کہیں محبت کے آسماں پر وصال کا چاند ڈھل رہا ہے
کہیں محبت کے آسماں پر وصال کا چاند ڈھل رہا ہے چراغ کے ساتھ طاقچے میں گلاب کا پھول جل رہا ہے بہت دنوں سے زمین اپنے مدار پر بھی نہیں ہے لیکن ابھی وہی شام چھا رہی ہے ابھی وہی دن نکل رہا ہے مجھے یقیں تھا میں ان ستاروں کے سایے میں عمر بھر چلوں گا بہت ہی آہستگی سے لیکن یہ سارا منظر بدل ...