قومی زبان

شام عیادت

یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئے شباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئے دھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئی چٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئے لبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہے کنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئے قدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزر ادا ادا میں بے شمار ...

مزید پڑھیے

آزادی

مری صدا ہے گل شمع شام آزادی سنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادی لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی مجھے بقا کی ضرورت نہیں کہ فانی ہوں مری فنا سے ہے پیدا دوام آزادی جو راج کرتے ہیں جمہوریت کے پردے میں انہیں بھی ہے سر و سودائے خام آزادی بنائیں گے نئی دنیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4194 سے 6203