جدائی
شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئی سبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئی رگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلی یہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹا فضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئی دھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کے سیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئی یہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس ...