو نہ چلے تو بھول ہوگی ابھی بند ہر گلی ہے جو کھلے گی طول ہوگی ترے حسن کی ودیعت مری جرأت نظارہ ترے رو بہ رو جھکے گی تو نظر کی بھول ہوگی مرے ہم سفر بڑھیں گے مجھے راستہ بتا کر مرے پاؤں سے اڑی ہے مرے سر پہ دھول ہوگی مجھے قبلہ رو بٹھا کر مرے ہاتھ اٹھانے والو یہ یقین ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4410 سے 6203