جو چاہیے تھا وہ نہ ملا آسمان سے
جو چاہیے تھا وہ نہ ملا آسمان سے ٹھکرا کے لوٹ آئے ستاروں کو شان سے یہ سوچ کر کے چھاؤں میں بیٹھا نہ میں کبھی ٹوٹے نہ حوصلہ ترا میری تھکان سے تلووں کو چاٹنے سے ہر اک کام بن پڑا محنت نہ دے سکی وہ جو پایا زبان سے لیکن وہ زخم بھر گیا دہشت نہیں گئی سب یاد آنے لگتا ہے اس کے نشان سے ہم سے ...