قومی زبان

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی ہر چند تیری یاد مرے آس پاس تھی میلوں تھی اک جھلستی ہوئی دوپہر کی قاش سینے میں بند سینکڑوں صدیوں کی پیاس تھی اٹھے نہا کے شعلوں میں اپنے تو یہ کھلا سارے جہاں میں پھیلی ہوئی تیری باس تھی کیسے کہوں کہ میں نے کہاں کا سفر کیا آکاش بے چراغ زمیں بے لباس ...

مزید پڑھیے

ذہن رسا کی گرہیں مگر کھولنے لگے

ذہن رسا کی گرہیں مگر کھولنے لگے پھر یوں ہوا کہ لوگ ہمیں تولنے لگے آہستہ بات کر کہ ہوا تیز ہے بہت ایسا نہ ہو کہ سارا نگر بولنے لگے عمر رواں کو پار کیا تم نے اور ہم رسی کے پل پہ پاؤں رکھا ڈولنے لگے دستک ہوا ہی دے کہ یہ بندش تمام ہو سونے گھروں میں کوئی تو رس گھولنے لگے میں بن گیا ...

مزید پڑھیے

ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو

ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو جو ہو سکے یہ تماشا نہ تو دکھا مجھ کو کبھی تو کوئی فلک سے اتر کے پاس آئے کبھی تو ڈسنے سے باز آئے فاصلہ مجھ کو تلاش کرتے ہو پھولوں میں کیسے پاگل ہو اڑا کے لے بھی گئی صبح کی ہوا مجھ کو کسے خبر کہ صدا کس طرف سے آئے گی کہاں سے آ کے اٹھائے گا قافلہ مجھ ...

مزید پڑھیے

تری نظر میں ترے ماسوا نہیں ہوگا

تری نظر میں ترے ماسوا نہیں ہوگا ترے وجود کا جس دن تجھے یقیں ہوگا جو گھر سے نکلا تو ہر اک کو منتظر پایا خیال تھا کہ کوئی جانتا نہیں ہوگا فریب دیتی ہیں ویرانیاں صدا تو لگا مکان ہے تو یقیناً کوئی مکیں ہوگا خبر نہ تھی کہ ہزار آنکھیں ہیں اندھیرے کی اسے خیال تھا چرچا کہیں نہیں ...

مزید پڑھیے

سنو اجڑا مکاں اک بد دعا ہے

سنو اجڑا مکاں اک بد دعا ہے صدا اندر صدا اندر صدا ہے خزاں اک غم زدہ بیمار عورت ہوا نے چھین لی جس کی ردا ہے ستارہ جل بجھا مختار تھا وہ دیا مجبور تھا جلتا رہا ہے سر مژگاں ابھر آنا تھا جس کو کہاں وہ مہرباں تارا گیا ہے اگی ہیں چار سو باتیں ہی باتیں عجب سی ہر طرف آواز پا ہے ہوا اس کو ...

مزید پڑھیے

وہ پرندہ ہے کہاں شب کو چہکنے والا

وہ پرندہ ہے کہاں شب کو چہکنے والا رات بھر نافۂ گل بن کے مہکنے والا لکۂ ابر تھا بس دیکھنے آیا تھا مجھے کوئی بادل تو نہیں تھا وہ چھلکنے والا راکھ میں آنکھ میں پھولوں پہ کسیلی شب میں بے ضرورت بھی تو چمکا ہے چمکنے والا کس کی آواز میں ہے ٹوٹتے پتوں کی صدا کون اس رت میں ہے بے وجہ ...

مزید پڑھیے

دھار سی تازہ لہو کی شبنم افشانی میں ہے

دھار سی تازہ لہو کی شبنم افشانی میں ہے صبح اک بھیگی ہوئی پلکوں کی تابانی میں ہے آنکھ ہے لبریز شاید رو پڑے گا تو ابھی جیسے ذلت کا مداوا آنکھ کے پانی میں ہے میں نہیں ہارا تو میرے حوصلے کی داد دے اک نیا عزم سفر اس خستہ سامانی میں ہے بے ثمر بے رنگ موسم برف کی صورت سفید اور دل امڈے ...

مزید پڑھیے

سفید پھول ملے شاخ سیم بر کے مجھے

سفید پھول ملے شاخ سیم بر کے مجھے خزاں کو کچھ نہ ملا بے لباس کر کے مجھے تھی دشت خواب میں اک تیری جستجو مجھ کو کہ تجھ سے شکوے ہزاروں تھے عمر بھر کے مجھے میں اپنے نام کی تختی میں تھا شریر ہوا گلی میں پھینک گئی بے نشان کر کے مجھے اب اس نگر میں تو کچھ بھی نہیں ہے رک جاؤ صدائیں دیتے ...

مزید پڑھیے

دھوپ کے ساتھ گیا ساتھ نبھانے والا

دھوپ کے ساتھ گیا ساتھ نبھانے والا اب کہاں آئے گا وہ لوٹ کے آنے والا ریت پر چھوڑ گیا نقش ہزاروں اپنے کسی پاگل کی طرح نقش مٹانے والا سبز شاخیں کبھی ایسے تو نہیں چیختی ہیں کون آیا ہے پرندوں کو ڈرانے والا عارض شام کی سرخی نے کیا فاش اسے پردۂ ابر میں تھا آگ لگانے والا سفر شب کا ...

مزید پڑھیے

اپنے اندر اتر رہا ہوں میں

اپنے اندر اتر رہا ہوں میں دھیرے دھیرے سدھر رہا ہوں میں نور و ظلمت میں امتیاز نہیں اس کنوئیں میں اتر رہا ہوں میں جس کو دیکھو چرا رہا ہے نگاہ کس گلی سے گزر رہا ہوں میں خود کو اک دن سمیٹنا بھی ہے آج کل تو بکھر رہا ہوں میں چھوڑا اندیشہ ہائے دور دراز جی رہا ہوں کہ مر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 406 سے 6203