قومی زبان

محبت جادہ ہے منزل نہیں ہے

محبت جادہ ہے منزل نہیں ہے یہ مشکل آخری مشکل نہیں ہے دل رہرو میں ہیں کچھ اور خطرے خیال دوریٔ منزل نہیں ہے خرد باطل خرد پر ناز باطل مگر یہ تو جنوں باطل نہیں ہے یہ دل بے مہر بھی ہے بے وفا بھی نہیں یہ دل تو میرا دل نہیں ہے ڈراتا ہے مجھے یوں خندۂ برق مجھے اندیشۂ حاصل نہیں ہے میں سب ...

مزید پڑھیے

کوئی پیام اب نہ پیمبر ہی آئے گا

کوئی پیام اب نہ پیمبر ہی آئے گا وہ شب ہے آسمان سے پتھر ہی آئے گا جا کر وہ اپنے شہر سے اس کو یقین ہے پانی پہ کوئی نقش بنا کر ہی آئے گا اتنا بدل گیا ہوں کہ پہچاننے مجھے آئے گا وہ تو خود سے گزر کر ہی آئے گا بے در کا اک مکان رلاتا ہے رات دن اس کا بھی دل جو ہوگا کبھی بھر ہی آئے گا کیا ...

مزید پڑھیے

بھیجتا ہوں ہر روز میں جس کو خواب کوئی ان دیکھا سا

بھیجتا ہوں ہر روز میں جس کو خواب کوئی ان دیکھا سا اس کی آنکھیں ساری خوشبو اس کا بدن آئینا سا اس نے بس اتنا ہی پوچھا سبز چنار اب کتنے ہیں سر سے پا تک لرز اٹھا میں دل پہ گرا اک شعلہ سا چٹانوں کے سینے پر بھی کھل کر جو مسکاتا ہے سر مستی کا سرچشمہ ہے وہ اک پودا ننھا سا لوگو لب کھولو ...

مزید پڑھیے

ڈھل گیا جسم میں آئینے میں پتھر میں کبھی

ڈھل گیا جسم میں آئینے میں پتھر میں کبھی چھپ سکا میں نہ کسی رنگ کے پیکر میں کبھی میں یہی نقطۂ موہوم رہوں گا نہ سدا میں جھلک اٹھوں گا آخر کسی منظر میں کبھی وہ سمندر کی بڑائی سے ہے مرعوب کہ وہ تشنہ لب بن کے رہا ہے نہ سمندر میں کبھی تجھ پہ کھل جائیں گے خود اپنے بھی اسرار کئی تو ذرا ...

مزید پڑھیے

عجب صحرا بدن پر آب کا ابہام رکھا ہے

عجب صحرا بدن پر آب کا ابہام رکھا ہے یہ کس نے اس سمندر کا سمندر نام رکھا ہے وہی اک دن شہادت دے گا میری بے گناہی کی وہ جس نے قتل گل کا میرے سر الزام رکھا ہے میں تم سے پوچھتا ہوں جھیل ڈل کی بے زباں موجو تہہ دامن چھپا کر تم نے کیا پیغام رکھا ہے کبھی بادل میرے آنگن اترتا پوچھتا میں ...

مزید پڑھیے

اذیتوں کو کسی طرح کم نہ کر پایا

اذیتوں کو کسی طرح کم نہ کر پایا میں اپنے ہاتھ ابھی تک قلم نہ کر پایا حوالے لاکھ دلیل ایک بھی نہ دے شاید نظر میں کیوں کسی منظر کو ضم نہ کر پایا ہے بے تراش ابھی دست ذہن میں اک نقش کہ اس کے رنگ کو میں ہم قلم نہ کر پایا ہے شرم تشنہ لبی اس کی جس سے بجھ جاتی میں اتنا خون جگر کیوں بہم نہ ...

مزید پڑھیے

آگ جو باہر ہے پہنچے گی اندر بھی

آگ جو باہر ہے پہنچے گی اندر بھی سائے جل جائیں گے اور پھر پیکر بھی تیری آنکھوں میں آنسو بھی دیکھے ہیں تیرے ہاتھوں میں دیکھا ہے خنجر بھی پارکھ ہے تو مجھ کو پرکھ ہشیاری سے میں اک گوہر بھی ہوں میں اک پتھر بھی خوابوں میں بھی رہتا ہوں بے چین بہت چین نہیں ملتا ہے مجھ کو سو کر بھی کب ...

مزید پڑھیے

سفر ہی کوئی رہے گا نہ فاصلہ کوئی

سفر ہی کوئی رہے گا نہ فاصلہ کوئی یہ اک خیال ہے اس پر بھی تبصرہ کوئی رقم ہوا ہوں یقین و قیاس دونوں میں کرے تو کیسے کرے میرا تجزیہ کوئی وہ دست سنگ ہے میں آئینہ گرفتہ ہوں نہ ہو سکے گا کبھی ہم میں تصفیہ کوئی زمیں پہ آئے نہ آئے یہ وہم ہے سب کو خلا کی گود میں پلتا ہے حادثہ کوئی میں اک ...

مزید پڑھیے

سارے معمولات میں اک تازہ گردش چاہئے

سارے معمولات میں اک تازہ گردش چاہئے نم زمیں پر خشک موسم کی نوازش چاہئے شہر کے آئین میں یہ مد بھی لکھی جائے گی زندہ رہنا ہو تو قاتل کی سفارش چاہئے میری مشکل بھاگتے لمحوں کو پکڑوں کس طرح ضد اسے ان دیکھے خوابوں کی نمائش چاہئے بھیجتا میں کس کو صبحوں کی کنواری روشنی اس کو بوڑھی رات ...

مزید پڑھیے

منتشر سایوں کا ہے یا عکس بے پیکر کا ہے

منتشر سایوں کا ہے یا عکس بے پیکر کا ہے منتظر یہ آئینہ کیا جانے کس منظر کا ہے ریزہ ریزہ رات بھر جو خوف سے ہوتا رہا دن کو سانسوں پر ابھی تک بوجھ اس پتھر کا ہے وہ کسی فرہنگ کا قیدی نہ اب تک ہو سکا وہ شکستہ لفظ میری روح کے اندر کا ہے ہر کوئی ہونے لگا ہے دن کو خوابوں کا اسیر خوف ہر اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3992 سے 6203