قومی زبان

احساس

احساس کی زمیں پر سوچوں کے قافلے رواں ہیں چپ کا دم گھٹ رہا ہے الفاظ اندر ہی اندر جل رہے ہیں کہ چیخوں کی منزل ابھی آنسوؤں کی منتظر ہے

مزید پڑھیے

دن بھی ہے رات بھی ہے میرے ساتھ

دن بھی ہے رات بھی ہے میرے ساتھ طرح میں سادگی ہے میرے ساتھ دل ربا دل لگی ہے میرے ساتھ اس لیے آگہی ہے میرے ساتھ رات بھی جاگتی ہے میرے ساتھ غم سراسر خوشی ہے میرے ساتھ آرزو ناچتی ہے میرے ساتھ شاعری منچلی ہے میرے ساتھ آشنا اجنبی ہے میرے ساتھ اک انوکھی ہنسی ہے میرے ساتھ وقت کی ...

مزید پڑھیے

حسن کی ریتیں عشق کی رسمیں چھوٹے بچے کیا جانیں

حسن کی ریتیں عشق کی رسمیں چھوٹے بچے کیا جانیں شوخ ادائیں مبہم باتیں چھوٹے بچے کیا جانیں سیر ہوئے تو ہنس لیتے ہیں بھوک لگی تو روتے ہیں صبح بہاراں بھیگی راتیں چھوٹے بچے کیا جانیں کوہ سمندر صحرا جنگل خوب سمجھ لیتے ہیں لیکن کیسی ظالم ہیں یہ خلائیں چھوٹے بچے کیا جانیں سچائی ہے ان ...

مزید پڑھیے

فلک پہ شام ڈھلے جو چمکنے لگتے ہیں

فلک پہ شام ڈھلے جو چمکنے لگتے ہیں وہ تیری آنکھوں میں آ کر دمکنے لگتے ہیں سکوت شب میں ترا نام جب بھی لیتا ہوں صحیفے عشق کے دل پر اترنے لگتے ہیں غموں کی کالی گھٹاؤں کو چیر کر جاناں تری تجلی کے سورج دہکنے لگتے ہیں چمن چمن میں کھلے پھول لے کے نام ترا تصورات کے گلشن مہکنے لگتے ...

مزید پڑھیے

سوال تجھ سے شب و روز میرا چلتا رہا

سوال تجھ سے شب و روز میرا چلتا رہا جواب تیرا ہواؤں میں مجھ کو ملتا رہا فلک پہ چاند ستاروں کا کارواں بھی بجھا تمہاری یاد کا لیکن چراغ جلتا رہا قریب مرگ جو دیکھا تو پاس کوئی نہ تھا تمام عمر یہ پھر کون ساتھ چلتا رہا بلا کے حبس میں ساری زمین سوکھ گئی مگر یہ پیار کا پودا تھا پھر بھی ...

مزید پڑھیے

چلے تھے گھر سے تو ہم درد کی دوا کے لئے

چلے تھے گھر سے تو ہم درد کی دوا کے لئے پڑے ہیں رستے میں تیرے مگر دعا کے لئے مبادا شب کی سیاہی زمیں کو کھا جائے نقاب رخ سے اٹھا دو ذرا خدا کے لئے کوئی چراغ تو آندھی سے بچ کے نکلے گا جلا دیئے ہیں بہت سے دیئے ہوا کے لئے یہاں تو روز نئی آفتوں سے پالا ہے حسینؔ کتنے اب آئیں گے کربلا کے ...

مزید پڑھیے

خوابوں کے صنم خانے جب ڈھائے گئے ہوں گے

خوابوں کے صنم خانے جب ڈھائے گئے ہوں گے اس دور کے سب آزر بلوائے گئے ہوں گے تو بھی نہ بچی ہوگی اے عافیت اندیشی ہر سمت سے جب پتھر برسائے گئے ہوں گے پھر اس نے مسائل کا حل ڈھونڈ لیا ہوگا پھر لوگ مسائل میں الجھائے گئے ہوں گے ہم گزرے کہ تم گزرے یہ دیکھنے کون آتا تھے جتنے تماشائی سب ...

مزید پڑھیے

جسم ہی پامال ہو جائے تو سر کیا کیجئے

جسم ہی پامال ہو جائے تو سر کیا کیجئے جان تو ہم کو بھی پیاری ہے مگر کیا کیجئے دیکھتے رہیے سحر کے خواب جھوٹے ہی سہی مشغلہ یہ بھی نہ ہو تو رات بھر کیا کیجئے گفتگو سے رفتہ رفتہ خامشی تک آ گئے اور حرف مدعا کو مختصر کیا کیجئے ہر نظر طرفہ تماشا ہر قدم منزل نئی سیر سے فرصت نہیں ملتی سفر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک گام پہ آسودگی کھڑی ہوگی

ہر ایک گام پہ آسودگی کھڑی ہوگی سفر کی آخری منزل بہت کڑی ہوگی یہ اپنے خون کی لہروں میں ڈوبتی کشتی بھنور سے بھاگ کے ساحل پہ جا پڑی ہوگی مسافرو یہ خلش نوک خار کی تو نہیں ضرور پاؤں تلے کوئی پنکھڑی ہوگی ترے خلوص تحفظ میں شک نہیں لیکن ہوا میں ریت کی دیوار گر پڑی ہوگی نظام قید مسلسل ...

مزید پڑھیے

سرحد جلوہ سے جو آگے نکل جائے گی

سرحد جلوہ سے جو آگے نکل جائے گی وہ نظر جرم رسائی کی سزا پائے گی چشم ساقی نہ کہیں اپنا بھرم کھو بیٹھے اور کب تک یہ مری پیاس کو بہلائے گی جو نظر گزری ہے تپتے ہوئے نظاروں سے کیا تصور کی گھنی چھاؤں میں سو جائے گی کیوں رہیں شہر بھی فیضان جنوں سے محروم عقل دیوانوں پہ پتھر ہی تو برسائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4408 سے 6203