پھول ہو کر پھول کو کیا چاہنا
پھول ہو کر پھول کو کیا چاہنا جب یہ بے آنگن تھا جب تھا چاہنا زخم سارے ہی ہیں اپنے جسم زاد کس سبب ان کا تماشا چاہنا پھر سے ہو تجدید خوشبو سوچئے چاہنا اور وہ بھی اپنا چاہنا ایک مشکل رازداری چاہئے ایک مشکل چاہتوں کا چاہنا دستگیری اے نم آنکھوں والی صبح چاہنا کیا چاہنا کیا ...