قومی زبان

طاری مرے شعور پہ وجدان ہی رہا

طاری مرے شعور پہ وجدان ہی رہا آیا خودی کو ہوش تو اک آن ہی رہا تھا حوصلہ کہ دامن حیراں کریں گے چاک ہاتھوں میں لیکن اپنا گریبان ہی رہا پھر تو وہی تھی دھوپ وہی دھوپ کا سفر زلفوں کی چھاؤں میں بھی تو مہمان ہی رہا احسان تیرے عشق کا کیا حق ادا کرے اس پہ تو اس کی عقل کا فیضان ہی ...

مزید پڑھیے

وہی ہے دست جنوں ہمارا بدلتا رہتا ہے گو قرینہ (ردیف .. ا)

وہی ہے دست جنوں ہمارا بدلتا رہتا ہے گو قرینہ اسی سے دامن کو چاک کرنا اسی سے دامن کے چاک سینا خدا بچائے تو بچ سکیں گے سوال اب ناخدا کا کیا ہے کنارا دور اور تھکے ہیں بازو گھرا ہے طوفان ہیں سفینہ جہاں نہیں خون کی ضرورت وہاں غلط ناز سرفروشی جو کشت محنت کو سینچتا ہو لہو سے بہتر ہے وہ ...

مزید پڑھیے

خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوں

خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوں ترے تصور کی سرزمیں پر نئے گلستاں کھلا رہا ہوں میں سارے برباد کن خیالوں کو دل کا مہماں بنا رہا ہوں خرد کی محفل اجڑ چکی ہے جنوں کی محفل سجا رہا ہوں ادھر ہے آنکھوں میں اک شرارت ادھر ہے سینے میں اک چبھن سی نظر سے وہ مسکرا رہے ہیں جگر سے ...

مزید پڑھیے

دل کے مریض ذہن کے بیمار کیوں ہوئے

دل کے مریض ذہن کے بیمار کیوں ہوئے زلفوں سے کھیلتے تھے سر دار کیوں ہوئے چلمن میں اضطراب کی اک کیفیت تھی کیوں جلوے نظر کے ساتھ گناہ گار کیوں ہوئے دیوانہ اپنے آپ سے کرتا تھا کچھ کلام لیکن یہ زرد آپ کے رخسار کیوں ہوئے انگارے جس چمن میں کھلے تھے بجائے پھول اس کی خزاں کے آپ عزادار ...

مزید پڑھیے

کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہے

کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہے ہر اک میں ایک ہی مکھڑا دکھائی دیتا ہے اسی شجر پہ شفق کا کرم ہے شاید آج وہ اک شجر جو سنہرا دکھائی دیتا ہے ادھر وہ دیکھو کہ آکاش کتنا دل کش ہے جہاں وہ دھرتی سے ملتا دکھائی دیتا ہے دکھائیں تم کو غروب آفتاب کا منظر یہاں افق کا کنارہ دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھے

دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھے ترا شکار ہوں اچھی طرح سے جان مجھے ہوا نے ریت کی صورت زمیں پہ لکھ دی ہے دکھائی دیتی ہے پتھر کی داستان مجھے اک آسماں نے زمیں پر گرا دیا لیکن زمیں نے پھر سے بنا ڈالا آسمان مجھے میں اس ہوا کا نہیں پانیوں کا قیدی ہوں نہ جانے کیوں لئے پھرتا ہے ...

مزید پڑھیے

ہتھیلیوں میں لکیروں کا جال تھا کتنا

ہتھیلیوں میں لکیروں کا جال تھا کتنا مرے نصیب میں میرا زوال تھا کتنا تو جنگلوں کی طرح آگ مجھ میں پھیل گئی رگوں میں بہتا ہوا اشتعال تھا کتنا تبھی تو جلتی چٹانوں پہ لا کے پھینک دیا مرا وجود ہوا پر وبال تھا کتنا سبھی پرندے مرے پاس آتے ڈرتے تھے میں خشک پیڑ سہی بے مثال تھا کتنا مگر ...

مزید پڑھیے

دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئی

دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئی اب بھی یہ دنیا ہمیں لگتی ہے پہچانی ہوئی اشک کی بے رنگ کھیتی مدتوں میں لہلہائی پہلے کتنا قحط تھا اب کچھ فراوانی ہوئی خود کو ہم پہچان پائے یہ بہت اچھا ہوا جسم کے ہیجان میں روحوں کی عریانی ہوئی میں تو اک خوشبو کا جھونکا تیرے دامن کا ہی ...

مزید پڑھیے

تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھی

تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھی ساتھ میرے چلی آئی وہ صدا کس کی تھی کون مجرم ہے کہ دوری ہے وہی پہلی سی پاس آ کر چلے جانے کی ادا کس کی تھی دل تو سلگا تھا مگر آنکھوں میں آنسو کیوں آئے مل گئی کس کو سزا اور خطا کس کی تھی شام آتے ہی اتر آئے مرے گاؤں میں رنگ جس کے یہ رنگ تھے جانے وہ ...

مزید پڑھیے

نئے سفر میں جو پچھلے سفر کے ساتھی تھے

نئے سفر میں جو پچھلے سفر کے ساتھی تھے پھر آئے یاد کہ اس رہ گزر کے ساتھی تھے کہوں بھی کیا مجھے پل بھر میں جو بکھیر گئے ہوا کے جھونکے مری عمر بھر کے ساتھی تھے ستارے ٹوٹ گئے اوس بھی بکھر سی گئی یہی تھے جو مری شام و سحر کے ساتھی تھے شفق کے ساتھ بہت دیر تک دکھائی دیئے وہ سارے لوگ جو بس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4404 سے 6203