قومی زبان

تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی

تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی اب آنسوؤں نے بھی بخشیں عنایتیں اپنی کہ برگ ہائے خزاں دیدہ جوں اڑائے ہوئے کشاں کشاں لیے پھرتی ہیں وحشتیں اپنی سبھی کو شک ہے کہ خود ہم میں بے وفائی ہے کہاں کہاں نہ ہوئی ہیں شکایتیں اپنی چلے جہاں سے تھے اب آؤ لوٹ جائیں وہیں نکالیں راہوں نے ہم سے ...

مزید پڑھیے

میں نے کیا کام لا جواب کیا

میں نے کیا کام لا جواب کیا اس کو عالم میں انتخاب کیا کرم اس کے ستم سے بڑھ کر تھے آج جب بیٹھ کر حساب کیا کیسے موتی چھپائے آنکھوں میں ہائے کس فن کا اکتساب کیا کیسی مجبوریاں نصیب میں تھیں زندگی کی کہ اک عذاب کیا ساتھ جب گرد کوئے یار رہی ہر سفر ہم نے کامیاب کیا کچھ ہمارے لکھے گئے ...

مزید پڑھیے

ابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہے

ابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہے یہ کس نے تم سے کہہ دیا کہ زندگی خراب ہے نہ جانے آج ہم پہ پیاس کا یہ کیسا قہر ہے کہ جس طرف بھی دیکھیے سراب ہی سراب ہے ہر ایک راہ میں مٹے مۓ نقوش آرزو ہر اک طرف تھکی تھکی سی رہ گزار خواب ہے کبھی نہ دل کے ساگروں میں تم اتر سکے مگر مرے لیے مرا وجود اک ...

مزید پڑھیے

تھا وہ جنگل کہ نگر یاد نہیں

تھا وہ جنگل کہ نگر یاد نہیں کیا تھی وہ راہ گزر یاد نہیں یہ خیال آتا ہے میں خوش تھا بہت کس طرف تھا مرا گھر یاد نہیں کیا تھی وہ شکل پہ بھولی تھی بہت پیارا سا نام تھا پر یاد نہیں زخموں کے پھول ہیں دل میں اب بھی کس نے بخشے تھے مگر یاد نہیں اک گھنی چھاؤں میں دن بیتا ہے شب کہاں کی تھی ...

مزید پڑھیے

دھند کا آنکھوں پر ہوگا پردا اک دن

دھند کا آنکھوں پر ہوگا پردا اک دن ہو جائیں گے ہم سب بے چہرا اک دن جس مٹھی میں پھول ہے اس کو بند رکھو کھل کر یہ جگنو بن جائے گا اک دن آنکھیں مل مل کر دیکھیں گے خواب ہے کیا ایسے رنگ دکھائے گی دنیا اک دن چاند ستارے کہیں ڈبوئے جائیں گے خوشبو پر لگ جائے گا پہرا اک دن ہو جائیں گے ختم ...

مزید پڑھیے

جو جا چکے ہیں غالباً اتریں کبھی زینہ ترا

جو جا چکے ہیں غالباً اتریں کبھی زینہ ترا اے کہکشاں اے کہکشاں روشن رہے رستا ترا خوں ناب‌ دل کی کشید آخر کو ترے دم سے ہے کہنے کو میرا مے کدہ لیکن ہے مے خانہ ترا پل بھر میں بادل چھا گئے اور خوب برساتیں ہوئیں کل چودھویں کی رات میں کچھ یوں خیال آیا ترا اے زندگی اے زندگی کچھ روشنی ...

مزید پڑھیے

ہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئے

ہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئے لیکن تاروں سے پوچھو کب نکلے چمکے ڈوب گئے دو سائے پہلے آکاش تلے ساحل پر بیٹھے تھے لہروں نے لپٹانا چاہا اور بے چارے ڈوب گئے پیڑوں پر جو نام لکھے تھے وہ تو اب بھی باقی ہیں لیکن جتنے بھی تالاب میں پتھر پھینکے ڈوب گئے اونچے گھر آکاش چھپا کر ...

مزید پڑھیے

چپ کھڑے ہیں درمیان کعبہ و بتخانہ ہم

چپ کھڑے ہیں درمیان کعبہ و بتخانہ ہم کس طرف جائیں بتا اے جلوۂ جانانہ ہم عظمت رفتہ سے اتنے ہو گئے بیگانہ ہم بن گئے ہیں اپنی ہی نظروں میں آج افسانہ ہم ہائے یہ مجموعۂ سر مستی و کیف و خمار تک رہے ہیں تیری آنکھوں کو لئے پیمانہ ہم بے وفا شمعیں بہر سو ڈھونڈھتی ہیں اب ہمیں مٹ گئے جب ...

مزید پڑھیے

صداقتوں کے پیمبر گئے رسول گئے

صداقتوں کے پیمبر گئے رسول گئے خودی کی حرمت افضل گئی اصول گئے جو بو الہوس تھے سر عام دندناتے رہے جو حق پرست تھے سب پھانسیوں پہ جھول گئے گلا فقط ہے یہ زاہد کی پارسائی سے ذرا سا وقت پڑا ان کے سب اصول گئے خضر سے ہم بھی ملا کر قدم چلے تھے مگر مسافتوں کی طوالت سے سانس پھول گئے تمہارے ...

مزید پڑھیے

نظموں کے لیے دعائے خیر

میری تمام کائنات گھاس کے ورق کی طرح سوکھنے لگے تو تم اس تنہا رستے پہ آؤ گے؟ تخلیق کے چپ مالک! آقا! خدا! تم کہ کھوئے ہوؤں کے درد مدتوں سنبھالے رہے ہو اس رستے پہ کہ جہاں مجھے کبھی یقیں نہ ہو سکا کہ پانی مانگوں تو کیسے روٹی یا عافیت یا محض پہچان کی بھیک مانگوں تو کیسے تم آؤ گے؟ جلے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4405 سے 6203