قومی زبان

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا جام میں گھول کر حسن کی مستیاں چاندنی مسکرائی مزا آ گیا چاند کے سائے میں اے مرے ساقیا تو نے ایسی پلائی مزا آ گیا نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا بزم رنداں میں ساغر کھنکنے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے جلوۂ یار نے مدہوش بنا رکھا ہے موت سے آپ کی الفت نے بچا رکھا ہے ورنہ بیمار غم ہجر میں کیا رکھا ہے عرصۂ حشر میں رسوائی یقینی تھی مگر تیری رحمت نے ہر اک جرم چھپا رکھا ہے منزل دیر و حرم چھوڑ کے اے جان جہاں میں نے کعبہ تیری چوکھٹ کو بنا رکھا ...

مزید پڑھیے

حریم شاہ میں دیکھی نہ خانقاہ میں ہے

حریم شاہ میں دیکھی نہ خانقاہ میں ہے جو شان بندہ نوازی تری نگاہ میں ہے نگاہ جب سے ترے حسن کی پناہ میں ہے ہر اک مقام محبت مری نگاہ میں ہے یہ بت کدے یہ حرم جس کی جلوہ گاہ میں ہے وہ میرے ساتھ ازل سے جنوں کی راہ میں ہے یہ ان کا در ہے یہاں سر اٹھا کے کون چلے یہاں پہ سر ہی نہیں دل بھی سجدہ ...

مزید پڑھیے

دل بتوں پہ نثار کرتے ہیں

دل بتوں پہ نثار کرتے ہیں کفر کو پائیدار کرتے ہیں جن کا مذہب صنم پرستی ہو کافری اختیار کرتے ہیں اس کا ایمان لوٹتے ہیں صنم جس کو اپنا شکار کرتے ہیں حوصلہ میرا آزمانے کو وہ ستم بار بار کرتے ہیں اس سے بڑھ کر نہیں نماز کوئی اپنی ہستی سے پیار کرتے ہیں اے فناؔ دل سنبھال کر رکھنا بت ...

مزید پڑھیے

کافر عشق کو کیا سے کیا کر دیا

کافر عشق کو کیا سے کیا کر دیا بت نے حق آشنا آشنا کر دیا کوئی دیکھے حقیقت مرے کفر کی میں نے جس بت کو پوجا خدا کر دیا پارسائی دھری رہ گئی شیخ کی چشم جادو اثر تو نے کیا کر دیا دیکھنے والے کعبہ سمجھنے لگے کتنا روشن ترا نقش پا کر دیا بت پرستی میں کی میں نے وہ بندگی بت کدے کو بھی قبلہ ...

مزید پڑھیے

ان کے جلووں پہ ہمہ وقت نظر ہوتی ہے

ان کے جلووں پہ ہمہ وقت نظر ہوتی ہے کوچۂ یار میں یوں اپنی بسر ہوتی ہے جانے کیا چیز محبت کی نظر ہوتی ہے وہ جدھر ہوتے ہیں دنیا ہی ادھر ہوتی ہے ہوش والے میری وحشت کو بھلا کیا سمجھیں ان کے دیوانوں کو عالم کی خبر ہوتی ہے عشق میں چاند ستاروں کی حقیقت کیا ہو جلوۂ یار پہ قربان سحر ہوتی ...

مزید پڑھیے

تیرے در سے نہ اٹھا ہوں نہ اٹھوں گا اے دوست (ردیف .. ے)

تیرے در سے نہ اٹھا ہوں نہ اٹھوں گا اے دوست زندگی تیرے بنا خواب ہے افسانہ ہے مدعا اس کے علاوہ نہیں کچھ اور مرا تیرا دیوانہ ہوں در پہ ترے مٹ جانا ہے اے فناؔ کہتے ہیں معراج عبادت اس کو میرے ہر سجدے کا حاصل در جانانہ ہے

مزید پڑھیے

ہے وجہ کوئی خاص مری آنکھ جو نم ہے

ہے وجہ کوئی خاص مری آنکھ جو نم ہے بس اتنا سمجھتا ہوں کہ یہ ان کا کرم ہے یہ عشق کی معراج ہے یا ان کا کرم ہے ہر وقت مرے سامنے تصویر صنم ہے کعبے سے تعلق ہے نہ بت خانے کا غم ہے حاصل مرے سجدوں کا ترا نقش قدم ہے دیوانوں پہ کس درجہ ترا لطف و کرم ہے بخشا ہے جو غم تو نے وہی حاصل غم ہے سر جب ...

مزید پڑھیے

دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ کر دیا

دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ کر دیا حسن خیال یار نے دیوانہ کر دیا تو نے کمال جلوۂ جانانہ کر دیا بلبل کو پھول شمع کو پروانہ کر دیا مشرب نہیں یہ میرا کہ پوجوں بتوں کو میں شوق طلب نے دل کو صنم خانہ کر دیا ان کی نگاہ مست کے قربان جائیے میرے جنوں کو حاصل مے خانہ کر دیا ٹھکرائے یا قبول ...

مزید پڑھیے

تیری نظروں پہ تصدق آج اہل ہوش ہیں

تیری نظروں پہ تصدق آج اہل ہوش ہیں جان جاں تیری نگاہیں میکدہ بر دوش ہیں عشق میں اہل وفا کتنے اذیت کوش ہیں خون دل کا ہو رہا ہے لب مگر خاموش ہیں اے نگاہ شوق کس منزل میں لے آئی مجھے دونوں عالم جلوہ گاہ یار میں روپوش ہیں مجھ کو تنہا دیکھنے والے نہ سمجھیں راز عشق میری تنہائی کے لمحے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4379 سے 6203