ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آ جائے
ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آ جائے ذرا سا دل بہل جائے تو شاید نیند آ جائے ابھی تو کرب ہے بے چینیاں ہیں بے قراری ہے طبیعت کچھ سنبھل جائے تو شاید نیند آ جائے ہوا کے نرم جھونکوں نے جگایا تیری یادوں کو ہوا کا رخ بدل جائے تو شاید نیند آ جائے یہ طوفاں آنسوؤں کا جو امڈ آیا ہے ...