قومی زبان

شاعر بد کردار کیوں؟

ڈاکٹر اعجاز حسین الہ آباد یونیورسٹی میں غزل پڑھا رہے تھے ۔فراق صاحب بھی وہاں بیٹھے تھے ۔ انہوں نے ڈاکٹر اعجاز حسین سے سوال کیا ۔ ’’ایسا کیوں کہا جاتا ہے کہ غزل گو شعراء عام طور سے بد کردار ہوتے ہیں۔‘‘ اعجاز صاحب برجستہ بولے۔ ’’ان کے سامنے آپ کی مثال رہتی ہے ۔‘‘ کلاس میں ایک ...

مزید پڑھیے

خالص گھی کا پکوان

ایک مرتبہ جگن ناتھ آزاد الہ آباد میں فراق گورکھپوری کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جب کھانا لایا گیا تو فراق نے آزاد سے مخاطب ہوکر کہا۔ ’’کھایئے آزاد صاحب ! نہایت لذیذ گوشت ہے۔‘‘ آزاد نے مذاق سے کام لیتے ہوئے ایک عام سا فقرہ چست کردیا ۔ ’’آپ کھائیے ، ہم تو روز ہی کھاتے ہیں ۔‘‘ فراق ...

مزید پڑھیے

کس سے جھگڑیں؟

فراق صاحب جب پاکستان کے دورے سے واپس آئے جہاں ان کی بڑی آؤ بھگت ہوئی تھی ، تو کچھ لوگ ان سے ملنے آئے ۔ اس زمانے میں دونوں ملکوں میں آمدورفت پر بڑی پابندیاں تھیں اور لوگ ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کے بڑے خواہشمند رہتے تھے ۔ فراق صاحب نے ان لوگوں کو پاکستان کے بارے میں بہت سی باتیں ...

مزید پڑھیے

مگر غزل تو مری نہیں

دہلی کے ایک شاعر جوایک سرکاری افسر بھی تھے ، ایک بار الہ آباد تشریف لائے اور فراق صاحب سے فرمائش کی کہ وہ ان کے نئے مجموعۂ کلام پر کچھ لکھ دیں۔ فراق نے مروت میں چند رسمی کلمات لکھ دیئے ۔ مثلاً یہ کہ: ’’یہ شاعر ہیں...شعر کہتے ہیں.......دہلی میں رہتے ہیں ......سرکاری ملازم ہیں ......مجموعۂ ...

مزید پڑھیے

وصل میں پھیر کے منہ ہائے کسی کا کہنا

وصل میں پھیر کے منہ ہائے کسی کا کہنا ہم نہ مانیں گے نہ مانیں گے کسی کا کہنا ایک دشمن ہے کہ تم سنتے ہو اس کا کہنا ایک میں ہوں کبھی ہوتا نہیں میرا کہنا دل ربا کہتا ہے اے یار دلارا کہنا ایک تو نام ہیں دو پھر تجھے کیا کیا کہنا ہم مناتے ہیں تمہیں بہر خدا من جاؤ مان لو مان لو اے جان ...

مزید پڑھیے

تیری تصویر کو تسکین جگر سمجھے ہیں

تیری تصویر کو تسکین جگر سمجھے ہیں تیرے دیدار کو ہم ذوق نظر سمجھے ہیں قہر کی آنکھوں سے تم نے ہمیں جب بھی دیکھا ہم اسے عین محبت کی نظر سمجھے ہیں ہے یہی ان کا سمجھنا تو خدا حافظ ہے طالب خیر کو وہ بانئ شر سمجھے ہیں ان کی مانند کوئی صاحب ادراک کہاں جو فرشتے نہیں سمجھے وہ بشر سمجھے ...

مزید پڑھیے

فراق کا اکیلا پن اور چور کی آمد

فراق صاحب کی ساری زندگی تنہائی میں گزری ۔ آخری زمانے میں تو گھر میں نوکروں کے سوا اور کوئی نہیں رہتا تھا۔ کبھی کبھی تو تنہا اتنے بڑے گھر میں خاموش بیٹھے ہوئے سگریٹ پیا کرتے تھے۔خاص طورسے شام کو یہ تنہائیاں دردناک حد تک گہری ہوجاتی تھیں۔ ایک ایسی ہی شام کو نوکر بازار گیا ہوا تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4189 سے 6203