قومی زبان

ندی

میں ندی ہوں اور مجھے فخر ہے اس بات کا کہ میں ندی ہوں چلتے رہنا میری عادت ہے اپنے راستے خود بنانا آتا ہے مجھے اور اچھا بھی لگتا ہے میں نہیں چاہتی کہ کوئی ایک دائرہ کھینچ کے بتا دے مجھے کہ اب تا عمر مجھے یہیں رہنا ہے ایک چھوٹا سا گول سا محفوظ دائرہ جہاں نا مجھے پتھروں سے ٹکرانا ...

مزید پڑھیے

میں کیسے بھولوں وہ راتیں

میں کیسے بھولوں وہ راتیں ایک رستہ چاند بناتا تھا جو خوابوں تک لے جاتا تھا ہم گھنٹوں کرتے تھے باتیں میں کیسے بھولوں وہ راتیں ننھے تاروں کے ساتھ کبھی جب آنکھ‌ مچولی کرتے تھے کچھ ہنستے تھے کچھ چڑھتے تھے کچھ باتیں بھولی کرتے تھے دیکھیں تھیں ہم نے ساتھ کئی ننھے تاروں کی باراتیں میں ...

مزید پڑھیے

کرایہ دار

ارے آؤ بے فکر ہو کے آؤ میری زندگی میں گھبراؤ نہیں کوئی ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوگی تم سے آؤ تو دراصل یہاں کچھ باقی ہی نہیں ٹوٹنے کو ہاں کچھ پرانے خوابوں کی کرچیں ہیں تمہارے آنے تک صاف ہو جائیں گی اس کے بعد جو ہوگا سب تمہارا ہی ہوگا جاتے وقت جو کچھ سلامت بچے لے جانا خوابوں کی کرچیں گر رہ ...

مزید پڑھیے

تم آؤ گے

میں نے پوچھا تھا ستاروں سے اور اس پیلے گلاب کی پنکھڑیوں سے بھی ان کا سب کا ماننا تھا کہ وہ ہوا کا جھونکا سچ کہہ رہا تھا کہ تم آؤ گے پھر میں نے باقی سب سے بھی پوچھا وہ نیم کا درخت اس میں رہنے والی وہ چڑیا اس کے ساتھ کھیلنے والی نرم دھوپ اور ٹہنیوں میں چھپنے والا چاند ایک ایک کر سب سے ...

مزید پڑھیے

نفرت

جو لوگ تم سے نفرت کرتے ہوں گے اب کچھ تو کرتے ہی ہوں گے آخر کس بات پہ نفرت کرتے ہوں گے بہت ڈھونڈھی ہے میں نے بھی وہ ایک بات یا وہ ساری باتیں جو میرے دل میں بھی نفرت پیدا کر دیں زیادہ نہیں بس اتنی کہ میں سکون سے جی سکوں دو ایک نکیلے عیب جن سے کھرچ دوں تمہاری تصویر ان آنکھوں سے اور چین ...

مزید پڑھیے

ایسا کب تک چلے گا

کچھ کہنا ہے اور کچھ نہ کہے چلے جانا یہ کب تک چلے گا تمہارا ہم پر یوں مر مر کے جیے جانا ایسا کب تک چلے گا یہ جو تم نئے بہانوں سے ہمیں دیکھنے آتے ہو سب سمجھ آتا ہے ہم تمہیں دیکھ لیں اور تمہارا بے ساختہ منہ پھیر جانا ایسا کب تک چلے گا لو آ گئے تمہارے دوست پھر قاصد بن عاشق کا حال برا ہے ...

مزید پڑھیے

ہدایت

یہ جو تم میری خامیاں گنائے جا رہے ہو لکھ لوں کے ذرا یاد رہ جائے کروں میں بھی عشق بے حد سوچ سمجھ کر زندگی بھر کا مجھے بھی مفاد رہ جائے غضب مسئلہ ہے یہ محبت تمہاری سلجھا لو کہیں وہ لفظ اور یہ حرکت تمہاری نہ تضاد رہ جائے لیتے جاؤ یہ لکھے خط بھی تمہارے میرے آگے بڑھنے میں نہ یہ فساد رہ ...

مزید پڑھیے

تمہیں میری فکر نہیں

جس طرح رات کو ٹوٹے تارے کی نہیں گہرے سمندر کو آنسو کھارے کی نہیں گھمنڈی امارت کو اندروں گارے کی نہیں ہاں جیسے تھوڑے کو باقی سارے کی نہیں جس طرح گئے کو واپس پکارے کی نہیں حاکم شاہی کو کل کے مارے کی نہیں گزرے وقت کو پل گزارے کی نہیں ہاں جیسے عشق کو اس میں ہارے کی نہیں یعنی اس ...

مزید پڑھیے

سر کیا زلف کی شب کو تو سحر تک پہنچے

سر کیا زلف کی شب کو تو سحر تک پہنچے ورنہ ہم لوگ کہاں حسن نظر تک پہنچے آج پلکوں پہ مری جشن چراغاں ہوگا کتنے انمول گہر دیدۂ تر تک پہنچے میری راتوں کا اندھیرا بھی دعائیں دے گا اک ستارہ جو اتر کر مرے گھر تک پہنچے کون کہتا ہے کہ خورشید اتر کر آئے ایک جگنو ہی مگر خاک بسر تک پہنچے جو ...

مزید پڑھیے

طوفاں بدل گئے کبھی دھارے بدل گئے

طوفاں بدل گئے کبھی دھارے بدل گئے موجوں کے ساتھ ساتھ کنارے بدل گئے غم ہائے زندگی کے سہارے بدل گئے مستی بھری نظر کے اشارے بدل گئے طاری فضائے کیف پہ بے کیفیاں سی تھیں اٹھی جو وہ نظر تو نظارے بدل گئے اس واردات خاص کا کس سے کروں گلہ بدلے ہیں جب سے آپ ستارے بدل گئے ٹھنڈی ہوئی نہ اشک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4149 سے 6203