قومی زبان

سچ کا لمحہ جب بھی نازل ہوتا ہے

سچ کا لمحہ جب بھی نازل ہوتا ہے کتنی الجھن میں اپنا دل ہوتا ہے میری خوشی کا بھید ہے بس یہ سب کا دکھ میرے اپنے دکھ میں شامل ہوتا ہے علم کی میرے یار سند پہچان نہیں بہت پڑھا لکھا بھی جاہل ہوتا ہے سیدزادے دل مانگو یا داد ہنر سائل تو ہر حال میں سائل ہوتا ہے بیت گئی جب عمر تو یہ معلوم ...

مزید پڑھیے

قبول ہے غم دنیا ترے حوالے سے

قبول ہے غم دنیا ترے حوالے سے یہ بوجھ ورنہ سنبھلتا نہیں سنبھالے سے سراغ اپنا ادھر ہی کہیں ملے شاید تنے ہوئے ہیں جدھر مکڑیوں کے جالے سے میں ایک ذرۂ آوارہ اور مری خاطر سمندروں سی یہ راتیں یہ دن ہمالے سے کھلی تو رکھتا ہوں میں گھر کی کھڑکیاں لیکن وہی تمام نظارے ہیں دیکھے بھالے ...

مزید پڑھیے

خود اپنے زہر کو پینا بڑا کرشمہ ہے

خود اپنے زہر کو پینا بڑا کرشمہ ہے جو ہو خلوص تو جینا بڑا کرشمہ ہے یہاں تو آب و سراب ایک ہے جدھر جائیں تمہارے ہاتھ ہے مینا بڑا کرشمہ ہے تمہارا دور کرشموں کا دور ہے سچ ہے تمہارے دور میں جینا بڑا کرشمہ ہے جہاں نصیب ہو عیش دوام بے تگ و دو جبیں پہ گرم پسینہ بڑا کرشمہ ہے غم معاش کی ...

مزید پڑھیے

میری چاہت پہ نہ الزام لگاؤ لوگو (ردیف .. ن)

میری چاہت پہ نہ الزام لگاؤ لوگو کچھ سمجھ کر ہی اٹھاتا ہے کوئی بار گراں پہلے ذرات زمیں بوس کا ہم راز تو بن پھر سمجھنا بہت آساں ہے ستاروں کی زباں راز دار‌ گل و نسریں تو ہزاروں تھے مگر کوئی سمجھا ہی نہیں برگ پریشاں کی زباں پھینکتی ہے ترے شاہینؔ پہ دنیا پتھر ناگہاں چور نہ ہو جائے ...

مزید پڑھیے

شہر خوباں سے جو ہم اب بھی گزر آتے ہیں

شہر خوباں سے جو ہم اب بھی گزر آتے ہیں کتنے دھندلائے ہوئے نقش ابھر آتے ہیں رات جا چھپتی ہے سنسان جزیروں میں کہیں رات کے خواب مری روح میں در آتے ہیں سحر‌ انداز ہے کیا نیم نگاہی تیری ایک سے کافر و دیں دار نظر آتے ہیں کس کو سچ کہیے گا کس روپ کو جھٹلائیے گا آئنے میں تو کئی عکس اتر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک سمت جب اس کو پکارنا ٹھہرا

ہر ایک سمت جب اس کو پکارنا ٹھہرا وہ پھر مری رگ جاں سے قریب کیا ٹھہرا فریب خوردہ نظر کو فریب دوں کب تک وہ ایک ابر تھا کیا آیا اور کیا ٹھہرا جدھر سے جائیے رستے ادھر ہی جاتے تھے مگر وہاں سے نکلنا تو معجزہ ٹھہرا وہ سیل تھا کہ مسافر عدم کی راہ گئے جہاز دور مگر خشکیوں پہ جا ٹھہرا جو ...

مزید پڑھیے

دن چھوٹا ہے رات بڑی ہے

دن چھوٹا ہے رات بڑی ہے مہلت کم اور شرط کڑی ہے اس کا اشارہ پا کر مر جا جینے کو اک عمر پڑی ہے بند نہیں سارے دروازے خیر سے بستی بہت بڑی ہے خوش ہیں مکیں اب دونوں طرف کے بیچ میں اک دیوار کھڑی ہے جاگ رہی ہے ساری بستی اور گلی سنسان پڑی ہے ہر پل چھوٹی ہوتی دنیا پہلے سے اب بہت بڑی ہے دل ...

مزید پڑھیے

حسن پر بوجھ ہوئے اس کے ہی وعدے اب تو

حسن پر بوجھ ہوئے اس کے ہی وعدے اب تو ترک کر اے غم دل اپنے ارادے اب تو اس قدر عام ہوئی شہر میں خوں پیرہنی نظر آتے نہیں بے داغ لبادے اب تو تو ٹھہرتا نہیں میرے لیے پھر ضد کیسی قید اس ہم سفری کی بھی اٹھا دے اب تو پیڑ نے سائے کے حرفوں میں لکھا تھا جس کو ڈوبتے چاند وہ تحریر مٹا دے اب ...

مزید پڑھیے

نکل کے گھر سے پھر اس طرح گھر گئے ہم تم

نکل کے گھر سے پھر اس طرح گھر گئے ہم تم خود اپنی راکھ اڑاتے بکھر گئے ہم تم زمانہ اپنی ادا کاریوں پہ نازاں تھا اور اپنے آپ پہ الزام دھر گئے ہم تم اسے کہو غم تاراجیٔ چمن ہو اسے حد بہار و خزاں سے گزر گئے ہم تم کبھی جہاں کے مقابل رہے تن تنہا کبھی خود اپنی ہی آہٹ سے ڈر گئے ہم تم

مزید پڑھیے

دنیا نے بس تھکا ہی دیا کام کم ہوئے

دنیا نے بس تھکا ہی دیا کام کم ہوئے تیری گلی میں آئے تو کچھ تازہ دم ہوئے عقدہ کھلا تو درد کے رشتے بہم ہوئے دامن کے ساتھ اب کے گریباں بھی نم ہوئے جب سے اسیر سلسلۂ بیش و کم ہوئے ہم کو صلیب اپنے ہی نقش قدم ہوئے بدلی ذرا جو طرز خرام ستار گاں نقطوں میں آنکھ بیچ صحیفے رقم ہوئے تھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 424 سے 6203