نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی
نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہوگی نگاہ یار مری سمت پھر اٹھی ہوگی سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بے خودی ہوگی نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تو لیکن ترے بغیر بسر کیسے زندگی ہوگی کسی طرح بھی پئیں ہم غرض ہے پینے سے نہیں ہے جام تو آنکھوں سے مے کشی ...