قومی زبان

نظم

یہ سچ ہے ہم جسے مصلوب کرنے جا رہے ہیں وہ نہ رہزن ہے نہ زانی ہے مگر یہ جرم اس کا کم نہیں ہے وہ ہمارے بد دیانت شہر میں تلقین کرتا ہے دیانت کی تمہیں معلوم ہے ہم سب شریک جرم ہیں ہم سب کے چہروں پر سیاہی ہے گناہوں کی تو کیوں نہ سرخ رو ہو جائیں دھو کر اس کے خوں سے اپنے چہروں کی سیاہی کو

مزید پڑھیے

نظم

یوں اچانک ملاقات تجھ سے ہوئی جیسے رہ گیر کو بے طلب بے دعا راہ میں ایک انمول موتی ملے اور ہنگام رخصت یہ احساس ہے جیسے مرد جفا کش کا اندوختہ حاصل محنت زندگی راہزن چھین لے جیسے زاہد کو پیری میں احساس ہو عمر بھر کی ریاضت اکارت گئی

مزید پڑھیے

عشق میں کب یہ ضروری ہے کہ رویا جائے

عشق میں کب یہ ضروری ہے کہ رویا جائے یہ نہیں داغ ندامت جسے دھویا جائے دوپہر ہجر کی تپتی ہوئی سر پر ہے کھڑی وصل کی رات کو شکوؤں میں نہ کھویا جائے الجھے اب پنجۂ وحشت نہ گریبانوں سے آج اسے سینۂ اعدا میں گڑویا جائے ایک ہی گھونٹ سہی آج تو پی لے زاہد کچھ نہ کچھ زہد کی خشکی کو سمویا ...

مزید پڑھیے

پھر وہ نظر ہے اذن تماشا لئے ہوئے

پھر وہ نظر ہے اذن تماشا لئے ہوئے تجدید آرزو کا تقاضا لئے ہوئے چشم سیہ میں مستیاں شام وصال کی عارض فروغ صبح نظارا لئے ہوئے ہر ایک شخص ترک تمنا کا مدعی ہر ایک شخص تیری تمنا لئے ہوئے کل شب طلوع ماہ کا منظر عجیب تھا تم جیسے آ گئے رخ زیبا لئے ہوئے دل آج تک ہے لطف فراواں سے شرمسار لب ...

مزید پڑھیے

دل جلانے سے کہاں دور اندھیرا ہوگا

دل جلانے سے کہاں دور اندھیرا ہوگا رات یہ وہ ہے کہ مشکل سے سویرا ہوگا کیوں نہ اب وضع جنوں ترک کریں لوٹ چلیں اس سے آگے جو ہے جنگل وہ گھنیرا ہوگا یہ ضروری تو نہیں اتنا بھی خوش فہم نہ بن وہ زمانہ جو نہ میرا ہے نہ تیرا ہوگا اتنا بھی سنگ ملامت سے ڈرا مت ناصح سر سلامت ہے تو اس شہر کا ...

مزید پڑھیے

زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں

زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں کہ داستان محبت سنا رہا ہوں میں نہ پوچھ مجھ سے مری بے خودی کا افسانہ کسی کی مست نگاہی کا ماجرا ہوں میں کہاں کا ضبط محبت کہاں کی تاثیریں تسلیاں دل مضطر کو دے رہا ہوں میں پھر ایک شعلۂ پر پیچ و تاب بھڑکے گا کہ چند تنکوں کو ترتیب دے رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

جو شعاع لب ہے موج نو بہار نغمہ ہے

جو شعاع لب ہے موج نو بہار نغمہ ہے خامشی بھی آپ کی آئینہ دار نغمہ ہے گوش اک مدت سے محروم سماعت ہے مگر دل عجب ناداں ہے اب تک اعتبار نغمہ ہے فرق یہ ہے نطق کے سانچے میں ڈھل سکتا نہیں ورنہ جو آنسو ہے در شاہوار نغمہ ہے منکر ساز مسرت ہوں تو کافر ہوں مگر ہم نفس مضراب غم پر انحصار نغمہ ...

مزید پڑھیے

سوانگ اب ترک محبت کا رچایا جائے

سوانگ اب ترک محبت کا رچایا جائے اس کے پندار کو آئینہ دکھایا جائے وضع داریٔ محبت کے منافی ہے تو ہو آج کالر پہ نیا پھول سجایا جائے شعر میں تذکرۂ دشت و بیاباں ہو مگر اک بڑے شہر میں گھر اپنا بسایا جائے بالکونی وہ کئی دن سے ہے ویراں یارو اس گلی میں کوئی ہنگامہ اٹھایا جائے سر یہ ...

مزید پڑھیے

شعر کہنے کا مزہ ہے اب تو

شعر کہنے کا مزہ ہے اب تو دل کا ہر زخم ہرا ہے اب تو اتنا بے صرفہ نہ تھا دل کا لہو باغ دامن پہ کھلا ہے اب تو بجھ ہی جائے نہ کہیں دل کا چراغ واقعی تند ہوا ہے اب تو زندگی زندگی ہوتی تھی کبھی مر نہ جانے کی سزا ہے اب تو تھا کوئی شخص کبھی محرم دل وہ مجھے بھول چکا ہے اب تو خوگر شہر ہوئے ...

مزید پڑھیے

اگرچہ بے حسیٔ دل مجھے گوارا نہیں

اگرچہ بے حسیٔ دل مجھے گوارا نہیں بغیر ترک محبت بھی کوئی چارہ نہیں میں کیا بتاؤں مرے دل پہ کیا گزرتی ہے بجا کہ غم مرے چہرے سے آشکارا نہیں ہوس ہے سہل مگر اس قدر بھی سہل نہیں زیان دل تو ہے گر جان کا خسارا نہیں نہ فرش پر کوئی جگنو نہ عرش پر تارا کہیں بھی سوز تمنا کا اب شرارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4077 سے 6203