قومی زبان

جاتے ہیں وہاں سے گر کہیں ہم

جاتے ہیں وہاں سے گر کہیں ہم ہر پھر کے پھر آتے ہیں وہیں ہم صد حیف کہ کنج بے کسی میں کوئی نہیں اور ہیں ہمیں ہم خاموشی کی مہر ہے دہن پر ہیں حلقۂ غم میں جوں نگیں ہم آیا نہ وو شوخ اور گئے آہ حسرت ہی بھرے تہ زمیں ہم تکتے رہے جانب در اے وائے مر مر کے بہ وقت واپسیں ہم کیا کیا کھینچے ہیں ...

مزید پڑھیے

متاع برگ و ثمر وہی ہے شباہت رنگ و بو وہی ہے

متاع برگ و ثمر وہی ہے شباہت رنگ و بو وہی ہے کھلا کہ اس بار بھی چمن پر گرفت دست نمو وہی ہے حکایت عشق سے بھی دل کا علاج ممکن نہیں کہ اب بھی فراق کی تلخیاں وہی ہیں وصال کی آرزو وہی ہے بدل دیے ہیں کسی نے افسوں سے کام لے کر تمام مہرے کہ سحر امروز کے مقابل نہ میں وہی ہوں نہ تو وہی ...

مزید پڑھیے

حاصل کسی سے نقد حمایت نہ کر سکا

حاصل کسی سے نقد حمایت نہ کر سکا میں اپنی سلطنت پہ حکومت نہ کر سکا ہر رنگ میں رقیب زر نام و ننگ ہوں میں وہ ہوں جو کسی سے محبت نہ کر سکا گھلتا رہا ہے میری رگوں میں بھی کوئی زہر لیکن میں اس دیار سے ہجرت نہ کر سکا پڑتا نہیں کسی کے بچھڑنے سے کوئی فرق میں اس کو سچ بتانے کی زحمت نہ کر ...

مزید پڑھیے

جب کوئی پھول مسخر نہ ہو آسانی سے

جب کوئی پھول مسخر نہ ہو آسانی سے کام لیتا ہوں وہاں نقد ثنا خوانی سے روشنی دینے لگے تھے مری آنکھوں کے چراغ رات تکتا تھا سمندر مجھے حیرانی سے کر کے دیکھوں گا کسی طرح لہو کی بارش آتش ہجر بجھے گی نہ اگر پانی سے ان کو پانے کی تمنا نہیں جاتی دل سے کیا منور ہیں ستارے مری تابانی ...

مزید پڑھیے

دیے جلائے گئے آئنے بنائے گئے

دیے جلائے گئے آئنے بنائے گئے کوئی بتائے یہاں کون لوگ آئے گئے متاع درہم و دینار پر نہیں موقوف میں سو گیا تو مرے خواب تک چرائے گئے بہت سے لوگ ستائے گئے ہیں دنیا میں مگر وہ مجھ سے زیادہ نہیں ستائے گئے چراغ سرد ہوئے دھوپ کی تمازت سے درخت نیند کے عالم میں تھرتھرائے گئے پناہ مل نہ ...

مزید پڑھیے

لرز جاتا ہے تھوڑی دیر کو تار نفس میرا

لرز جاتا ہے تھوڑی دیر کو تار نفس میرا سر میداں کبھی جب جست کرتا ہے فرس میرا میں خود سے دور ہو جاتا ہوں اس سے دور ہونے پر رہائی چاہتا ہوں اور مقدر ہے قفس میرا ذرا مشکل سے اب پہچانتا ہوں ان مناظر کو قیام اس خاک داں پر تھا ابھی پچھلے برس میرا دعا کرتا ہوں ملنے کی تمنا کر نہیں ...

مزید پڑھیے

ہوا بہت تیز چل رہی ہے چراغ جاں پھر بھی جل رہا ہے

ہوا بہت تیز چل رہی ہے چراغ جاں پھر بھی جل رہا ہے یہ کون ہے جو ہمارے پیچھے ہوا کے ہم راہ چل رہا ہے گماں کی بستی میں رہنے والو ذرا پہاڑی پہ چڑھ کے دیکھو ادھر ندی ہے وہیں سے شہر یقیں کا رستہ نکل رہا ہے سراب اندر سراب تم ہو چراغ اندر چراغ ہم ہیں ہمیں سے تاریکیاں ہیں خائف ہمیں سے ...

مزید پڑھیے

دھوپ کا احساس جانے کیوں اسے ہوتا نہیں

دھوپ کا احساس جانے کیوں اسے ہوتا نہیں وقت آوارہ ہے ٹھنڈی چھاؤں میں ہوتا نہیں جھوٹ کی دیوار سے لٹکے ہوئے جسموں کے دن ہو گئے پورے کہ سچ تو شب میں بھی سوتا نہیں ہم تکا کرتے ہیں کھڑکی سے اترتے چاند کو دوڑ کر اس کو پکڑ لیں یہ کبھی ہوتا نہیں دل عجب پتھر ہے پانی سے پگھل جائے کہیں اور ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے

نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے امید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہے نہ دیکھوں تجھ کو تو آتا نہیں کچھ آہ نظر تو میری پتلی کا آنکھوں کی یار تارا ہے مجھے جو بام پہ شب کو بلائے ہے وہ ماہ مگر عروج پہ کیا ان دنوں ستارا ہے یقین جان تو واعظ کہ دین و دنیا میں بس اس کی صرف مجھے ذات کا سہارا ...

مزید پڑھیے

شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے

شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئے کچھ ہنسانا چاہیئے اور کچھ رلانا چاہیئے زندگی کیونکر کٹے بے شغل اس پیری میں آہ تم کو اب اس نوجواں سے دل لگانا چاہیئے اس میں سب راز نہاں ہو جائیں گے ہم پر عیاں پھر اسے اک بار گھر اپنے بلانا چاہیئے پھر یہ ممکن ہے کہ میرے پاس تو اک دم رہے کچھ نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4122 سے 6203