میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں جو اس دیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں تمہارے ہجر کی صدیاں تمہارے وصل کے دن میں اس شمار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں رچا ہوا ہے ترا عشق میری پوروں میں میں اس خمار سے نکلوں تو ...