اپنی نظر سے ٹوٹ کر اپنی نظر میں گم ہوا
اپنی نظر سے ٹوٹ کر اپنی نظر میں گم ہوا وہ بڑا با شعور تھا اپنے ہی گھر میں گم ہوا مرگ زدہ تھے رنگ سب آئنے پشت چشم تھے اک وہی درد مند تھا خوف و خطر میں گم ہوا راستے آئینے بنے پاؤں تمام رنگ تھے اس پہ بھی یہ سوال وہ کیسے سفر میں گم ہوا سوچ حواس میں نہ تھی آنکھ حدود میں نہ تھی پیڑ ہوا ...