اجنبی چمن میں
نہ بنا سکا نشیمن کسی اجنبی چمن میں مرا گھر جلا ہے جب سے مرے اپنے ہی وطن میں مرے ذوق خوش لباسی کو فرشتے بھی تو دیکھیں میں مروں تو دفن کرنا ٹیری لین کے کفن میں یہ ہے بے ثبات دنیا اسی دم کے مرغ کی سی جو صبح پکا کچن میں مگر آیا نہ ٹفن میں مزہ گل کے توڑنے کا تو ملا بہت اے گلچیں ملی لذت ...