نیا اک زخم کھانا چاہتا ہوں
نیا اک زخم کھانا چاہتا ہوں میں جینے کو بہانا چاہتا ہوں رلا دیتی ہے ہر سچی کہانی میں اک جھوٹا فسانہ چاہتا ہوں مہک سے جھوم اٹھے سارا جیون میں ایسا گل کھلانا چاہتا ہوں محبت میری بے حد خود غرض ہے تجھے سب سے چھپانا چاہتا ہوں یہ پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے میں سچ مچ مسکرانا چاہتا ...