قومی زبان

کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر

کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں چاہ میں اس کی پیروں میں ہیں آبلے چاند کو کیا خبر وہ جو نکلا نہیں تو بھٹکتے رہے ہیں مسافر کئی اور لٹتے رہے ہیں کئی قافلے چاند کو کیا خبر اس کو ...

مزید پڑھیے

جھک گئی جب یہ انا تیرے در‌‌ سفاک پر

جھک گئی جب یہ انا تیرے در‌‌ سفاک پر مجھ سے مت پوچھو کہ کیا گزری دل بے باک پر اس زمیں سے آسماں تک میں بکھرتی ہی گئی اب نہ سمٹی تو گروں گی ایک دن میں چاک پر میں رہی اک ہجر میں اور ایک اب ملنے کو ہے جان سے میں یوں گئی تو خاک ڈالو خاک پر اب وہاں پھوٹیں گے پھر سے لالہ و گل دیکھنا ہو رہا ...

مزید پڑھیے

دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو

دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو میرے گزرے ہوئے سالوں سے پریشان نہ ہو میری آواز کی تلخی کو گوارہ کر لے میرے گستاخ سوالوں سے پریشان نہ ہو میں نے مانا تری آنکھیں نہیں کھلتی ہیں مگر دن نکلنے دے اجالوں سے پریشان نہ ہو اپنی زلفوں میں اترتی ہوئی چاندی کو چھپا میرے بکھرے ہوئے ...

مزید پڑھیے

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے میری پلکوں پہ ترا گھر ہے کئی صدیوں سے اشک آنکھوں میں سلگتے ہوئے سو جاتے ہیں یہ مری آنکھ جو بنجر ہے کئی صدیوں سے کون کہتا ہے ملاقات مری آج کی ہے تو مری روح کے اندر ہے کئی ...

مزید پڑھیے

دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے

دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے چپ رہنا ہی بہتر ہے دیوانے کو کیا کہئے کچھ بھی تو نہیں دیکھا اور کوچ کی تیاری یوں آنے سے کیا حاصل یوں جانے کو کیا کہئے مجبور ہیں سب اپنی افتاد طبیعت سے ہو شمع سے کیا شکوہ پروانے کو کیا کہئے تجھ سے ہی مراسم ہیں تجھ سے ہی گلا ہوگا بیگانے سے کیا ...

مزید پڑھیے

مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں

مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں تمہاری آنکھوں میں جس قدر تھے وہ خواب سارے جھلس گئے ہیں مری زمیں کو کسی نئے حادثے کا ہے انتظار شاید گناہ پھلنے لگے ہیں اجر و ثواب سارے جھلس گئے ہیں جو تم گئے تو مری نظر پہ حقیقتوں کے عذاب اترے یہ سوچتا ہوں کہ کیا کروں گا سراب سارے ...

مزید پڑھیے

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو جیسے بالوں میں کوئی پھول چنا کرتا ہے گھر کے گلدان میں پھولوں سا سجا لیں تم کو کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں ہمارے دل میں کر ...

مزید پڑھیے

ہم کو واعظ نہ باغ ارم چاہئے

ہم کو واعظ نہ باغ ارم چاہئے ایک ان کی نگاہ کرم چاہئے دہر ہو یا کہ کعبہ ہو بت خانہ ہو کچھ بھی ہو مجھ کو اپنا صنم چاہئے دل ہمیشہ ہی جس میں الجھتا رہے ان کی زلفوں کے وہ پیچ و خم چاہئے جس میں اپنے صنم کا تصور نہ ہو وہ خوشی چاہئے اور نہ غم چاہئے ان کی بخشش کا کوئی ٹھکانہ نہیں دامن ...

مزید پڑھیے

گھر سجائیں تو کیا تماشا ہو

گھر سجائیں تو کیا تماشا ہو اور جلائیں تو کیا تماشا ہو ہم رقیبوں کے سامنے کھل کر مسکرائیں تو کیا تماشا ہو بات جو آج تک چھپائی تھی اب بتائیں تو کیا تماشا ہو ان کے اک اک ستم پہ ہم ان کو خوں رلائیں تو کیا تماشا ہو شیخ و زاہد کبھی رنگے ہاتھوں ہاتھ آئیں تو کیا تماشا ہو ہم بلا کر ...

مزید پڑھیے

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا مرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی کیا تھا ہم نے کیمپس کی ندی پر اک حسیں وعدہ بھلے ہم کو پڑے مرنا محبت مر نہیں سکتی پرانے عہد کو جب زندہ کرنے کا خیال آئے مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 434 سے 6203