قومی زبان

اپنی نظر سے ٹوٹ کر اپنی نظر میں گم ہوا

اپنی نظر سے ٹوٹ کر اپنی نظر میں گم ہوا وہ بڑا با شعور تھا اپنے ہی گھر میں گم ہوا مرگ زدہ تھے رنگ سب آئنے پشت چشم تھے اک وہی درد مند تھا خوف و خطر میں گم ہوا راستے آئینے بنے پاؤں تمام رنگ تھے اس پہ بھی یہ سوال وہ کیسے سفر میں گم ہوا سوچ حواس میں نہ تھی آنکھ حدود میں نہ تھی پیڑ ہوا ...

مزید پڑھیے

ایک وحدت تھی آپ ہی بکھری

ایک وحدت تھی آپ ہی بکھری جانے کس غم میں روشنی بکھری اب سمیٹو گے کس طرح اس کو لفظ در لفظ خامشی بکھری آئنہ خانۂ تخیل میں ایک لمحے میں اک صدی بکھری قید تھی روح کی خموشی میں جسم میں ڈھل کے زندگی بکھری کرب اظہار سے نہ گزری بات لب پہ آنے سے پہلے ہی بکھری

مزید پڑھیے

کب اس زمیں کی سمت سمندر پلٹ کر آئے

کب اس زمیں کی سمت سمندر پلٹ کر آئے اظہار اولیں کا وہ منظر پلٹ کر آئے جب حرف لکھ دیا ہے تو کیوں مشتہر نہ ہو نکلا کماں سے تیر تو کیوں کر پلٹ کر آئے ہو سارے شہر میں یہ منادی کہ جشن ہو اپنی ہی صف میں ہارے دلاور پلٹ کر آئے یا بے خبر تھے وسعت دریائے رنگ سے یا چشم بے ہنر تھے شناور پلٹ کر ...

مزید پڑھیے

خوشبوؤں کی دشت سے ہمسائیگی تڑپائے گی

خوشبوؤں کی دشت سے ہمسائیگی تڑپائے گی جس کو بھی حاصل ہوئی یہ آگہی تڑپائے گی روشنی کو گنگ ہوتے جس نے دیکھا ہو کبھی کس حوالے سے اسے تیرہ شبی تڑپائے گی کاڑھتا تھا میں ہی سنگ سخت پر ریشم سے پھول کیا خبر تھی یہ نظر شائستگی تڑپائے گی خواب تھے پایاب اس کا دکھ نہیں کب تھی خبر مجھ کو ...

مزید پڑھیے

خود اپنے آپ سے ملنے کا میں اپنا ارادہ ہوں

خود اپنے آپ سے ملنے کا میں اپنا ارادہ ہوں میں ہر موسم کو سہہ کر بھی ابھی تک ایستادہ ہوں ازل سے ماورا رنگوں سے ہوں یہ میرا دعویٰ ہے اساس رنگ پر جانچو نہ مجھ کو نقش سادہ ہوں ترا سایہ ہے آئینہ چمکتے آفتابوں کا میں اپنے جسم میں بے پیکری کا اک لبادہ ہوں مجھے حیرت، میں اک نقطے کی صورت ...

مزید پڑھیے

ہے اضطراب ہر اک رنگ کو بکھرنے کا

ہے اضطراب ہر اک رنگ کو بکھرنے کا کہ آفتاب نہیں رات بھر ٹھہرنے کا مجسمے کی طرح موسموں کو سہتا ہے وہ منتظر ہے کوئی حادثہ گزرنے کا لٹکتے سوکھتے یہ نقش یوں ہی روئیں گے گزر گیا ہے جو موسم تھا رنگ بھرنے کا وہ آئنے سے اگر ہو گیا ہے بے پروا جواز کیا ہے اسے پھر کسی سے ڈرنے کا گرے گی کل ...

مزید پڑھیے

کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا

کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا اک بار نہیں اس کو سو بار سمجھ لینا ہم ہوں کہ عدو اس میں جو ظلم کا شاکی ہو کرتا ہی نہیں تم کو وہ پیار سمجھ لینا مر جائے مگر جانا اس کی نہ عیادت کو تم جس کو محبت کا بیمار سمجھ لینا بن بن کے بگڑتا ہے وہ کام محبت میں آسان نہیں جس کو دشوار سمجھ ...

مزید پڑھیے

یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی بات

یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی بات وہ مزے دن کے نہ بھولے ہیں نہ وہ رات کی بات کبھی مسجد میں جو واعظ کا بیاں سنتا ہوں یاد آتی ہے مجھے پیر خرابات کی بات یاد پیری میں کہاں اب وہ جوانی کی ترنگ صبح ہوتے ہی ہمیں بھول گئی رات کی بات شیخ جی مجمع زنداں میں نصیحت کیسی کون سنتا ہے یہاں ...

مزید پڑھیے

ہو ترک کسی سے نہ ملاقات کسی کی

ہو ترک کسی سے نہ ملاقات کسی کی یا رب نہ بگڑ جائے بنی بات کسی کی پاؤں کو جو پھیلا کے سر شام سے سوئے کیا جانے وہ کس طرح کئی رات کسی کی فرمائیے کیوں کر وہ سہے آپ کی گالی اٹھ سکتی نہ ہو جس سے کڑی بات کسی کی فرمائشیں تم روز کرو شوق سے لیکن یہ جان لو تھوڑی سی ہے اوقات کسی کی ممکن ہے کہ ...

مزید پڑھیے

شب وصل ہے بحث حجت عبث

شب وصل ہے بحث حجت عبث یہ شکوے عبث یہ شکایت عبث ہوا ان کو کب اعتماد وفا جتاتے رہے ہم محبت عبث یہاں اب تو کچھ اور سامان ہے وہ آتے ہیں بہر عیادت عبث نصیبوں سے اپنے ہے شکوہ ہمیں کریں کیوں کسی کی شکایت عبث مرا حال سن کر وہ ہیں بے قرار کیا کس نے ذکر محبت عبث فلک مر مٹوں سے نہ رکھ یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3994 سے 6203