قومی زبان

کاش ہوتی نہ یہ خطا ہم سے

کاش ہوتی نہ یہ خطا ہم سے کیوں ہوئی عرض مدعا ہم سے اک تری یاد کا سہارا تھا وہ بھی اب ہو گئی جدا ہم سے عمر گزری منانے میں ان کے وہ خفا سے رہے سدا ہم سے ٹوٹ کر ہی رہا دل ناداں کوئی چارہ نہ ہو سکا ہم سے منزل شوق مل چکی ان کو مل گئے جن کو رہنما ہم سے پھول توڑے ہیں آپ نے لیکن خار الجھے ...

مزید پڑھیے

مسکرا دو گے تو یہ رات سنور جائے گی

مسکرا دو گے تو یہ رات سنور جائے گی ہنس جو دو گے تو فضا اور نکھر جائے گی اپنی منزل پہ پہنچ جائے گی بیتاب نظر اپنے مرکز پہ نہ پہنچی تو کدھر جائے گی کاش اس حسن خود آرا سے کوئی جا کے کہے زلف کو لاکھ سنوارے یہ بکھر جائے گی منتظر شام سے ان کا ہوں مگر جانتا ہوں آج کی رات بھی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

نہ وہ ولولے ہیں دل میں نہ وہ عالم جوانی

نہ وہ ولولے ہیں دل میں نہ وہ عالم جوانی کوئی لے گیا ہے مجھ سے مرا دور شادمانی وہ بھلا چکے ہیں مجھ کو میں بھلا چکا ہوں ان کو کبھی پا سکی نہ عنواں مرے پیار کی کہانی شب ہجر کی تڑپ نے وہ مزا دیا ہے مجھ کو کہ دعائیں مانگتا ہوں یہ تڑپ ہو جاودانی ترے کان سن چکے ہیں نئے گیت بوالہوس ...

مزید پڑھیے

میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا

میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا کبھی کائنات بھی کم پڑی کبھی جسم و جاں میں سمٹ گیا یہی حال ہے کئی سال سے نہ قرار دل نہ سکون جاں کبھی سانس غم کی الٹ گئی کبھی رشتہ درد سے کٹ گیا مری جیتی جاگتی فصل سے یہ سلوک باد سموم کا مری کشت فکر اجڑ گئی مرا ذہن کانٹوں سے پٹ ...

مزید پڑھیے

ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں

ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں ابھی چراغ سر کہکشاں جلے بھی نہیں جبین چرخ پہ گلگونۂ شفق مل کر ابھی تو شام کے سائے کہیں گئے بھی نہیں ابھی ابھی تو جمائی ہے میں نے بزم خیال ابھی افق بہ افق بام و در سجے بھی نہیں عروس شب نے ابھی چاندنی اتاری ہے ابھی تو گیسوئے شب ٹھیک سے کھلے بھی ...

مزید پڑھیے

لیل شب تاب چٹانوں میں نہیں

لیل شب تاب چٹانوں میں نہیں کوئی مفہوم فسانوں میں نہیں پھر نہ شب خون کا وقت آئے گا روشنی ان کے ٹھکانوں میں نہیں ہے تماشائیوں کا جم غفیر عکس بھی آئینہ خانوں میں نہیں اپنے ہی سائے کی پھنکار نہ ہو کوئی شہ مار خزانوں میں نہیں کو بہ کو دیتے ہیں آواز کسے سایہ بھی خالی مکانوں میں ...

مزید پڑھیے

شناسائے حقیقت ہو گئے ہیں

شناسائے حقیقت ہو گئے ہیں وہ سب تصویر عبرت ہو گئے ہیں دکھاتے ہیں وہ رستہ قافلوں کو جو محروم بصارت ہو گئے ہیں فصیل شہر کے اندر نہ جانا وہ سارے گرگ صورت ہو گئے ہیں فروزاں ہیں بلاوے ساحلوں کے اسیر موج ظلمت ہو گئے ہیں جبینوں پر رقم آیات شفقت قتیل تیغ نفرت ہو گئے ہیں

مزید پڑھیے

ہم کہاں کنج نشینوں میں رہے

ہم کہاں کنج نشینوں میں رہے آسمانوں میں زمینوں میں رہے راہیں بے وجہ منور نہ ہوئیں رات خورشید جبینوں میں رہے تھا فلک گیر تلاطم شب کا ہم ستاروں کے سفینوں میں رہے جسم سے سانپ نکل آتے ہیں ایک دو پل ہی دفینوں میں رہے تم کو اصرار ہے خالی یہ مکاں ہم شب و روز مکینوں میں رہے سبز دائم ...

مزید پڑھیے

آئے مشرق سے شہسوار بہت

آئے مشرق سے شہسوار بہت کس کو تھا ان کا انتظار بہت قافلوں کی کوئی خبر سی نہیں دور اٹھتا رہا غبار بہت صبح ہونے تک اس نے جان نہ دی عمر بھر تھا خود اختیار بہت پھر کوئی سانحہ ہوا ہوگا مہرباں کیوں ہیں غم گسار بہت کیوں ہے ہر ذرہ کربلا منظر ہے ہمیں ان پہ اعتبار بہت ہو گئی سب کے آگے ...

مزید پڑھیے

اس پل سے

اس نے بوجھل نیلی پلکیں کھولیں بیٹے کب تک جاگو گے؟ بہتے آنسو رک سے گئے! سب امیدانہ نظروں سے تکنے لگے میں نے تلاوت روک کے نورانی چہرے کو دیکھا اس نے آہستہ سے آنکھیں موندیں! اس پل سے میں جاگ رہا ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 3965 سے 6203