یہ چلتی پھرتی سی لاشیں شمار کرنے کو
یہ چلتی پھرتی سی لاشیں شمار کرنے کو بہت ہے کام سر رہ گزار کرنے کو گزر رہے ہیں بہ عجلت بہار کے ایام پڑا ہے رخت بدن تار تار کرنے کو گلے کی سمت مرے اپنے ہاتھ بڑھتے ہیں رہا ہی کیا ہے بھلا اعتبار کرنے کو بدن کو چاٹ لیا ہے سیاہ کائی نے ابھی تو کتنے سمندر ہیں پار کرنے کو ابھی سے چاند ...