قومی زبان

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے وہ جتنی دور ہو اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے مگر جب پاس آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مرے اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر ...

مزید پڑھیے

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا اس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا مجھ کو چلنے دو اکیلا ہے ابھی میرا سفر راستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد وفا اک ترے کہنے ...

مزید پڑھیے

نقدی کہاں سے آئے گی

پہلے راتیں اتنی لمبی کب ہوتی تھیں جو بھی حساب اور کھیل ہوا کرتا تھا سب موسم کا تھا روز و شب کی ہر ساعت کا اک جیسا پیمانہ تھا اپنے ملنے والے سارے جھوٹے سچے یاروں سے اک مستحکم یارانہ تھا لیکن اپنے درد کی سمتوں کی پہچان نہ رکھنے والے دل یہ سوچنا تھا ہر خواب کی قیمت ہوتی ہے اور اب ان ...

مزید پڑھیے

سکہ پانی اور ستارہ

موند کر آنکھیں بڑے ہی دھیان سے میں نے پیچھے کی طرف حوض کے پانی میں سکے پھینکتے ہی اک ذرا سی چھیڑ کی اپنے دل خوش فہم سے اے باؤلے اب تو ہو جائے گی پوری خیر سے تیری مراد سہ پہر کی دھوپ میں حوض کے جھرنے میں سکے سات رنگوں میں چمکتے یوں دکھائی دے رہے تھے جیسے ہم آواز ہو کر سب اڑاتے ہوں ...

مزید پڑھیے

آخری قافلہ

نہ جانے سرگوشیوں میں کتنی کہانیاں ان کہی ہیں اب تک برہنہ دیوار پر ٹنگے پر کشش کلنڈر میں دائرے کا نشان عمر گریز پا کو دوام کے خواب دے گیا ہے جس میں سلگتے سیارے گیسوؤں کے گھنے خنک سائے ڈھونڈتے ہیں گلاب سانسوں سے جیسے شادابیوں کی تخلیق ہو رہی ہے وہ جھک کے پھولوں میں اپنے بھیگے بدن ...

مزید پڑھیے

دنیا تو یہ کہتی ہے

دنیا تو یہ کہتی ہے بہت مجھ میں ہنر ہے میں چاہوں تو دنیا کو چمن زار بنا دوں آ جاتا ہے ان باتوں میں دنیا کے مرا دل جٹ جاتا ہوں میں کام میں جی جان لگا کر پھر بے خبری حد سے گزر جاتی ہے میری بٹتا نہیں چل پڑتا ہوں جب اپنی ڈگر پر یہ دیکھ کے کچھ روز تو چپ رہتی ہے دنیا دے جاتی ہے ناگاہ مگر ...

مزید پڑھیے

کسیلا ذائقہ

بہ یک جنبش مری آنکھوں کو پتھر کر دیا جس نے وہ خنجر کاش سینے میں مرے پیوست ہو جاتا رواں ہے وقت کی سفاک محرابوں کے نیچے نہر خوں بستہ سسکتی چیختی تنہا صداؤں کی میں اب کس کے لیے گھر کے کھنڈر میں خواب گھر کے دیکھتا جاؤں زباں پر ہے کسیلا ذائقہ تانبے کے سکے کا کہاں تک ہر کسی کے سامنے ...

مزید پڑھیے

تنہائی

پتے اپنے سایوں میں کیا ڈھونڈتے ہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے شاخ سے ٹوٹ کے اپنے ہی ان سایوں پر گر جاتے ہیں نیلی چڑیا شام کی نیلی روشنیوں میں بھیگے پر پھیلاتی ہے پر پھیلانے کی لذت سے خواب زدہ ہو جاتی ہے بھولے بسرے سپنے دیکھتی آنکھیں موندتی آنکھیں کھولتی چپکے سے سو جاتی ہے

مزید پڑھیے

موت بھی رحم کے قابل ہے

رات دن موت ہے مصروف مشقت مرے اجداد کی مانند کہ جو ایڑیاں گھس گھس کے جئے اور مرے زندگی رحم کے قابل یہ تسلیم مگر موت بھی کتنی شکستہ ہے ذرا دیکھو تو

مزید پڑھیے

موسم کی وراثت

کھیت پیاسے ہیں فضا ہانپتی ہے جا بہ جا اکھڑی جڑیں چاٹتی اک گائے کے سوکھے ہوئے مٹیالے کھروں کی مانند پھٹ گئی ہے جو زمیں اس میں اگی جھاڑیاں بے برگ و ثمر رہتی ہیں موسم ہو کوئی کسی فالج زدہ بیمار کے اکڑے ہوئے پنجے کی طرح ٹہنیاں سوئے فلک دیکھتی فریاد کناں ہیں کب سے محض فریاد سے اے دوست ...

مزید پڑھیے
صفحہ 422 سے 6203