قومی زبان

ملن

جب حسینوں کی تصاویر کتابوں میں ملیں کورے کاغذ ہی سوالوں کے جوابوں میں ملیں دن کو تھیٹر میں ملیں رات کو باغوں میں ملیں مل نے والے جو ملیں کچھ تو حجابوں میں ملیں چاہنے والوں کا اس طرح چمن میں ہو ملن جس طرح پھول چنبیلی کے گلابوں میں ملیں نا میں دولہا ہوں نیا اور نہ نئی دولہن ...

مزید پڑھیے

باتیں کرو

رات بھر اقرار کی باتیں کرو صبح دم انکار کی باتیں کرو الجھنیں دل کی بڑھانی ہوں اگر گیسوئے خم دار کی باتیں کرو ہیں نگاہیں سیر اور ابرو کماں یار با ہتھیار کی باتیں کرو مہ‌ وشو اتنے برے بھی ہم نہیں آؤ ہم سے پیار کی باتیں کرو صرف پہلی ہی کے دن اے دوستو ساز اور جھنکار کی باتیں ...

مزید پڑھیے

کیا ہے

گیا ہو جیل نہ جب تک وہ کیا جانے سزا کیا ہے رہائی میں ہے کیا دقت اسیری میں مزا کیا ہے ہماری شادی خانہ آبادی محبت با مشقت ہے جہاں بیوی مری جج ہو وہاں میری رضا کیا ہے یہ مجھ سے پوچھ بیٹھی ایک دن لڑکا نما لڑکی وفا ہے نام کس چڑیا کا اور شرم و حیا کیا ہے کہا میں نے یہ اس کہ یہ اس عورت کے ...

مزید پڑھیے

طنزیہ غزل

شاعری میں نہ کبھی شکوۂ رسوائی کر اپنے اشعار کی تو خود ہی پذیرائی کر تیرے ویران شب و روز بھی رنگیں ہوں گے بس کسی طرح حسینوں سے شناسائی کر جو مریضان محبت ہیں غموں کے مارے ان کی اشعار ظرافت سے مسیحائی کر پیٹ کی آگ بجھا محنت و مزدوری سے وقت بچ جائے تو مشق سخن آرائی کر بھول کر عشق ...

مزید پڑھیے

جو کچھ مجھ سے کمایا جا رہا ہے

جو کچھ مجھ سے کمایا جا رہا ہے محض گھر کا کرایہ جا رہا ہے ثبوتوں کو مٹایا جا رہا ہے یوں سچ کا قد گھٹایا جا رہا ہے وہ پتھر سے زیادہ کچھ نہیں ہے تو پھر سر کیوں جھکایا جا رہا ہے نہیں نیت مدد کی ہاتھ پھر بھی بڑھانے کو بڑھایا جا رہا ہے حقیقت ہم سے ہے منہ پھیر بیٹھی سو خوابوں کو جگایا ...

مزید پڑھیے

تھک گئے سب کہتے دیوانہ ہمیں

تھک گئے سب کہتے دیوانہ ہمیں آپ نے ہی دیر سے جانا ہمیں بات چبھتی ہے اسے تھوڑی مگر ایسے ہی آتا ہے سمجھانا ہمیں اس نے ہونٹوں سے پلائی دیر تک آ گیا ہے راس مے خانہ ہمیں بعد مدت کے ملا وہ دل مکیں ہائے پوچھے ہے کہ پہچانا ہمیں

مزید پڑھیے

آنکھیں

لڑاؤ ہر کسی سے یوں نہ تم بے ساختہ آنکھیں کہیں بدنام نہ ہو جائیں شہرت یافتہ آنکھیں مروت رحم اور شرم و حیا ان میں نہیں ہوتی دکھانے کے لئے ہوتی ہیں جو خود ساختہ آنکھیں کبھی خود بند ہو کر راہ دل مسدود کرتی ہیں کبھی دیتی چلی جاتی ہیں دل تک راستہ آنکھیں کہیں فتنہ گری سے ہیں سکون و ...

مزید پڑھیے

پہلے تھی سو اب بھی ہے

ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے بدن پر اک پھٹی لنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکن پرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ادھر میں کثرت اولاد سے لاغر ادھر ان کی زباں پر ترش نارنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے بنا ہیرو سے زیرو اور پھر ...

مزید پڑھیے

ایک غریب شاعر کی موت پر

لمحوں میں زندگی کا سفر یوں گزر گیا سائے میں جیسے کوئی مسافر ٹھہر گیا مخمور تھا نشے میں غم روزگار کے ہوش آ گیا تو عمر کا پیمانہ بھر گیا دولت بھی اس کے ہاتھ نہ آئی تمام عمر کچھ نام ہی نہ اپنا زمانے میں کر گیا سب اس کے خیر خواہ بلندی پہ رہ گئے شہرت کی سیڑھیوں سے وہ نیچے اتر ...

مزید پڑھیے

واپسی

ایک دن جب تنگ مجھ پر ہو گئی ارض دکن تب مہاجر بن کے نکلا باندھ کر سر سے کفن کتنے ہی برسوں عذاب اجنبیت بھی سہا ذہن و دل پر جھیلتا ہی رہ گیا رنج و محن مفلسی میں بھی توکل پر گزارہ یوں کیا پیرہن صبر و قناعت کا رہا ہے زیب تن خاک چھانی در بہ در کی ٹھوکریں کھائیں بہت پر مجھے مصروف رکھتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4145 سے 6203