قومی زبان

جو چاہیے تھا وہ نہ ملا آسمان سے

جو چاہیے تھا وہ نہ ملا آسمان سے ٹھکرا کے لوٹ آئے ستاروں کو شان سے یہ سوچ کر کے چھاؤں میں بیٹھا نہ میں کبھی ٹوٹے نہ حوصلہ ترا میری تھکان سے تلووں کو چاٹنے سے ہر اک کام بن پڑا محنت نہ دے سکی وہ جو پایا زبان سے لیکن وہ زخم بھر گیا دہشت نہیں گئی سب یاد آنے لگتا ہے اس کے نشان سے ہم سے ...

مزید پڑھیے

میں شاعر ہوں تو کیا روتا رہوں گا

میں شاعر ہوں تو کیا روتا رہوں گا لہو کے داغ ہی دھوتا رہوں گا زمیں آنکھوں کی ہو جائے گی بنجر مسلسل خواب اگر بوتا رہوں گا تیری زلفیں نہیں ہوں گی تو پھر میں شجر کی چھاؤں کا ہوتا رہوں گا یہ کب سوچا تھا جب کھو جاؤ گے تم جسے بھی پاؤں گا کھوتا رہوں گا تیری آنکھیں کھلیں گی تب تلک تو میں ...

مزید پڑھیے

کبھی ڈرائے کبھی خود ہی ڈرنے لگتی ہے

کبھی ڈرائے کبھی خود ہی ڈرنے لگتی ہے حیات حرکت اطفال کرنے لگتی ہے میں تنگ آ کے جہاں سے جو دیکھتا ہوں تجھے میری نظر کی تھکاوٹ اترنے لگتی ہے میری رگوں میں لہو شور بن کے دوڑتا ہے میرے لبوں پہ خموشی ٹھہرنے لگتی ہے میں اپنے کمرے میں سگریٹ پیتا رہتا ہوں دھواں دھواں تیری صورت ابھرنے ...

مزید پڑھیے

جنوں میں دیر سے خود کو پکارتا ہوں میں

جنوں میں دیر سے خود کو پکارتا ہوں میں جو غم ہے دامن صحرا میں وہ صدا ہوں میں بدل گیا ہے زمانہ بدل گیا ہوں میں اب اپنی سمت بھی حیرت سے دیکھتا ہوں میں حیات ایک سزا ہے بھگت رہا ہوں میں در قبول سے لوٹی ہوئی دعا ہوں میں جسے خود آپ ہی اپنے پہ پیار آ جائے جفا کے دور میں وہ لغزش وفا ہوں ...

مزید پڑھیے

بجلی گری تو سوچ کے سب تار کٹ گئے

بجلی گری تو سوچ کے سب تار کٹ گئے یک لخت روشنی سے اندھیرے لپٹ گئے صحرا نوردیوں میں تو محفوظ تھے مگر شہروں کے آس پاس ہی خیمے الٹ گئے ملنے کو چند روز ملے تھے سکون کے دن اپنی عمر کے تو بہرحال گھٹ گئے سائے کہ پھیلتے ہی چلے تھے زمین پر سورج نے جوں ہی آنکھ دکھائی سمٹ گئے انجام کار خود ...

مزید پڑھیے

بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیں

بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیں وہ نہ آئے گا پھر بھی انتظار کرتے ہیں لوگ اب محبت میں کاروبار کرتے ہیں دل بچا کے رکھتے ہیں جاں شکار کرتے ہیں عشرتیں جہاں بھر کی بس انہیں کا حصہ ہے جو روش زمانے کی اختیار کرتے ہیں شخصیت میں جھانکیں تو اور ہی تماشہ ہے باتیں جو نصیحت کی بے شمار ...

مزید پڑھیے

تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیں

تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیں سفر جاری قدم ٹوٹے ہوئے ہیں بظاہر تو ہیں سالم جسم و جاں سے مگر اندر سے ہم ٹوٹے ہوئے ہیں ادھورے ہیں یہاں سارے کے سارے سبھی تو بیش و کم ٹوٹے ہوئے ہیں برا ہو اعتماد باہمی کا کہ سب قول و قسم ٹوٹے ہوئے ہیں تعلق ٹوٹنے کو ہے جہاں سے چلو کہ بند غم ٹوٹے ہوئے ...

مزید پڑھیے

بجلی کی زد میں ایک مرا آشیاں نہیں

بجلی کی زد میں ایک مرا آشیاں نہیں وہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیں بلبل کو غم ہے گل کے نگہباں نہیں رہے گلچیں ہے خوش کہ اب کوئی دامن کشاں نہیں منزل کا ملنا ذوق تجسس کی موت ہے اچھا ہے جو حیات مری کامراں نہیں چشم کرم نہیں نگۂ خشمگیں تو ہے نا مہرباں تو ہیں وہ اگر مہرباں نہیں وہ ...

مزید پڑھیے

جور بے جا کو جو کہتے ہو بجا ہے وہ بھی

جور بے جا کو جو کہتے ہو بجا ہے وہ بھی دست قاتل پہ لہو ہے کہ حنا ہے وہ بھی لوگ خوش ہیں اسے دے دے کے عبادت کا فریب وہ مگر خوب سمجھتا ہے خدا ہے وہ بھی آج بس آج ہے کیا ذکر گذشتہ کل کا لاکھ سونا سہی مٹی میں دبا ہے وہ بھی تم جسے جبر و ستم قہر و غضب کہتے ہو اپنے اعمال کی دراصل سزا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئی

خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئی ان ہواؤں کو حبابوں میں نہ رکھے کوئی چند لمحوں کا یہ جینا ہے غنیمت جانو زندگی اپنی عذابوں میں نہ رکھے کوئی آج ہر فرد ہے اک حسرت تعبیر لیے اب خیالات کو خوابوں میں نہ رکھے کوئی کام تحقیق کے عنواں پہ بڑھے گا کیسے گر سوالوں کو جوابوں میں نہ رکھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4153 سے 6203