قومی زبان

اینٹینا کے نیزے

گم ہوئے یوں کہ کبھی میرے شناسا ہی نہ تھے کچھ لکھا ہوتا تمہیں مجھ سے شکایت کیا ہے خبر کب آئے ہو کیسے سناؤ پیارے کیا خبر لائے ہو یاروں کی حکایت کیا ہے اس نے یہ کچھ نہ کہا اور کہا تو اتنا کھیل دل چسپ ہے نظارہ کرو اور پھر ایک خلا ایک گراں بار خموشی کی اذیت لے کر میں یہ کہتا ہوا اٹھ ...

مزید پڑھیے

گلاب بکف

بہار کی یہ دل آویز شام جس کی طرف قدم اٹھائے ہیں میں نے کہ اس سے ہاتھ ملاؤں اور اک شگفتہ شناسائی کی بنا رکھوں پھر اپنی خانہ بدوشی کی مشترک لے پر اسے گلاب بکف خیمۂ جنوں تک لاؤں کچھ اس کی خیر خبر پوچھوں اور کچھ اپنی کہوں کہوں کہ کتنے ہی پت جھڑ کے موسم آئے گئے مگر ان آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

حیرانی کا بوجھ

مٹی کی دیوار پہ اک کھونٹی سے لٹکی میری یادوں کی زنبیل جس میں چھپے تھے رنگ برنگے کپڑوں کے بوسیدہ کترن گول گول سی ننھی منی کر دھنیوں کے دانے اک امرود کی ڈالی کاٹ کے بابا نے جو بنائی تھی وہ ٹیڑھی میڑھی ایک غلیل نیلے پیلے مٹیالے اور لال پروں کی ڈھیری چوڑے منہ کا اک منہ زور سا کاٹھ کا ...

مزید پڑھیے

عدم میں کیا عجب رعنائیاں ہیں

عدم میں کیا عجب رعنائیاں ہیں مگر سب دہر کی پرچھائیاں ہیں بھلی لگتی نہیں تکرار اتنی بظاہر بے ضرر سچائیاں ہیں وہ خود شعلے سے اب دامن بچائے بہت رسوا مری تنہائیاں ہیں میں اپنے وار کھا کر اور بپھروں غضب کی معرکہ آرائیاں ہیں ہے عالم ایک جیسا ہر خوشی کا الم کی ان گنت پہنائیاں ...

مزید پڑھیے

خاک دل کہکشاں سے ملتی ہے

خاک دل کہکشاں سے ملتی ہے یہ زمیں آسماں سے ملتی ہے ہاتھ آتی نہیں کبھی دنیا اور کبھی ہر دکاں سے ملتی ہے ہم کو اکثر گناہ کی توفیق حجت قدسیاں سے ملتی ہے دل کو ایمان جاننے والے دولت دل کہاں سے ملتی ہے ماورائے سخن ہے جو توقیر اک کڑے امتحاں سے ملتی ہے انتہا یہ کہ میری حد سفر منزل ...

مزید پڑھیے

یوں الجھ کر رہ گئی ہے تار پیراہن میں رات

یوں الجھ کر رہ گئی ہے تار پیراہن میں رات بے دلی کے ساتھ اب اترے گی جان و تن میں رات کھول کر بادل کے دروازے نکل آیا ہے چاند گر پڑی ہے رقص کرتے کرتے پھر آنگن میں رات بات کیا ہے کشتیاں کھلتی نہیں ساحل سے کیوں خوار و آوارہ سی ہے اپنے ادھورے پن میں رات کام اتنے ہیں کہ اب یہ سوچنا بھی ...

مزید پڑھیے

اپنے چہرے پر بھی چپ کی راکھ مل جائیں گے ہم

اپنے چہرے پر بھی چپ کی راکھ مل جائیں گے ہم اب تری مانند سوچا ہے بدل جائیں گے ہم آگ جو ہم نے جلائی ہے تحفظ کے لئے اس کے شعلوں کی لپٹ میں گھر کے جل جائیں گے ہم ختم ہے عہد زمستاں دھوپ میں حدت سی ہے ایک انجانے سفر پر اب نکل جائیں گے ہم زندگی اپنی اساسی یا قیاسی جو بھی ہو خواب بن کر آئے ...

مزید پڑھیے

احوال چھپاتے ہیں کیا جانئے کیا جی کا

احوال چھپاتے ہیں کیا جانئے کیا جی کا چہرے سے بڑی عینک ماتھے سے بڑا ٹپکا اب عمر کے خیمے میں پیوند ہی لگنے ہیں صحرائے عرب ہو یا بازی گہ امریکہ شرمندۂ ہستی ہیں پہچان ہماری کیا کاسہ ہی تو ہوتا ہے چہرہ بھی سوالی کا میری ہی کہانی ہے میرا ہی حوالہ ہے یا تان ہو میراؔ کی یا شعر ہو سعدیؔ ...

مزید پڑھیے

پلکوں سے اپنے بھولے ہوئے خواب باندھ لیں

پلکوں سے اپنے بھولے ہوئے خواب باندھ لیں جب ٹھان لی سفر کی تو اسباب باندھ لیں ساحل پہ کوئی غول نہ اس پر جھپٹ پڑے ڈھونڈا ہے جو خزینہ تہہ آب باندھ لیں اس آخری نظارے کو گر اپنا بس چلے ہر شے کی دوڑ سے دل بے تاب باندھ لیں جینا تو ہے ضرور مگر اپنے ارد گرد کیوں اک حصار گنبد و محراب باندھ ...

مزید پڑھیے

یوں بھی جینے کے بہانے نکلے

یوں بھی جینے کے بہانے نکلے کھوج خود اپنا لگانے نکلے پیٹھ پر بوجھ شکم کا لے کر ہم تری یاد جگانے نکلے آنکھ لگ جائے تو وحشت کم ہو چاند کس وقت نہ جانے نکلے وہی لمحے جو تھے لمحوں سے بھی کم اپنی وسعت میں زمانے نکلے اک تبسم پہ ٹلے گی ہر بات داغ دل کش کو دکھانے نکلے قحط آباد سخن میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 423 سے 6203