قومی زبان

محبت کیا بڑھی ہے وہم باہم بڑھتے جاتے ہیں

محبت کیا بڑھی ہے وہم باہم بڑھتے جاتے ہیں ہم ان کو آزماتے ہیں وہ ہم کو آزماتے ہیں نہ گھٹتی شان معشوقی جو آ جاتے عیادت کو برے وقتوں میں اچھے لوگ اکثر کام آتے ہیں جو ہم کہتے نہیں منہ سے تو یہ اپنی مروت ہے چرانا دل کا ظاہر ہے کہ وہ آنکھیں چراتے ہیں سماں اس بزم کا برسوں ہی گزرا ہے ...

مزید پڑھیے

چاک داماں نہ رہا چاک گریباں نہ رہا

چاک داماں نہ رہا چاک گریباں نہ رہا پھر بھی پوشیدہ مرا حال پریشاں نہ رہا بزم دشمن نہ کبھی درہم و برہم دیکھی کیا ترا دور وہ اے گردش دوراں نہ رہا مجھ کو افسوس کہ وہ اور عدو کے بس میں اس کو یہ غم کہ مرا اب کوئی پرساں نہ رہا ہم نے جو بات کہی تھی وہی آخر کو ہوئی تم نے جو راز چھپایا تھا ...

مزید پڑھیے

کیا ان کو دل کا حال سنانے سے فائدہ

کیا ان کو دل کا حال سنانے سے فائدہ ہوگا تو ہوگا نوٹ دکھانے سے فائدہ نوک مژہ جو دل میں چبھی دل پھڑک اٹھا کچھ تو ہوا ہے ٹیکہ کرانے سے فائدہ دل گم ہے اپنا چور کا لیکن پتہ نہیں عاشق کو کیا پولیس کے تھانے سے فائدہ معلوم ہے دکھاتے ہیں وہ ہم کو سبز باغ لارنس باغ شام کو جانے سے فائدہ اب ...

مزید پڑھیے

آمدنی اور خرچ

کرایہ مکاں کا ادا کرنے جاؤں کہ بزاز و خیاط کا بل چکاؤں دوا لاؤں یا ڈاکٹر کو بلاؤں کہ میں ٹیکس والوں سے پیچھا چھڑاؤں خدارا بتاؤ کہاں بھاگ جاؤں میں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں بہت بڑھ گیا ہے مکاں کا کرایہ ادھر نل کے آب رواں کا کرایہ بقایا ہے 'برق تپاں' کا کرایہ زمیں پر ہے اب آسماں ...

مزید پڑھیے

بہشت بریں

خدا سے دعا بہر دنیا کریں گے غلط ہے کہ ہم فکر عقبیٰ کریں گے بڑے ہو کے کونسل میں جایا کریں گے تو دل سے یہ اقرار پکا کریں گے کہ جنت کی خاطر نہ جھگڑا کریں گے بہشت بریں لے کے ہم کیا کریں گے بہشت بریں کیا ہے بس ایک گلشن فرشتوں کا دیدار حوروں کے درشن ہر اک جنتی بے ہنر اور بے فن نہ بزم ادب ...

مزید پڑھیے

مقصد حیات

زندگی اپنی نمائش گاہ مصنوعات ہے چار دن بجلی کے لیمپ اور پھر اندھیری رات ہے آئے ہیں دنیا میں کوئی کام کرنے کے لیے کچھ خدا سے اور کچھ بیوی سے ڈرنے کے لیے ہے جوانوں کے لیے سنما میں جانا زندگی جیب میں پائی نہ ہو ٹائی لگانا زندگی مہ وشوں سے باغ میں آنکھیں لڑانا زندگی غسل خانے میں اکیلے ...

مزید پڑھیے

مژگاں ہیں غضب ابروئے خم دار کے آگے

مژگاں ہیں غضب ابروئے خم دار کے آگے یہ تیر برس پڑتے ہیں تلوار کے آگے خیر اس میں ہے واعظ کہ کبھی مے کی مذمت کرنا نہ کسی رند خوش اطوار کے آگے کہنا مری بالیں پہ کہ آثار برے ہیں کرتا ہے یہ باتیں کوئی بیمار کے آگے شکوے تھے بہت ان سے شکایت تھی بہت کچھ سب بھول گئے وصل کی شب پیار کے ...

مزید پڑھیے

وصل آسان ہے کیا مشکل ہے

وصل آسان ہے کیا مشکل ہے تجھ کو یہ دھیان ہے کیا مشکل ہے وضع کا دھیان ہے کیا مشکل ہے دوست نادان ہے کیا مشکل ہے ہونٹ پر جان ہے کیا مشکل ہے مشکل آسان ہے کیا مشکل ہے ہائے دیوانہ بنا کر کہنا پھر بھی اک شان ہے کیا مشکل ہے اب جگہ چاہیے وحشت کو مری تنگ میدان ہے کیا مشکل ہے جس کو مر مٹ کے ...

مزید پڑھیے

شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں

شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں تم سلامت رہو ہم تو یہ دعا کرتے ہیں پھر مرے دل کے پھنسانے کی ہوئی ہے تدبیر پھر نئے سر سے وہ پیمان وفا کرتے ہیں تم مجھے ہاتھ اٹھا کر اس ادا سے کوسو دیکھنے والے یہ سمجھیں کہ دعا کرتے ہیں ان حسینوں کا ہے دنیا سے نرالا انداز شوخیاں بزم میں خلوت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3995 سے 6203