قومی زبان

اے صنم دیر نہ کر انجمن آرا ہو جا

اے صنم دیر نہ کر انجمن آرا ہو جا میری دم توڑتی نظروں کا سہارا ہو جا اپنے دامن میں چھپا لے مجھے محبوب مرے مری بگڑی ہوئی قسمت کا ستارہ ہو جا عشق سچا ہے تو پھر رنگ دوئی ٹھیک نہیں ہم ترے ہو گئے اب تو بھی ہمارا ہو جا مجھ کو ہر وقت ہے لذت دیدار صنم میری نظروں کے لئے ایسا سہارا ہو ...

مزید پڑھیے

کس طرح چھوڑ دوں اے یار میں چاہت تیری

کس طرح چھوڑ دوں اے یار میں چاہت تیری میرے ایمان کا حاصل ہے محبت تیری جانے کیا بات ہے جلووں میں ترے جان جہاں یاد آتا ہے خدا دیکھ کے صورت تیری اب نگاہوں میں جچے گا نہ کوئی رنگ و جمال میری آنکھوں کو پسند آ گئی رنگت تیری اپنی قسمت پہ فرشتوں کی طرح ناز کروں مجھ پہ ہو جائے اگر چشم ...

مزید پڑھیے

کہیں سکوں نہ ملا دل کو بزم یار کے بعد

کہیں سکوں نہ ملا دل کو بزم یار کے بعد کہ بیقرار رہی زندگی قرار کے بعد اٹھے نہ پاؤں محبت کی رہ گزار کے بعد کوئی قیام نہیں ہے ترے دیار کے بعد قبائیں چاک تو کرتے رہیں گے دیوانے کبھی بہار سے پہلے کبھی بہار کے بعد شراب عشق کا میکش رہا سدا مدہوش تیری نگاہ کی مستی چڑھی خمار کے ...

مزید پڑھیے

باہوش وہی ہیں دیوانے الفت میں جو ایسا کرتے ہیں

باہوش وہی ہیں دیوانے الفت میں جو ایسا کرتے ہیں ہر وقت انہی کے جلووں سے ایمان کا سودا کرتے ہیں ہم اہل جنوں میں بس یہی معراج عبادت ہے اپنی ملتا ہے جب ان کا نقش قدم ہم شکر کا سجدہ کرتے ہیں ملتے ہیں نظر ہوش اڑتے ہیں مستی بھی برسنے لگتی ہے معلوم نہیں وہ کون سی مے آنکھوں سے پلایا کرتے ...

مزید پڑھیے

مائل بہ کرم مجھ پر ہو جائیں تو اچھا ہو

مائل بہ کرم مجھ پر ہو جائیں تو اچھا ہو مقبول مرے سجدے ہو جائیں تو اچھا ہو اس دشت نوردی سے پیچھا تو کہیں چھوٹے ہم کوچۂ جاناں میں مر جائیں تو اچھا ہو سر ہو در جاناں پہ دم اپنا نکل جائے یہ کام محبت میں کر جائیں تو اچھا ہو یوں تو سبھی آئے ہیں دفنانے مجھے لیکن وہ بھی مری میت پہ آ ...

مزید پڑھیے

اب تصور میں حرم ہے نہ صنم خانہ ہے

اب تصور میں حرم ہے نہ صنم خانہ ہے میں جہاں پر ہوں وہیں یار کا کاشانہ ہے جستجوئے حرم و دیر سے بیگانہ ہے میرا دل آپ کی تصویر کا دیوانہ ہے اب نہ کعبے میں جھکے گا نہ صنم خانے میں میرا سر سر نہیں سنگ در جانانہ ہے سب تری مست نگاہی کا کرم ہے ساقی رند جو بھی یہاں ہوش سے بیگانہ ہے

مزید پڑھیے

مری لو لگی ہے تجھ سے غم زندگی مٹا دے

مری لو لگی ہے تجھ سے غم زندگی مٹا دے ترا نام ہے مسیحا مرے درد کی دوا دے مری پیاس بڑھ رہی ہے مرا دل سلگ رہا ہے جو نہیں ہے جام ساقی تو نگاہ سے پلا دے مرا مدعا ہے اتنا تو اگر کرے گوارہ میں فقیر آستاں ہوں مجھے بندگی سکھا دے مجھے شوق بندگی میں یہی ایک آرزو ہے ترا نقش پا جہاں ہو مرا سر ...

مزید پڑھیے

ترا غم رہے سلامت یہی میری زندگی ہے

ترا غم رہے سلامت یہی میری زندگی ہے ترے غم سے میرے جاناں مرے دل میں روشنی ہے مری مے کشی کا حاصل وہ شراب بن گئی ہے جو ملی تری نظر سے جو تری نظر سے پی ہے تجھے سامنے بٹھا کر صدا پوجتا رہوں میں ہے یہی مری عبادت یہی میری بندگی ہے مرے دل میں بسنے والے تجھے کیسے بھول جاؤں ترا عشق میرا ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کو نت نئے انداز سے دیکھا کرو

چاہتوں کو نت نئے انداز سے دیکھا کرو وصل کی راحت میں فرقت کا سماں لکھا کرو کیا پتہ ان کی بھی لگ جائے کوئی قیمت کہیں سنگریزوں کو بھی ہیروں کی طرح پرکھا کرو ذات کے صحرا میں کر پاؤ گے کیا اپنی تلاش عمر بھر پیچھے سراب زیست کے بھاگا کرو اک ہوائے تند کا جھونکا اڑا لے جائے گا ریت کے ...

مزید پڑھیے

غم دنیا غم ہستی غم الفت غم دل (ردیف .. و)

غم دنیا غم ہستی غم الفت غم دل کتنے عنوان ملے ہیں مرے افسانے کو پھر سے آ جائے گی دیکھو تن بے جان میں جان آپ آواز تو دیجے ذرا دیوانے کو بے خودی میں بھی ترا نام لئے جاتے ہیں روگ یہ کیسا لگا ہے ترے مستانے کو تجھ سے بس اتنی طلب ہے ترے دیوانے کی اپنے جلووں سے سجا دے مرے غم خانے کو شعلۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4378 سے 6203