قومی زبان

یہ چلتی پھرتی سی لاشیں شمار کرنے کو

یہ چلتی پھرتی سی لاشیں شمار کرنے کو بہت ہے کام سر رہ گزار کرنے کو گزر رہے ہیں بہ عجلت بہار کے ایام پڑا ہے رخت بدن تار تار کرنے کو گلے کی سمت مرے اپنے ہاتھ بڑھتے ہیں رہا ہی کیا ہے بھلا اعتبار کرنے کو بدن کو چاٹ لیا ہے سیاہ کائی نے ابھی تو کتنے سمندر ہیں پار کرنے کو ابھی سے چاند ...

مزید پڑھیے

یہ اب کے کیسی مشکل ہو گئی ہے

یہ اب کے کیسی مشکل ہو گئی ہے بھٹکتی موج ساحل ہو گئی ہے میسر قربتیں اب بھی ہیں لیکن کوئی دیوار حائل ہو گئی ہے ہے حافظ اب خدا ہی وادیوں کا بلائے کوہ نازل ہو گئی ہے کہیں کوئی ستارہ بجھ گیا ہے شکستہ رنگ محفل ہو گئی ہے اسی سے کر لو اندازہ سفر کا قریب آ دور منزل ہو گئی ہے

مزید پڑھیے

خود خموشی کے حصاروں میں رہے

خود خموشی کے حصاروں میں رہے رات بھر چرچے ستاروں میں رہے تھی زمین گل نظر کے سامنے جادہ پیما ریگ زاروں میں رہے ہو گئے ہیں کتنے منزل آشنا کتنے رہ رو رہ گزاروں میں رہے ہو گئیں غرقاب کتنی بستیاں کتنے طوفاں جوئباروں میں رہے ظلمت شب پاس آ سکتی نہیں مدتوں ہم ماہ پاروں میں رہے ہے ...

مزید پڑھیے

چاند کہرے کے جزیروں میں بھٹکتا ہوگا

چاند کہرے کے جزیروں میں بھٹکتا ہوگا رقص گاہ میں تو نے ملبوس اتارا ہوگا یک بہ یک چیخ اٹھے چار دشاؤں کا سکوت زرد دن میں کبھی ایسا ہو تو پھر کیا ہوگا تھے وہ درماندۂ شب جاگ کے پھر سوتے تھے شہر ظلمات ہے کب اس میں سویرا ہوگا آنکھ کے کالے گڑھوں میں وہ گرفتار تھے سب کس نے گرتے ہوؤں کو ...

مزید پڑھیے

مجھ کو مرنے کی کوئی عجلت نہ تھی

مجھ کو مرنے کی کوئی عجلت نہ تھی خود سے ملنے کی کوئی صورت نہ تھی دیکھتے کیا حسن کی نیرنگیاں آنکھ جھپکانے کی بھی فرصت نہ تھی خودبخود یہ زخم لو دینے لگے مجھ کو کوئی حاجت شہرت نہ تھی اٹھ رہا ہے دل سے آہوں کا دھواں محفل شب محفل عشرت نہ تھی پیڑ پتے جل کے خاکستر ہوئے دوستو وہ بارش ...

مزید پڑھیے

یک بہ یک کیوں بند دروازے ہوئے

یک بہ یک کیوں بند دروازے ہوئے تھے وہ آیات مبیں اوڑھے ہوئے بحر ظلمت کا سفر در پیش ہے ہیں ہوا میں بال و پر جلتے ہوئے بند کمروں سے نکلتے ہی نہیں اے ہوا کیا تیرے منصوبے ہوئے آب و سایہ ایک دھوکا ہی سہی اس سے پہلے بھی کئی دھوکے ہوئے برق تھی موسم شگوفوں کا نہ تھا شیشے کی سڑکوں پہ ...

مزید پڑھیے

نگاہ شوق کیوں مائل نہیں ہے

نگاہ شوق کیوں مائل نہیں ہے کوئی دیوار اب حائل نہیں ہے سحر دم ہی گھروں سے چل پڑے سب کوئی جادہ کوئی منزل نہیں ہے سبھی کی نظریں ہیں کشتی کے رخ پر مگر اس بحر کا ساحل نہیں ہے کریں کس سے توقع منصفی کی کوئی ایسا ہے جو قاتل نہیں ہے

مزید پڑھیے

شام سے زوروں پہ طوفاں ہے بہت

شام سے زوروں پہ طوفاں ہے بہت اس کے لوٹ آنے کا امکاں ہے بہت آئے گی نور مجسم بن کر صورت سایہ گریزاں ہے بہت کچھ بھی ہوں موج و ہوا کے تیور جسم پروردۂ طوفاں ہے بہت شاید آ پہنچے ہیں وہ اسپ سوار شہر کا شہر ہراساں ہے بہت جسم و جاں ورطۂ ظلمت ہی سہی پیکر حرف درخشاں ہے بہت زیر فرماں رہے ...

مزید پڑھیے

خود ہی بے آسرا کرتے ہیں

خود ہی بے آسرا کرتے ہیں ہاتھ اٹھا کر دعا بھی کرتے ہیں رات بھر پیڑ چپ بھی رہتے ہیں دل میں محشر بپا بھی کرتے ہیں چھین لیتے نہیں بصارت ہی وہ تو بے دست و پا بھی کرتے ہیں کوئی پہچان ہو نہیں پاتی پردے کیا کیا اٹھا بھی کرتے ہیں آتے ہی سر قلم نہیں کرتے پہلے خود آشنا بھی کرتے ہیں وار ...

مزید پڑھیے

بہار آئی ہے صدمہ سے ہمارا حال ابتر ہے

بہار آئی ہے صدمہ سے ہمارا حال ابتر ہے گھٹا گھنگھور چھائی ہے نہ ساقی ہے نہ ساغر ہے نشاں کیا پوچھتے ہیں آپ ہم خانہ بدوشوں کا کبھی گلشن میں مسکن ہے کبھی صحرا میں بستر ہے حقارت کی نگاہوں سے نہ فرش خاک کو دیکھو امیروں کا فقیروں کا یہی آخر کو بستر ہے حقیرؔ اک خواب تھا جو آپ نے دیکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3967 سے 6203