آنکھیں
ہم دونوں تتلی کے تعاقب میں دور مہکتے خوابیدہ سایوں میں ڈوبے تتلی ہاتھ سے نکلی تھی جنگل جاگ پڑا تھا پتوں کی اوٹ سے شعلہ شعلہ آنکھیں جھانک رہی تھیں! سب رستے مسدود ہوئے تھے!
ہم دونوں تتلی کے تعاقب میں دور مہکتے خوابیدہ سایوں میں ڈوبے تتلی ہاتھ سے نکلی تھی جنگل جاگ پڑا تھا پتوں کی اوٹ سے شعلہ شعلہ آنکھیں جھانک رہی تھیں! سب رستے مسدود ہوئے تھے!
پہلی چیخ تولد ہونے کی چرخے سے الجھی امی کے بالوں کی سپیدی ہونٹوں پر لرزاں حرف شہادت ریت کے جھکڑ میں بکھرتے تتلی کے رنگ قبروں میں گرتے انبوہ کواکب پیچھا کرتے ہیں! اس دن جھیل کے آئینے میں اپنے جسم کو دیکھا تھا اب ہر ملبوس میں عریاں ہونے کی لاچاری ہے میں خود سے ہی بھاگ رہا ہوں مجھ ...
اک کانٹا دل کو ڈستا تھا موت سے پہلے ہی اس نے ہوش میں آ کر بچوں سے کیوں نظریں پھیریں برسوں بعد سپید لبادہ اوڑھے آئی بولی میں نے جیتے جی پل پل رشتوں کے کرب کو جھیلا ہے! موت آزادی کی راحت ہے! موت سے پہلے ہی مرنے کا ادراک ہوا
اس رات لمس ماہ سے اک بیج میرے خون میں بیدار ہو گیا رگ رگ میں برگ و شاخ تناور شجر بنا ویرانۂ تپاں سے گزرتی ہے جب ہوا نوکیلے نیلے پتوں سے ٹپ ٹپ دمکتے زہر کی بوندیں ٹپکتی ہیں حذر کرو
زندگی کیا ہے وفا کیا ہے عقیدت کیا ہے ہم بتاتے ہیں خداؤں کی حقیقت کیا ہے میں نے پوچھا ہے ستاروں سے سیہ راتوں میں کون ہے کوئے گنہ راہ طریقت کیا ہے میں نے حالات کی ہر آگ میں جل کر جانا راحت قلب ہے کیا اور مصیبت کیا ہے ٹوک دیتا ہے بھلے کوئی غلط ہو کہ سہی ناصحا یہ تو بتا فرض نصیحت کیا ...
غم زدہ زندگی رہی نہ رہی خوش رہے ہم خوشی رہی نہ رہی زندگی کی حسین راہوں میں چھاؤں ٹھنڈی کبھی رہی نہ رہی چاند تاروں میں زندگی کاٹی آپ کو یاد بھی رہی نہ رہی راہ مستی میں وہ چراغ ملے جل گئے روشنی رہی نہ رہی جب کوئی راہ پر لگا ہی نہیں رہبری رہبری رہی نہ رہی رہ گئی بات آپ کی ...
زندگی اب رہے خطا کب تک جرم کی بارہا سزا کب تک ناخدا ہوں میں اپنی کشتی کا یہ خداؤں کا سلسلہ کب تک اپنی پتھرا گئی ہیں آنکھیں بھی حسن پردہ اٹھائے گا کب تک کون پکڑے گا بھاگتے سائے کون دیکھے گا راستہ کب تک غالباً اور شاہراہیں ہیں ایک ہی بند راستہ کب تک آدمی آدمی کا دشمن ہے جانے ہو ...
سکوں نصیب ہے پر اپنے گھر کی حد تک ہے کوئی تو ہے کہ جو دیوار و در کی حد تک ہے میں چاہتا ہوں کہ دنیا میں کچھ بڑا کر جاؤں مرا زمانہ مگر خیر و شر کی حد تک ہے ابھی وہ چھت پہ کھڑے ہو کے ہاتھ سینکتے ہیں ابھی یہ آگ فقط میرے گھر کی حد تک ہے کوئی طلوع ہوا اور دھند چھانے لگی مجھے لگا تھا ...
سحر نا آشنا کوئی نہیں ہے مگر اب جاگتا کوئی نہیں ہے پیامی بن کے آتے تھے پرندے مگر اب رابطہ کوئی نہیں ہے شکستہ پا نہیں ہیں ہم درختو کریں کیا راستہ کوئی نہیں ہے کوئی لوٹا نہیں گھر سے نکل کر مگر یہ سوچتا کوئی نہیں ہے بہا لو تم ہی اپنے ساتھ موجو ہمارا آسرا کوئی نہیں ہے ہم اس کی ...
بس اسی کا سفر شب میں طلب گار ہے کیا تو ہی اے ماہ مرا ہم دم و غم خوار ہے کیا تیشہ در دست امنڈ آئی ہے آبادی تمام سب یہی کہتے ہیں دیکھیں پس دیوار ہے کیا ہاں اسی لمحے میں ہوتا ہے ستاروں کا نزول شہر خوابیدہ میں کوئی دل بیدار ہے کیا جسم تو جسم ہے مجروح ہوئی ہے جاں بھی اپنوں کے ہوتے ہوئے ...