محبت جادہ ہے منزل نہیں ہے
محبت جادہ ہے منزل نہیں ہے یہ مشکل آخری مشکل نہیں ہے دل رہرو میں ہیں کچھ اور خطرے خیال دوریٔ منزل نہیں ہے خرد باطل خرد پر ناز باطل مگر یہ تو جنوں باطل نہیں ہے یہ دل بے مہر بھی ہے بے وفا بھی نہیں یہ دل تو میرا دل نہیں ہے ڈراتا ہے مجھے یوں خندۂ برق مجھے اندیشۂ حاصل نہیں ہے میں سب ...