قومی زبان

جس میں نہ خوشی ہو وہ محبت نہیں اچھی

جس میں نہ خوشی ہو وہ محبت نہیں اچھی کلفت سے جو خالی ہو وہ راحت نہیں اچھی کہتا ہے حسینوں کی محبت نہیں اچھی اور ناصح کم فہم یہ عادت نہیں اچھی تم پر جو نہ آ جائے تو وہ دل نہیں اچھا تم پر جو نہ مائل ہو طبیعت نہیں اچھی بے دل لئے دیتے ہو جو تم غیروں کو بوسے نقصان ہے اس میں یہ مروت نہیں ...

مزید پڑھیے

دل مرا جب تک کسی کے حسن پر مائل نہ تھا

دل مرا جب تک کسی کے حسن پر مائل نہ تھا زندگی میں زندگی کا لطف کچھ حاصل نہ تھا میرے حصے کا کوئی ساغر سر محفل نہ تھا تیرے مے نوشوں میں ساقی کیا میں اس قابل نہ تھا جاں بہ لب محفل میں ان کی میں نہ تھا یا دل نہ تھا کون تھا جو ان کے تیر ناز کا گھائل نہ تھا اک نظر ملتے ہی ان کا ہو گیا کیا ...

مزید پڑھیے

تو اگر بے نقاب ہو جاتا

تو اگر بے نقاب ہو جاتا تو ہر اک فیضیاب ہو جاتا تارے سب ماہتاب ہو جاتے ماہتاب آفتاب ہو جاتا لکھتے دیوان میں جو وصف رخ ہر ورق آفتاب ہو جاتا تو بتاتا جو راہ مے خانہ شیخ کار ثواب ہو جاتا امتحاں لیتے ہیں وہ مقتل میں پہلے میں انتخاب ہو جاتا تھی ہوائے خودی بھری اس میں کیوں نہ بے خود ...

مزید پڑھیے

پنشن یافتہ معشوق

فراق صاحب اور ساحر ہوشیارپوری ایک ساتھ امرتسر کے ایک ہوٹل میں پہنچے۔ ساحرنے ہوٹل کا رجسٹر بھرنا شروع کیا۔ فراق صاحب پاس کی ایک کرسی پر بیٹھ گئے ۔ ساحرصاحب پیشہ کے خانہ پر پہنچے تو فراق صاحب کی طرف مڑکر بولے: ’’کیوں صاحب، میں اپنا پیشہ کیا لکھ دوں؟‘‘ ’’معشوق لکھ دو۔‘‘ فراق ...

مزید پڑھیے

ماضی پرست کی حماقت

ایک ماضی پرست ادیب کسی جگہ فخریہ انداز میں بیان کررہے تھے : ’’پچھلے دنوں اپنے مکان کی تعمیر کے لئے مجھے اپنے گاؤں جانا پڑا۔ جب زمین کھدوائی گئی تو بجلی کی تاریں دستیاب ہوئیں اور بجلی کی وہ تاریں اندازاً دو تین ہزار سال پرانی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دو تین ہزار سال پہلے ...

مزید پڑھیے

فراق کا ناڑا

ایک مشاعرے میں ہر شاعر اپنا کلام کھڑے ہوکر سنارہا تھا ۔ فراق صاحب کی باری آئی تو وہ بیٹھے رہے اور مائیک ان کے سامنے لاکر رکھ دیاگیا ۔ مجمع سے ایک شور بلند ہوا: ’’کھڑے ہوکر پڑھئے...کھڑے ہوکر پڑھئے ۔‘‘ جب شور ذرا تھما تو فراق صاحب نے بہت معصومیت کے ساتھ مائیک پر اعلان کیا: ’’میرے ...

مزید پڑھیے

شیطان بولتا ہے

تقریباً1944ء میں ایک بار جوش الہ آباد یونیورسٹی گئے ۔ ادبی تقریب میں ڈائس پر جوش کے علاوہ فراق بھی موجود تھے ۔ جوش نے اپنی طویل نظم’’ حرف آخر‘‘ کا ایک اقتباس سنایا۔ اس میں تخلیق کائنات کی ابتداء میں شیطان کی زبانی کچھ شعر ہیں ۔ جوش شیطان کے اقوال پر مشتمل اشعار سنانے والے تھے کہ ...

مزید پڑھیے

فراق اور جھا صاحب

الہ آباد یونیورسٹی میں کچھ لوگ فراق اور ڈاکٹر امرناتھ جھاکو لڑانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے ۔ایک بار ایک محفل میں فراق اور جھا دونوں موجود تھے ۔ دونوں کو تقریر بھی کرنا تھا۔ انگلش ڈپارٹمنٹ کے ایک لکچرر نے جس کی مستقلی کا معاملہ زیر غور تھا ، کہنا شروع کیا کہ فراق صاحب اپنے کو کیا ...

مزید پڑھیے

مانگے کے پیسوں سے تواضع

ایک ترقی پسند شاعر جو شراب کے بے حد رسیا تھے ، فراق صاحب کے گھر پہنچے اور پریشان حال صورت بناکر بولے: ’’فراق صاحب ! بات عزت پر آگئی ہے میں بہت پریشان ہوں۔ کسی طرح تیس روپیہ ادھار دے دیجیے ۔‘‘ فراق صاحب کچھ کہنے والے تھے کہ وہ بولے: ’’دیکھیے انکار نہ کیجیے گا... میری آبروخطرے میں ...

مزید پڑھیے

قوالی اور شعر کا فرق

الہ آباد کے مشاعرے میں فراق صاحب کو اپنی عادت کے خلاف کافی دیر بیٹھنا پڑا اور دوسرے شاعروں کو سننا پڑا۔ فراق صاحب کی موجودگی میں جن شاعروں نے پڑھا وہ سب اتفاق سے پاٹ دار آواز اور گلے باز تھے ۔ وہ باری باری آئے اور پھیکی غزلوں کو سرتال پرگا کر چلے گئے ۔جب فراق صاحب مائیک پرآئے ۔ ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4188 سے 6203