کبھی شعور کبھی دل کبھی سخن مہکے
کبھی شعور کبھی دل کبھی سخن مہکے کہو وہ شعر کہ دنیائے فکر و فن مہکے عطا ہمیں بھی جو ہو جائے میرؔ کا انداز تو لفظ لفظ سے معنی کا پیرہن مہکے رہوں خموش تو پھولوں کو نیند آ جائے پڑھوں جو شعر تو لفظوں کا بانکپن مہکے لرزتے ہونٹوں کی وہ گفتگو تو یاد نہیں بس اتنا یاد ہے برسوں لب و دہن ...