صبح بھی اپنی شام بھی اپنی

صبح بھی اپنی شام بھی اپنی
اور مئے گلفام بھی اپنی


پھول سا نازک دل بھی اپنا
گردش صبح و شام بھی اپنی


وہ بھی اپنے درد بھی اپنا
آہ دل ناکام بھی اپنی


شکوۂ بیش و کم کیا کیجے
بزم شریک جام بھی اپنی


حامدؔ کہہ دو اہل کرم سے
دیں نہ صلائے عام بھی اپنی