قومی زبان

جدائی

شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئی سبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئی رگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلی یہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹا فضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئی دھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کے سیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئی یہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس ...

مزید پڑھیے

آدھی رات

۱ سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیں زمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینار جدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگی اک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیں جھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیں جھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میں رسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خواب فلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں ...

مزید پڑھیے

پرچھائیاں

۱ یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہک یہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤں وہ کچھ سلگتے ہوئے کچھ سلگنے والے الاؤ سیاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزول لٹوں کو کھول دے جس طرح شام کی دیوی پرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیں قریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیں یہ کائنات کا ٹھہراؤ یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4195 سے 6203