قومی زبان

پھول ہو کر پھول کو کیا چاہنا

پھول ہو کر پھول کو کیا چاہنا جب یہ بے آنگن تھا جب تھا چاہنا زخم سارے ہی ہیں اپنے جسم زاد کس سبب ان کا تماشا چاہنا پھر سے ہو تجدید خوشبو سوچئے چاہنا اور وہ بھی اپنا چاہنا ایک مشکل رازداری چاہئے ایک مشکل چاہتوں کا چاہنا دستگیری اے نم آنکھوں والی صبح چاہنا کیا چاہنا کیا ...

مزید پڑھیے

ہو آنکھ اگر زندہ گزرتی ہے نہ کیا کیا

ہو آنکھ اگر زندہ گزرتی ہے نہ کیا کیا یوں آب میں بجھتے ہوئے شعلے کی صدا کیا اے تو کہ یقیں ہے تجھے شیشے کے بدن پر احساس کی دستک پر کبھی کان دھرا کیا دیوار تہی نقش ہر اک رنگ سے مایوس کاغذ کے لیے موئے قلم سنگ بچا کیا محفوظ ہمیں ریگ حصاروں میں ہوئے تھے کیا ورنہ سمندر کا گزر موج ہوا ...

مزید پڑھیے

آگے پیچھے اس کا اپنا سایہ لہراتا رہا

آگے پیچھے اس کا اپنا سایہ لہراتا رہا خوف سے اس شخص کا چہرہ سدا پیلا رہا صبح کو دیکھا تو وہ مجھ سے تھا بالکل اجنبی رات بھر جو جسم کے اندر مجھے تکتا رہا کیسا دیوانہ تھا سب کچھ جان کر انجان تھا ہر کسی سے وہ گلے ملتا رہا روتا رہا یہ خطا میری تھی تجھ کو میں نے پہچانا نہیں آئینے میں ...

مزید پڑھیے

نیاز و ناز کا پیکر نہ عرش پر ٹھہرا

نیاز و ناز کا پیکر نہ عرش پر ٹھہرا زمیں کی گود میں اترا تو بارور ٹھہرا گدائے کوچۂ الفت نے آبرو پائی دیار شوق میں سلطاں سے معتبر ٹھہرا جسے نظر نے سنایا جسے نظر نے سنا وہ گیت بربط ہستی کا زخمہ ور ٹھہرا وفا کی راہ میں نکلے تو راہداں کی طرح ترے جمال کا پرتو بھی ہم سفر ٹھہرا چراغ ...

مزید پڑھیے

کبھی تو رنگ حسن یار دیکھوں

کبھی تو رنگ حسن یار دیکھوں کہاں تک دیدۂ خوں بار دیکھوں وہی دیکھوں جسے دیکھا نہ جائے یہ منظر اور کتنی بار دیکھوں پلک جھپکوں تو پھر ان پتھروں میں کہاں ایسے محبت زار دیکھوں کسی کا زخم دل دیکھا نہ جائے جگر ہو تو کوئی شہکار دیکھوں کمانیں ٹوٹتی دیکھی ہیں میں نے گنوں باہیں کہ لپٹے ...

مزید پڑھیے

مرے وجود کی دنیا میں ہے اثر کس کا

مرے وجود کی دنیا میں ہے اثر کس کا میں جانتا ہی نہیں ہوں میں ہم سفر کس کا نہ مجھ پہ طنز کرو دوستو کہ بے گھر ہوں تمہیں کہو کہ ہے تم میں سے اپنا گھر کس کا اس اک سوال کا سورج بھی دے سکا نہ جواب میں صرف سایہ نہیں روپ ہوں مگر کس کا جو میرے پاس تھا سب لوٹ لے گیا کوئی کواڑ بند رکھوں اب مجھے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک آنکھ کو کچھ ٹوٹے خواب دے کے گیا

ہر ایک آنکھ کو کچھ ٹوٹے خواب دے کے گیا وہ زندگی کو یہ کیسا عذاب دے کے گیا نہ دے سکا مجھے وسعت سمندروں کی مگر سمندروں کا مجھے اضطراب دے کے گیا وہ کس لیے مرا دشمن تھا جانے کون تھا وہ جو آنکھ آنکھ مسلسل سراب دے کے گیا خلا کے نام عطا کر کے چھاؤں کی میراث مجھے وہ جلتا ہوا آفتاب دے کے ...

مزید پڑھیے

سارے چہرے تانبے کے ہیں لیکن سب پر قلعی ہے

سارے چہرے تانبے کے ہیں لیکن سب پر قلعی ہے مہمل تابع مہمل کیا ہے دونوں کا اک معنی ہے مانتے ہیں آپ اس کے قد میں اس کا قد شامل ہی نہ تھا آگے ہم کیوں بحثیں صاحب اتنی بات ہی کافی ہے دھان کے کھیتوں کا سب سونا کس نے چرایا کون کہے بے موسم بے فصل ابھی تک اس اظہار کی دھرتی ہے اندیشے اندازے ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر بار صدا وہ بے صدا ہو جائے گا

چھوڑ کر بار صدا وہ بے صدا ہو جائے گا وہم تھا میرا کہ پتھر آئینہ ہو جائے گا میں بڑا معصوم تھا مجھ کو خبر بالکل نہ تھی میرے چھو لیتے ہی وہ میرا خدا ہو جائے گا دائرہ در دائرہ ہے سبز جنگل سرخ آگ کب ہوا جاگے یہ منظر کب ہوا ہو جائے گا بے مروت راستوں سے بے خبر شاید ہے وہ پھر کہیں پر میرا ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کر بکھرے نہ سورج بھی ہے مجھ کو ڈر بہت

ٹوٹ کر بکھرے نہ سورج بھی ہے مجھ کو ڈر بہت حبس اندر سے زیادہ آج ہے باہر بہت مجھ کو بھی آتا ہے فن صاحب نوازی کا مگر کیا کروں میری انا مجھ سے بھی ہے خود سر بہت غم زدہ کرتی ہے مجھ کو بس دروں بینی مری یوں تو میں بھی دیکھتا ہوں خوشنما منظر بہت اپنی آنکھیں گھر پہ رکھ کر بھی تماشائی ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3993 سے 6203