قومی زبان

سیڑھیاں

چڑھتی کہیں کہیں سے اترتی ہیں سیڑھیاں جانے کہاں کہاں سے گزرتی ہیں سیڑھیاں یادوں کے جھلملاتے ستارے لئے ہوئے ماضی کی کہکشاں سے اترتی ہیں سیڑھیاں لیتی ہیں یوں سفر میں مسافر کا امتحاں ہموار راستوں پہ ابھرتی ہیں سیڑھیاں کرتی ہیں سر غرور کا نیچے اتار کر پستی کا سر بلند بھی کرتی ...

مزید پڑھیے

بیوی اور پتلون

بیگم سے کہا ہم نے جو فرصت ہے آپ کو پتلون میں ہماری بٹن ایک ٹانک دو غصے سے بولیں آپ ہی خود ٹانک لیں جناب بیوی کا جب مذاق اڑاتے رہے ہیں آپ بیوی بغیر آدمی ہوتے نہیں پورے میں نہ رہوں تو آپ بھی رہ جائیں ادھورے یوں تو بٹن کا ٹانکنا چھوٹا سا کام ہے یہ کام بھی تو لائق صد احترام ...

مزید پڑھیے

مجھے کس طرح سے نہ ہو یقیں کہ اسے خزاں سے گریز ہے

مجھے کس طرح سے نہ ہو یقیں کہ اسے خزاں سے گریز ہے جو نسیم‌ صبح بہار کو مرے گلستاں سے گریز ہے یہ عبودیت کا ہے اقتضا کہ اسی پہ خم ہو مری جبیں یہ غلط کسی نے ہے کہہ دیا ترے آستاں سے گریز ہے ہے عجیب قسم کی بد ظنی مجھے اس کی کوئی خبر نہیں گل و خار کو بھی بہار میں مرے گلستاں سے گریز ہے کچھ ...

مزید پڑھیے

مرے مدعائے الفت کا پیام بن کے آئی

مرے مدعائے الفت کا پیام بن کے آئی تری زلف کی سیاہی مری شام بن کے آئی ہوئی کاشف حقیقت یہ ضمیر مے کدہ کی مری بے خودی جو درد تہ جام بن کے آئی تری اک ادا تھی یہ بھی گل و خار کو جگانے جو نسیم صبح گاہی کا خرام بن کے آئی یہ صبا کی بے رخی تھی سوئے آشیاں جو گزری نہ سلام لے کے آئی نہ پیام بن ...

مزید پڑھیے

زباں ساکت ہو قطع گفتگو ہو

زباں ساکت ہو قطع گفتگو ہو نظر ہی سے بیان آرزو ہو جہاں میں ہوں وہاں پر تو ہی تو ہو جہاں تو ہو جہان رنگ و بو ہو شہید ناز یوں ہی سرخ رو ہو شفق منہ پر ہو دامن پر لہو ہو وفور یاس و جوش ابتلا میں زباں پر آیت‌ لا‌ تقنطوا ہو جو رنگ گل سے ٹپکا ہے چمن میں نہ میری ہی تمنا کا لہو ہو حریم ...

مزید پڑھیے

موت

کیا ہر موت کے لئے ضروری ہوتی ہیں رکی ہوئی سانسیں پتھرائی آنکھیں چار کندھے اور گھر سے شمشان تک کی آخری دنیا داری کبھی کبھی موت کی نشانی ہوتیں ہے عمر سے زیادہ سمجھ داری والی باتیں ہمیشہ ہنسنے والے چہرے اور کبھی نا لڑنے والی محبتیں

مزید پڑھیے

سوال

جب میں نے کہا تھا تم سے کے مجھے تم سے محبت نہیں اور ایک گہری سانس لی تھی تم نے وہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک سوال تھا جواب تھی وہی گہری سانس

مزید پڑھیے

ایک عام واقعہ

مجھے نا سمجھنے والے کچھ نا سمجھنے والے اکثر ملتے ہیں اور آگے بھی ملتے رہیں گے دیکھو تمہارے ہونے نا ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں آیا ان کی بے رخی اکثر تمہاری شکل لے لیتی ہے اور مجھے تمہاری کمی کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کاش تمہیں بھی کچھ ایسے پاگل لوگ ملیں جو تمہیں سمجھنے کی ضد میں ...

مزید پڑھیے

صبحوں جیسے لوگ

صبحوں جیسے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں نا لگتا ہے کہ بہت الگ ہیں باقی لوگوں سے لیکن امیدوں کے باعث وہ لوگ بھی اکثر ایک عرصے بعد کسی عام دن کی طرح ڈھل کے ناامیدی کی لمبی رات بن جاتے ہیں ان سے بہتر تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو خاموش شاموں کی طرح امیدیں نہیں مگر سکون ضرور دیتے ہیں تم آئے تو تھے ایک ...

مزید پڑھیے

اتوار کی دوپہر

اتوار کی دوپہر تو ہمیشہ ہی اچھی ہوتی ہے بالکل تمہاری طرح بے فکر بے پرواہ آزاد میں نے بھی ہمیشہ اسے اپنے ہی طریقے سے بتایا ہے پر جانے کیوں کچھ عرصے سے جب بھی یہ سکون بھرا وقت اپنے ساتھ بتانے کی کوشش کی تم دور دراز کے وقتوں سے نکل کے چپ چاپ میرے قریب بیٹھ جاتے ہو میرے ہاتھوں کی کھلی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4148 سے 6203