قومی زبان

سر پر کسی غریب کے ناچار گر پڑے

سر پر کسی غریب کے ناچار گر پڑے ممکن ہے میرے صبر کی دیوار گر پڑے کیا خوب سرخ رو ہوئے ہم کار عشق میں دو چار کام آ گئے دو چار گر پڑے اس بار جب اجل سے مرا سامنا ہوا کشتی سے خواب ہاتھ سے پتوار گر پڑے روشن کوئی چراغ نہیں نخل طور پر سجدے میں کس کو دیکھ کے اشجار گر پڑے کرتی ہے فرش خاک کو ...

مزید پڑھیے

ابھی شب ہے مئے الفت انڈیلیں

ابھی شب ہے مئے الفت انڈیلیں مگر دن میں گھروں کے راستے لیں چلو رک جائیں بہر‌ دید ہم بھی دریچے پر جھکی جاتی ہیں بیلیں خدایا کاش یہ ہیرے سی آنکھیں محبت کی کڑی بازی نہ کھیلیں ارادہ ہے نہ پہچانیں اسے ہم تمنا کو یہ ضد باہوں میں لے لیں بہت عرصہ رہے ہیں ساتھ اس کے سو اب تنہائی بھی کچھ ...

مزید پڑھیے

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میرا

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میرا کہ آزمانے چلا ہے مجھے خدا میرا مرے طلسم سے آزاد بھی نہیں لیکن وہ پھول پہلی نظر میں ہوا نہ تھا میرا نعیم بصرہ و بغداد ہارنے کے بعد مرا وجود بھی شاید نہیں رہا میرا وہ میرے پاس رہے یا کہیں چلا جائے رہے گا اس کے خیالوں سے سلسلہ میرا کسی کی کھوج میں ...

مزید پڑھیے

کبھی چراغ کبھی راستہ بدل کر دیکھ

کبھی چراغ کبھی راستہ بدل کر دیکھ بہت قریب ہے منزل ذرا سا چل کر دیکھ ترے حصار سے باہر نہیں زمان و مکاں تو میری طرح کسی آئنے میں ڈھل کر دیکھ فقیر بن کے وہ آیا ہے تیری چوکھٹ پر یہ کوئی اور نہیں ہے ذرا سنبھل کر دیکھ نگار خانۂ گردوں کو راکھ کرتے ہوئے ذرا سی دیر کسی طاقچے میں جل کر ...

مزید پڑھیے

اک شمع کی صورت میں منظور کیا جاؤں

اک شمع کی صورت میں منظور کیا جاؤں اک گھر کی حفاظت پر مامور کیا جاؤں اپنے سے بچھڑنے کی کچھ فکر نہیں لیکن ایسا نہ ہو اس سے بھی اب دور کیا جاؤں اک یاد سے مس ہو کر زنجیر پگھل جائے اک گل کی محبت سے مخمور کیا جاؤں ایسا نہ ہو دنیا کی وسعت سے نکلتے ہی اپنے میں سمٹنے پر مجبور کیا جاؤں اے ...

مزید پڑھیے

جہاں میں ڈالتے رہتے ہیں ماسوا کی طرح

جہاں میں ڈالتے رہتے ہیں ماسوا کی طرح درخت چل نہیں سکتے مگر ہوا کی طرح بھٹک کر آئی تھی کچھ دیر کو ادھر دنیا لپٹ گئی مرے دل سے کسی بلا کی طرح مرے حصار سے باہر بھی وہ نہیں رہتا مرے قریب بھی آتا نہیں خدا کی طرح بہت سے رنگ اترتے ہیں میری آنکھوں میں کسی کے دھیان میں الجھی ہوئی صدا کی ...

مزید پڑھیے

رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں

رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں چراغ جل رہا ہے اور کوئی مکان میں نہیں وہ طائر نگاہ بھی سفر میں ساتھ ہے مرے کہ جس کا ذکر تک ابھی کسی اڑان میں نہیں مری طلب مرے لیے ملال چھوڑ کر گئی جو شے مجھے پسند ہے وہی دکان میں نہیں کوئی عجیب خواب تھا اگر میں یاد کر سکوں کوئی عجیب بات تھی ...

مزید پڑھیے

مل گئی ہے بادیہ پیمائی سے منزل مری

مل گئی ہے بادیہ پیمائی سے منزل مری کام آئی ہے بالآخر سعئ لا حاصل مری پاؤں دھرنے کو میسر آ نہیں پاتی زمیں ناؤ رک جاتی ہے آ کر جب لب ساحل مری اک کمی میری تگ و دو میں کہیں موجود ہے ہو نہیں پائی ابھی تک کوئی شے کامل مری مل نہیں پاتی خود اپنے آپ سے فرصت مجھے مجھ سے بھی محروم رہتی ہے ...

مزید پڑھیے

ردائے راحت کون و مکان اوڑھ کے دیکھ

ردائے راحت کون و مکان اوڑھ کے دیکھ زمین اوڑھ کے دیکھ آسمان اوڑھ کے دیکھ طلسم ٹوٹ چکا جب چراغ ظلمت کا کبھی صباحت نام و نشان اوڑھ کے دیکھ پڑا رہے گا کہاں تک تو اپنے ترکش میں خدنگ جستہ اگر ہے کمان اوڑھ کے دیکھ قریب آ ہی گیا ہے اگر وہ ابر کرم سفر میں آج یہی سائبان اوڑھ کے ...

مزید پڑھیے

زمیں کا رنگ وہی آسماں کا رنگ وہی

زمیں کا رنگ وہی آسماں کا رنگ وہی وہی صباحت گل ہے بنائے سنگ وہی جو خواب بن نہیں پایا تھا میری آنکھوں کا ٹھہر گیا ہے مرے آئنے پہ زنگ وہی بدن میں آگ لگاتے ہوئے دعا کے ہاتھ لہو میں پھول کھلاتی ہوئی امنگ وہی بدلنے والا ہی خود کو بدل نہیں پایا وہی بہانے ہیں اس کے ہیں عذر لنگ وہی ہزار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4120 سے 6203