قومی زبان

دور فلک کے شکوے گلے روزگار کے

دور فلک کے شکوے گلے روزگار کے ہیں مشغلے یہی دل ناکردہ کار کے یوں دل کو چھیڑ کر نگۂ ناز جھک گئی چھپ جائے کوئی جیسے کسی کو پکار کے سینے کو اپنے اپنا گریباں بنا کے ہم قائل نہیں ہیں پیرہن تار تار کے کیا کیجئے کشش ہے کچھ ایسی گناہ میں میں ورنہ یوں فریب میں آتا بہار کے اک دل اور اس پہ ...

مزید پڑھیے

اس نے مائل بہ کرم ہو کے بلایا ہے مجھے

اس نے مائل بہ کرم ہو کے بلایا ہے مجھے آج پھر دل نے یہ افسانہ سنایا ہے مجھے سرد مہری پہ بھی ہوتا ہے توجہ کا گماں اس طرح اس نے توقع پہ لگایا ہے مجھے یوں تو فطرت میں بھی آشفتہ مزاجی تھی مری اصل میں آپ نے دیوانہ بنایا ہے مجھے پردہ داری تھی اسے ربط نہاں کی منظور بزم میں اپنی بہت دور ...

مزید پڑھیے

شاداں نہ ہو گر مجھ پہ کڑا وقت پڑا ہے

شاداں نہ ہو گر مجھ پہ کڑا وقت پڑا ہے تو زد میں ہے جس وقت کی اس سے بھی کڑا ہے ہے دھوپ مرے سر پہ مگر تو بھی مری جاں گرتی ہوئی دیوار کے سائے میں کھڑا ہے کیا شان ہے واللہ حسین ابن علی کی سر کٹ گیا قد پھر بھی حریفوں سے بڑا ہے ہم لاش سمجھ کر جسے پھینک آئے تھے وہ شخص چٹان کی مانند علم بن ...

مزید پڑھیے

فقط اک شغل بیکاری ہے اب بادہ کشی اپنی

فقط اک شغل بیکاری ہے اب بادہ کشی اپنی وہ محفل اٹھ گئی قائم تھی جس سے سر خوشی اپنی خدا یا نا خدا اب جس کو چاہو بخش دو عزت حقیقت میں تو کشتی اتفاقاً بچ گئی اپنی بس اب گزریں گے راہ زندگی سے بے نیازانہ اگر تیرے کرم پر منحصر ہے زندگی اپنی بہت جی چاہتا ہے یہ فقط نقص بصارت ہو بڑی سرعت ...

مزید پڑھیے

مصرف کے بغیر جل رہا ہوں

مصرف کے بغیر جل رہا ہوں میں سونے مکان کا دیا ہوں منزل ہے نہ کوئی جادہ پھر بھی آشوب سفر میں مبتلا ہوں محمل بھی نہیں کوئی نظر میں صحرا کی بھی خاک چھانتا ہوں منصور نہ دعویٔ انا الحق سولی پہ مگر لٹک رہا ہوں اے اہل کرم نہیں میں سائل رستے پہ یونہی کھڑا ہوا ہوں اب شکوۂ سنگ و خشت ...

مزید پڑھیے

میں ٹیچر کیوں ہوں

کبھی کبھی یہ سوچتی ہوں آخر میں ٹیچر کیوں ہوں کچھ اور نہ کر سکی کیا اس لیے میں ٹیچر ہوں جواب یہی بس آتا ہے سب کچھ کر سکتی ہوں شاید اسی لیے میں ٹیچر ہوں ننھے منے بچوں میں میں اپنا بچپن دیکھتی ہوں کسی میں سر سیدؔ کسی میں کلامؔ دیکھتی ہوں کبھی کبھی یہ سوچتی ہوں کہ مجھے صرف کتابوں ...

مزید پڑھیے

دیے سے لو نہیں پندار لے کر جا رہی ہے

دیے سے لو نہیں پندار لے کر جا رہی ہے ہوا اب صبح کے آثار لے کر جا رہی ہے ہمیشہ نوچ لیتی تھی خزاں شاخوں سے پتے مگر اس بار تو اشجار لے کر جا رہی ہے میں گھر سے جا رہا ہوں اور لکھتا جا رہا ہوں جہاں تک خواہش دیدار لے کر جا رہی ہے خلا میں غیب کی آواز نے چھوڑا ہے مجھ کو میں سمجھا تھا مجھے ...

مزید پڑھیے

زندگی کی روشنی کے استعارے خواب ہیں

زندگی کی روشنی کے استعارے خواب ہیں دیکھیے تعبیر کیا ہو کتنے پیارے خواب ہیں بخل ہے کرتے نہیں خوابوں کی خوشیوں میں شریک آؤ ہم دیتے ہیں تم کو جو ہمارے خواب ہیں جن کی آنکھیں تھی حقیقت کے تجسس میں مگن ان کا داماں دیکھیے سارے کے سارے خواب ہیں جاگتے میں سو رہا تھا ان کے جذبوں کا ...

مزید پڑھیے

محبت مر نہیں سکتی

محبت مر نہیں سکتی حقیقت پھر حقیقت ہے حقیقت مر نہیں سکتی خداوند محبت کی شریعت مر نہیں سکتی محبت مر نہیں سکتی بہر سو جبر و استبداد چاہے سولیاں گاڑے اتر آئیں بلائیں ہاتھ میں زہراب لے لے کر فضا بارود بن کر بھی سلگ اٹھے تو کیا ہوگا یہ وہ جذبہ ہے جو ذروں کے سینے میں نمو پائے یہ وہ نغمہ ...

مزید پڑھیے

تیرا خلوص دل تو محل نظر نہیں

تیرا خلوص دل تو محل نظر نہیں پر کچھ تو ہے جو تیری زباں میں اثر نہیں اب وہ نہیں ہے جلوۂ شام و سحر کا رنگ تیرا جمال شامل حسن نظر نہیں ہے مرکز نگاہ ابھی تک وہ آستاں یہ اور بات ہے کہ مجال سفر نہیں اڑ بھی چلیں تو اب وہ بہار چمن کہاں ہاں ہاں نہیں مجھے ہوس بال و پر نہیں ترک تعلقات خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4078 سے 6203