قومی زبان

کل شب قسم خدا کی بہت ڈر لگا ہمیں

کل شب قسم خدا کی بہت ڈر لگا ہمیں اک زلزلہ وجود کے اندر لگا ہمیں ایسا نہ ہو کہ ڈھنگ ہی اڑنے کا بھول جائیں صیاد ایک دن کے لیے پر لگا ہمیں آتے دنوں میں تیرا حوالہ تو بن سکیں کتبہ بنا کے قبر کے اوپر لگا ہمیں اس کا فراق اتنا بڑا سانحہ نہ تھا لیکن یہ دکھ پہاڑ برابر لگا ہمیں کل آئینوں ...

مزید پڑھیے

شب کی شب محفل میں کوئی خوش کلام آیا تو کیا

شب کی شب محفل میں کوئی خوش کلام آیا تو کیا تیاگ دی جو بزم اس میں میرا نام آیا تو کیا زینت قرطاس جتنے حرف تھے دشمن ہوئے ایک تیرا اسم زیرانصرام آیا تو کیا نرغۂ اعدا میں گھرتے ہی بدن غربان تھا اب صف یاراں سے کوئی بے نیام آیا تو کیا کشتگان شب کو پرسا دینے والے یہ بھی سن اب ترے لہجے ...

مزید پڑھیے

چھاجوں برستی بارش کے بعد

رفاقت کے نشے میں جھومتے دو سبز پتوں نے بہت آہستہ سے تالی بجائی اور کہا دیکھو'' حسن عباس! اتنی خوبصورت رت میں کوئی اس طرح تنہا بھی ہوتا ہے جو تم اس طور تنہا ہو''!؟ یہ کہہ کر دونوں اک دوجے سے یوں لپٹے کہ جیسے ایک دن تو مجھ سے لپٹی تھی اسی لمحے مرے ہونٹوں پہ تیرا شہد آگیں لمس جاگ ...

مزید پڑھیے

آثار قدیمہ سے نکلا ایک نوشتہ

ہماری آنکھ میں نوکیلے کانٹے اور بدن میں زہر کے نیزے ترازو ہو چکے تھے جب سیہ شب نے گلابی صبح کے غرقاب ہونے کی خبر پر ہم سے فوری تبصرہ مانگا ہمارے ہونٹ اتنے خشک، اور اتنے دریدہ تھے کہ ہم اک لفظ بھی کہتے تو ریزہ ریزہ ہو جاتے قلم ہاتھوں میں کیا لیتے کہ اپنے ہاتھ پہلے ہی قلم تھے (کیا ...

مزید پڑھیے

تاوان

ہم اپنی یرغمالی خواہشوں کی بازیابی کے لیے کب تک نہ جانے اور کب تک جرعہ جرعہ خرچ ہوتی عمر کا تاوان ادا کرتے رہیں گے جانے کب تک؟

مزید پڑھیے

ادھورے موسموں کا ناتمام قصہ

یہ کون جانے کہ کل کا سورج نحیف جسموں سلگتی روحوں پہ کیسے کیسے عذاب لائے گئی رتوں سے جواب مانگے نظر نظر میں سراب لائے یہ کون جانے! یہ کون مانے کہ لوح احساس پر گئے موسموں کے جتنے بھی نقش کندہ ہیں سب کے سب آنے والی ساعت کو آئینہ ہیں جو آنکھ پڑھ لے تو مرثیہ ہیں یہ کون دیکھے ،یہ کون ...

مزید پڑھیے

گھر لوٹتے ہیں جب بھی کوئی یار گنوا کر

گھر لوٹتے ہیں جب بھی کوئی یار گنوا کر رو لیتے ہیں ہم زاد کو سینے سے لگا کر کس کو تھی خبر اس میں تڑخ جائے گا دل بھی ہم خوش تھے بہت صحن میں دیوار اٹھا کر کچھ اور بھی بڑھ جاتی ہیں حیرانیاں دل کی سو بار کہا ہے کہ نہ آئینہ تکا کر ساون میں تو خود سوزی بھی ہو جاتی ہے ناکام ریلا سا گزر ...

مزید پڑھیے

کسی کے ہجر میں یوں ٹوٹ کر رویا نہیں کرتے

کسی کے ہجر میں یوں ٹوٹ کر رویا نہیں کرتے یہ اپنا رنج ہے اور رنج کا چرچا نہیں کرتے جدائی کی رتوں میں صورتیں دھندلانے لگتی ہیں سو ایسے موسموں میں آئنہ دیکھا نہیں کرتے زیادہ سے زیادہ دل بچھا دیتے ہیں رستے میں مگر جس نے بچھڑنا ہو اسے روکا نہیں کرتے ہمیشہ اک مسافت گھومتی رہتی ہے ...

مزید پڑھیے

زمیں سرکتی ہے پھر سائبان ٹوٹتا ہے

زمیں سرکتی ہے پھر سائبان ٹوٹتا ہے اور اس کے بعد سدا آسمان ٹوٹتا ہے میں اپنے آپ میں تقسیم ہونے لگتا ہوں جو ایک پل کو کبھی تیرا دھیان ٹوٹتا ہے کوئی پرندہ سا پر کھولتا ہے اڑنے کو پھر اک چھناکے سے یہ خاکدان ٹوٹتا ہے جسے بھی اپنی صفائی میں پیش کرتا ہوں وہی گواہ وہی مہربان ٹوٹتا ...

مزید پڑھیے

سینے کی خانقاہ میں آنے نہیں دیا

سینے کی خانقاہ میں آنے نہیں دیا ہم نے اسے چراغ جلانے نہیں دیا دزدان نیم شب نے بھی حیلے بہت کیے لیکن کسی کو خواب چرانے نہیں دیا اب کے شکست و ریخت کا کچھ اور ہے سبب اب کے یہ زخم تیری جفا نے نہیں دیا اس بار تو سوال بھی مشکل نہ تھا مگر اس بار بھی جواب قضا نے نہیں دیا کیا شخص تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3941 سے 6203