قومی زبان

بات اب آئی سمجھ میں کہ حقیقت کیا تھی

بات اب آئی سمجھ میں کہ حقیقت کیا تھی ایک جذبات کی شدت تھی محبت کیا تھی اب یہ جانا کہ وہ دن رات کے شکوے کیا تھے اب یہ معلوم ہوا وجہ شکایت کیا تھی کوئی اک شوخ اشارہ ہی بہت تھا اے دوست اتنے سنجیدہ تبسم کی ضرورت کیا تھی معذرت تھی وہ فقط اپنی غلط بینی کی جس پہ نازاں تھے بہت ہم وہ ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کی باتوں کو دہرانے سے کیا ہوگا

خیال و خواب کی باتوں کو دہرانے سے کیا ہوگا حقیقت سامنے ہے جب تو افسانے سے کیا ہوگا خرد سے جو نہیں ممکن جنوں وہ کر دکھاتا ہے غلط ہے جو یہ کہتے ہیں کہ دیوانے سے کیا ہوگا اگر دریا میں رہنا ہے بہانا سیکھ موجوں سے خس و خاشاک کی مانند بہہ جانے سے کیا ہوگا اسی احساس سے پیدا ہوئی ہے فکر ...

مزید پڑھیے

کر گیا گوشہ نشینوں پہ یہ احساں کوئی

کر گیا گوشہ نشینوں پہ یہ احساں کوئی دے گیا مشغلہ چاک گریباں کوئی ہے یہی شوق کی پستی و بلندی کا مزاج فرش کی گرد کوئی عرش کا مہماں کوئی ضعف و ہمت کے کرشمے ہیں چہ ممکن چہ محال کام مشکل ہے کوئی اور نہ آساں کوئی آج وہ دن ہے کہ روشن ہے شبستان خیال روک دے بڑھ کے ذرا گردش دوراں کوئی زلف ...

مزید پڑھیے

ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے

ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے وہ چپ لگی ہمیں کہ کہیں کے نہیں رہے ہم خواب دیکھتے تھے بہت آسمان کے آخر میں یہ ہوا کہ زمیں کے نہیں رہے ہم میں تھے جانے کون سے کانٹے اگے ہوئے سب کے رہے ہیں آپ ہمیں کے نہیں رہے دل کو جھکا کے دل سے ادا کر دئے گئے سجدے رہین صرف جبیں کے نہیں رہے دو چار ...

مزید پڑھیے

مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھ

مجھ میں کتنا زہر ہے کولی بھر کر دیکھ مرنا تو لازم ہے آج ہی مر کر دیکھ میری مٹی کب سے قید ہے مجھ میں تو اک دن باہر آ جا اور بکھر کر دیکھ سولہ منزل کون چڑھے بتلانے کو نیچے کیا ہے اپنے آپ اتر کر دیکھ روز ڈراتا رہتا ہے تو لوگوں کو اپنے آپ سے اک دن خود بھی ڈر کر دیکھ مجھ کو پڑھنا آتا ...

مزید پڑھیے

تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئے

تھوڑی سی وضع اوڑھ لی اور وضع دار ہو گئے اصحاب عز و جاہ میں ہم بھی شمار ہو گئے ہم بھی چٹان تھے مگر ضرب شدید وقت سے ہر لمحہ ٹوٹتے رہے آخر غبار ہو گئے ترکش میں جس کے تیر تھے نہ ہاتھ میں کمان تھی شومئی بخت دیکھتے اس کا شکار ہو گئے منڈی میں لے تو آئے ہو لیکن وہ بک نہ پائیں گے موسم کی ...

مزید پڑھیے

حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تک

حصول مقصد میں آخرش یوں رہے گی قسمت دخیل کب تک تم اپنی ناکامیوں پہ دو گے مقدروں کی دلیل کب تک سمندروں کی ریاستوں کو لٹا کے آوارہ پھرنے والو اب ایک قطرہ کی منتوں سے کرو گے خود کو ذلیل کب تک تو مرد مومن ہے اپنی منزل کو آسمانوں پہ دیکھ ناداں کہ راہ ظلمت میں ساتھ دے گا کوئی چراغ علیل ...

مزید پڑھیے

جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں

جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں جو گمان میں نہ تھا مل گیا جو تھا ہاتھ میں وہ ملا نہیں وہ جو ہم میں تم میں تھا فاصلہ یہ کمال اس کے سبب ہوا وہ سنا گیا جو کہا نہیں جو کہا گیا وہ سنا نہیں وہی کبر ہے مری خاک میں وہی جہل ہے مری ذات میں جو شرار ہے وہ بجھا نہیں جو چراغ ...

مزید پڑھیے

آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنا

آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنا اس نے سیکھا ہی نہیں لفظ محبت پڑھنا سالہا سال گزر جاتے ہیں پڑھتے پڑھتے اتنا آسان کہاں درس صداقت پڑھنا پہلے اس جسم سے ہر خوف کے خلیے کو نکال تب کہیں آئے گا آداب بغاوت پڑھنا میری فرصت ہی بناتی ہے خد و خال مرے مجھ کو پڑھنا ہے تو پہلے مری فرصت ...

مزید پڑھیے

نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا

نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا چراغ لینے گیا آفتاب لے آیا ابھی جلا کے اٹھا ہوں پرانے خوابوں کو وہ میرے واسطے پھر تازہ خواب لے آیا پھر آج بھاؤ سمندر کا آسمان پہ تھا پھر آج اپنے لئے میں سراب لے آیا فسردہ دیکھ کے اس کو بہت پشیماں ہوں میں ریگزار میں کیوں اک گلاب لے آیا تجھے تو ہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4402 سے 6203