تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی
تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی اب آنسوؤں نے بھی بخشیں عنایتیں اپنی کہ برگ ہائے خزاں دیدہ جوں اڑائے ہوئے کشاں کشاں لیے پھرتی ہیں وحشتیں اپنی سبھی کو شک ہے کہ خود ہم میں بے وفائی ہے کہاں کہاں نہ ہوئی ہیں شکایتیں اپنی چلے جہاں سے تھے اب آؤ لوٹ جائیں وہیں نکالیں راہوں نے ہم سے ...