سیڑھیاں
چڑھتی کہیں کہیں سے اترتی ہیں سیڑھیاں جانے کہاں کہاں سے گزرتی ہیں سیڑھیاں یادوں کے جھلملاتے ستارے لئے ہوئے ماضی کی کہکشاں سے اترتی ہیں سیڑھیاں لیتی ہیں یوں سفر میں مسافر کا امتحاں ہموار راستوں پہ ابھرتی ہیں سیڑھیاں کرتی ہیں سر غرور کا نیچے اتار کر پستی کا سر بلند بھی کرتی ...