قومی زبان

پتھر

میں اک معصوم شہری تھا شرافت سے سبھی کے ساتھ رہتا تھا مہذب طور سے جیتا تھا سب کے کام آتا تھا کبھی میں نے کسی کا دل نہیں توڑا کسی کا سر نہیں پھوڑا کسی ترکش سے کوئی تیر کیا تنکا نہیں چھوڑا کسی کی پیٹھ میں خنجر نہیں بھونکا کسی کے جسم پر بارود کا گولا نہیں پھینکا کسی کو آگ میں میں نے ...

مزید پڑھیے

جادو کی ڈبیا

سنو چنو منو مرے پاس آؤ شکیلہ جمیلہ کو بھی ساتھ لاؤ یہ دیکھو مرے پاس کیا آ گئی ہے یہ چھوٹی سی ڈبیا بڑے کام کی ہے یہ ڈبیا نہیں منتروں کی چھڑی ہے سنو اس میں جادو کی پڑیا پڑی ہے اسے جب گھماؤ تو دنیا گھمائے یہ گھر بیٹھے بیٹھے سیاحت کرائے اسے کھٹکھٹاؤ تو گھونگھٹ اٹھائے ہمیں چاند سی اپنی ...

مزید پڑھیے

انشا

کبھی کھل کے جب کھلکھلاتی ہے انشا فضاؤں میں سرگم بجاتی ہے انشا ہر اک لب پہ تتلی بٹھاتی ہے انشا جھڑی قہقہوں کی لگاتی ہے انشا مسرت کی دنیا بساتی ہے انشا مرے گھر کو جنت بناتی ہے انشا کبھی مائشہ کو ہنساتی ہے انشا کبھی مائشہ کو رلاتی ہے انشا کبھی پاس اس کو بلاتی ہے انشا کبھی دور اس کو ...

مزید پڑھیے

زوال

کل تلک جو دھرتی پر سر بلند پرچم تھا آفتاب کی صورت رنگ جس کے چہرے کا دور تک چمکتا تھا آج اس سے لپٹی ہیں ٹڈیاں ہواؤں کی سرخیوں کے شعلوں کو لے رہی ہیں نرغے میں بدلیاں فضاؤں کی مارکسؔ جی کے پتلے پر بیٹھا کالا کوا ایک بیٹ کرنے والا ہے پاس ہی میں نعرہ ایک انقلاب زندہ باد گونجتا ہے رہ رہ ...

مزید پڑھیے

دھرتی

دھرتی کتنی اچھی ہے دھرتی کتنی پیاری ہے دھرتی پیڑ اگاتی ہے دھرتی پھول کھلاتی ہے دھرتی رنگ بناتی ہے دھرتی نور لٹاتی ہے دھرتی کتنی اچھی ہے دھرتی کتنی پیاری ہے دھرتی سب کو پانی دے چہرہ سب کو دھانی دے سب کو جوش جوانی دے خوں میں مست روانی دے دھرتی کتنی اچھی ہے دھرتی کتنی پیاری ہے دھرتی ...

مزید پڑھیے

گندم کی بالیاں

بھوک سے بھری آنکھیں آسمان کی جانب تک رہی ہیں دھرتی سے اک حسین راکٹ کو جس کے سرخ پرچم پر بالیاں ہیں گندم کی بھوک سے بھری آنکھیں جانتی نہیں لیکن بالیاں تو گیہوں کی خوش نما بہانے ہیں چمچماتے خوشوں میں زہر ناک دانے ہیں سرخ سرخ دانوں میں ایٹمی بلائیں ہیں جاں گسل دوائیں ہیں

مزید پڑھیے

مائشہ

چین ہے خواب ہے کہانی ہے مائشہ میری زندگانی ہے ہر طرف اس سے شادمانی ہے ہر نظارے کا رنگ دھانی ہے رنگ میں روپ میں نزاکت میں سب میں پریوں کی وہ تو رانی ہے اس کی آنکھوں سے نور چھنتا ہے اس کے ہونٹوں پہ گل فشانی ہے ایسی نازک کہ پنکھڑی بھی نہیں پھول کوئی وہ داستانی ہے مستقل بام و در مہکتے ...

مزید پڑھیے

دوری

امی ابا کیسے ہیں ٹیڑھے ہیں یا سیدھے ہیں گم صم رہنے والے ہیں باتیں کرنے والے ہیں ذہن و دل کے کیسے ہیں گرم ہیں یا پھر ٹھنڈے ہیں پیار لٹانے والے ہیں آنکھ دکھانے والے ہیں ناز اٹھانے والے ہیں ڈانٹ پلانے والے ہیں دلی میں کیوں رہتے ہیں دلی میں کیا کرتے ہیں کھانا کون بناتا ہے ان کو کون ...

مزید پڑھیے

اپنی نظر میں بھی تو وہ اپنا نہیں رہا

اپنی نظر میں بھی تو وہ اپنا نہیں رہا چہرے پہ آدمی کے ہے چہرہ چڑھا ہوا منظر تھا آنکھ بھی تھی تمنائے دید بھی لیکن کسی نے دید پہ پہرہ بٹھا دیا ایسا کریں کہ سارا سمندر اچھل پڑے کب تک یوں سطح آب پہ دیکھیں گے بلبلہ برسوں سے اک مکان میں رہتے ہیں ساتھ ساتھ لیکن ہمارے بیچ زمانوں کا ...

مزید پڑھیے

سجا کے ذہن میں کتنے ہی خواب سوئے تھے

سجا کے ذہن میں کتنے ہی خواب سوئے تھے کھلی جو آنکھ تو خود سے لپٹ کے روئے تھے چہار سمت بس اک بے کراں سمندر ہے بتائیں کیا کہ سفینے کہاں ڈبوئے تھے تہوں میں ریت ابلتی ہے کیا پتا تھا ہمیں زمیں سمجھ کے زمینوں میں بیج بوئے تھے سیاہ رات میں بچے کی طرح چونک پڑے تمام دن جو اجالوں سے لگ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4137 سے 6203