رفتہ رفتہ آنکھوں کو حیرانی دے کر جائے گا
رفتہ رفتہ آنکھوں کو حیرانی دے کر جائے گا خوابوں کا یہ شوق ہمیں ویرانی دے کر جائے گا دیکھ کے سر پر گہرا بادل خشک نگاہیں کہتی ہیں آج ہمیں یہ ابر یقیناً پانی دے کر جائے گا کچھ ٹھہراؤ تو بے شک اس سے میرے گھر میں آیا ہے لیکن اک دن مجھ کو وہ طغیانی دے کر جائے گا آئے گا تو اک دو پل مہمان ...