قومی زبان

نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی

نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہوگی نگاہ یار مری سمت پھر اٹھی ہوگی سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بے خودی ہوگی نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تو لیکن ترے بغیر بسر کیسے زندگی ہوگی کسی طرح بھی پئیں ہم غرض ہے پینے سے نہیں ہے جام تو آنکھوں سے مے کشی ...

مزید پڑھیے

وہ اور ہوں گے جن کو حرم کی تلاش ہے

وہ اور ہوں گے جن کو حرم کی تلاش ہے مجھ کو تو تیرے نقش قدم کی تلاش ہے میں تو گناہ گار محبت ہوں اے صنم مجھ کو تری نگاہ کرم کی تلاش ہے زاہد صنم کدہ میری منزل نہیں مگر عاشق ہوں مجھ کو اپنے صنم کی تلاش ہے میں تیرا ہو چکا ہوں زمانے سے کیا غرض اے جان جاں مجھے ترے غم کی تلاش ہے زاہد تلاش ...

مزید پڑھیے

واجب القتل

ماہ کامل حیرت کی تصویر ہو جیسے حد چاہ نخشب عالمگیر ہو جیسے ہولی کے رنگوں کا دھوکہ چہروں پر تحریر ہو جیسے بھیگی رات میں آب شر انگیز کے مارے مست ستارے اپنی چالیں چوک رہے ہیں دہلیزوں پر پگھلی شمعیں نیلے بادل کے پردے میں اوجھل ہوتے آنکھ کے تارے ڈھونڈ رہی ہیں آئینوں سے نالاں نقش سے ...

مزید پڑھیے

رنگ اپنے

ایک دیوار اور اس پر وہ مرے نقش و نگار میری دیوار پہ دعویٰ سو یہ دعویٰ کیسا ایک دیوار پہ دیوار کے رنگوں پہ کہاں ختم یہ بات ایک پچکاری کی ہیں مار یہ سب نقش و نگار جاؤ جانے دو اسے اور کھرچ لے جائے نقش کیا ہے مرے ہاتھوں کا تحرک ہے بس رنگ کیا ہیں مرے ہاتھوں میں دبی پچکاری شہر کیا ہے مری ...

مزید پڑھیے

خوشی

کیا پہننے کو اس پری کے پاس ایک بھی ڈھنگ کا نہیں ہے لباس جب بھی مجھ سے وہ ملنے آتی ہے سوگوار ماتمی رنگ اوڑھے آتی ہے

مزید پڑھیے

رسی کا پل

رسی کا پل دیکھا بھالا ہچکولے مانوس گرہیں جس کی عقدوں سے پر طول سفر اک عمر رسی کا پل اک دن ٹوٹا اور مسافر گرتے گرتے اس کے دونوں ٹکڑے تھامے خود پل بن کر بیچ میں لٹکا جھول رہا تھا سیکڑوں آنکھوں کے جھرمٹ میں وہ مصلوب تماشہ بن کر ٹوٹے پل کو جوڑ رہا تھا اونچائی پر دونوں سروں کی جانب بے ...

مزید پڑھیے

گرم پانی

روشنی پر دھند کی تہ آئنے کے نقش پھیکے شیشے کے اس پار ابہام مجرد کھڑکیوں پر آنسوؤں کی باڑھ مورتیں ہوں صورتوں سے جیسے عاری پگھلے چہروں سے تھی ہر تصویر بھاری اور سکوت بوجھ ہو گویا بصارت پر نمی کھڑکی کھلتے ہی مگر بانہیں پھیلا کر ہوا نے بڑھ کے آنکھیں چوم لیں آئنوں کے آنسو پونچھے رنگ ...

مزید پڑھیے

یہ سڑک

کوئی آگے نہ پیچھے بہت دور تک ایک لمبی سڑک درمیاں میں کوئی سایہ چہرہ بکف گویا تصویر تجرید ماحول کا کینوس بے حد و بیکراں اس پہ بجھتا ہوا رات کا کوئلہ آگ کا رازداں سارے پس منظروں کو سمیٹے ہوئے جو دکھائی نہیں دے رہا وہ دھواں اور سڑک جس کا کوئی سرا ہی نہیں چل رہا ہوں بہت مدتوں سے یوں ...

مزید پڑھیے

لب دریا

پینے والے دہن لب دریا پیاس بجھنے کے منظروں کا فشار سرخ ہونٹوں سے وہ ٹپکتا لہو پپڑیاں جا بجا چٹختی ہیں خشک ہونٹوں میں گڑے جاتے ہیں خار اور ادھر ہونٹ جو نمی سے دو چار

مزید پڑھیے

عالمین

خواب ہے یا کوئی تصور ہے یہ توازن یہ فکر کا میزان اتنا گہرا خموش آوازہ ہر تحرک بقدر اندازہ بے حصاری کا یہ معدوم حصار کائناتوں کا بے شمار شمار قلزم بے کنار کا عالم عالموں کے غبار کا عالم کہکشاؤں کے ہار لا محدود مہر بے اختیار لا محدود بے حد و بے حساب سیارے داغ بے داغ بے پنہ تارے ایسا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4380 سے 6203