تمنا تھی جو آنکھوں میں وہی لہجے میں رکھ دینا
تمنا تھی جو آنکھوں میں وہی لہجے میں رکھ دینا میں آؤں تو امیدوں کا دیا رستے میں رکھ دینا سمیٹو گے کبھی چادر جو تم عمر گریزاں کی بس اک خوشبو بھرا لہجہ مرے حصے میں رکھ دینا سنبھالا ہے جسے دل کے نہاں خانوں میں برسوں سے محبت کا وہی سکہ مرے کاسے میں رکھ دینا چلو ملتے ہیں جنموں کے ...